Code : 4661 61 Hit

ہم اپنی نماز میں حضور قلب کیسے پیدا کریں؟

یہاں پر ایک ظریف نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور وہ یہ ہے اگر کوئی شخص ان ظاہری آداب کی رعایت کرتے ہوئے نماز پڑھے جنہیں مراجع کرام نے اپنے اپنے رسالہ عملیہ میں بیان کیا ہے، اس کی نماز صحیح ہے اور اللہ نے جو فریضہ اس کے ذمہ دیا تھا وہ ادا ہوجاتا ہے لیکن حضور قلب، خشوع و خضوع ،نماز کے باطنی آداب و شرائط میں سے ہے یعنی نماز کے معنوی اور اخروی آثار و برکات اس نماز پر مرتب ہوتے ہیں جو ظاہری آداب کے ساتھ ساتھ باطنی آداب اور شرائط کے ساتھ پڑھی جائے۔

ولایت پورٹل: بہت سے لوگ بارہا سوال کرتے ہیں کہ ہم اپنی نماز میں حضور قلب کیسے پیدا کریں؟
اس سوال کے بہت سے جوابات ہو سکتے ہیں لیکن ہم مختصر طور پر یہ عرض کریں گے کہ حقیقت و روح نماز ، کا تعلق خضوع و خشوع اور حضور قلب سے ہے اور آیات و روایات می جو فوائد ذکر ہوئے ہیں ان کا تعلق اسی نماز سے ہے جو حضور قلب کے ساتھ پڑھی جائے ۔لہذا آئمہ(ع) نے اس سلسلہ میں بہت تأکید فرمائی ہے کہ ہم اس مدعی کے لئے دو روایتیں بیان کر رہے ہیں۔ چنانچہ امام جعفر صادق(ع) نے ارشاد فرمایا: ان العبد لیرفع له من صلاته نصفها او ثلثها او ربعها او خمسها و ما یرفع له الا ما اقبل علیه بقلبه‘‘۔(۱) بے شک انسان کی نماز کا کبھی آدھا حصہ،کبھی ایک تہائی،کبھی ایک چوتھائی، کبھی پانچواں حصہ یا چھٹا حصہ ، آسمان پر لے جایا جاتا ہے اور اس کی نماز میں سے وہی حصہ آسمان پر لے جایا جاتا ہے جس میں حضور قلب، اور خشوع و خضوع پایا جاتا ہے۔
اور اسی مضمون کی حدیث پانچویں امام حضرت باقر علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے آپ نے فرمایا:’’علیک بالاقبال علی صلاتک فانما یحسب لک فیها ما اقبک علیه منها بقلبک‘‘۔(۲) تجھ (ائے مؤمن) پر ضروری ہے کہ تو اپنی نماز کو حضور قلب کے ساتھ ادا کیا کر ،بے شک تیری نماز سے صرف وہی مقدار (حقیقی نماز) شمار ہوتی ہے جس میں تیرا قلب نماز میں حاضر تھا۔
اب جبکہ حضور قلب نماز میں ضروری ہے تو ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اسباب فراہم کریں جن سے زیادہ خضوع و خشوع پیدا ہو اور ان رکاوٹوں کو دور کریں جو ہمارے خضوع میں مانع ہوتی ہیں۔چونکہ انسان کے حواس ایک پرندے کی طرح کبھی اس شاخ پر کبھی اس شاخ پر ایک مسئلہ سے دوسرے مسئلہ کی طرف سرعت کے ساتھ سفر کرتے ہیں اور خاص طور پر آج جبکہ انسان طرح طرح کی مادی، سیاسی، اخلاقی مشکلات میں گرفتار ہے تو ان حالات میں نماز کے لئے حضور قلب کا حصول مشکل مرحلہ ہے اور اس کے لئے بڑی زحمت درکار ہے۔
البتہ یہاں پر ایک ظریف نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور وہ یہ ہے اگر کوئی شخص ان ظاہری آداب کی رعایت کرتے ہوئے نماز پڑھے جنہیں مراجع کرام نے اپنے اپنے رسالہ عملیہ میں بیان کیا ہے، اس کی نماز صحیح ہے اور اللہ نے جو فریضہ اس کے ذمہ دیا تھا وہ ادا ہوجاتا ہے لیکن حضور قلب، خشوع و خضوع ،نماز کے باطنی آداب و شرائط میں سے ہے یعنی نماز کے معنوی اور اخروی آثار و برکات اس نماز پر مرتب ہوتے ہیں جو ظاہری آداب کے ساتھ ساتھ باطنی آداب اور شرائط کے ساتھ پڑھی جائے۔
حضور قلب پیدا کرنے میں معاون اسباب و عوامل
بزرگ علماء اور اہل معرفت نے نماز میں حضور قلب ، خشوع و خضوع پیدا کرنے کے لئے کچھ اسباب کا تذکرہ کیا ہے جو ذیل میں بیان کئے جا رہے ہیں:
۱۔ نماز کو اہمیت دینا
اپنے زمانے کے عظیم عارف، میرزا جواد آقا ملکی تبریزی(رح) کہتے ہیں: حضور قلب اور خشوع و خضوع کا تعلق انسان کے ارادہ سے ہے اور ارادہ ،حقیقت نماز کے تئیں انسان کے ایمان سے متعلق و وابستہ ہوتا ہے۔ چونکہ جس شخص کا عقیدہ یہ ہو کہ نماز اس کی معراج ہے اور اسے اوج و سعادت پر لے جانے کا ذریعہ ، اس میں نماز کے وقت زیادہ خشوع وخضوع اور حضور قلب پایا جائے گا اس شخص کی نسبت کہ جو نماز کو صرف ایک بار مشقت سمجھ کر اپنے سر سے اتارنا چاہتا ہے۔(۳)
لہذا اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری نمازوں میں حضور قلب پیدا ہو تو ہمیں اپنے نفس کو  نماز و بندگی کی اہمیت کو تلقین کرنا پڑے گی اور اس امر کا تحقق نماز کے فوائد، اسرار اور حقیقت سے  واقفیت کے بعد ہی ممکن ہوسکتا ہے۔(۴)
۲۔معرفت میں اضافہ کرنا
اپنے معبود کے تئیں جتنی ہماری معرفت زیادہ ہوگی اتنا ہی ہماری عبادتوں میں خلوص اور حضور قلب پیدا ہوتا چلا جائے گا چنانچہ امام جعفر صادق(ع) کا ارشاد ہے:’’ما من شی بعد المعرفه یعدل هذه الصلاة‘‘۔(۵) معرفت کے بعد پڑھی جانے والی نماز سے کوئی دوسرا عمل مقابلہ نہیں کرسکتا۔
انسان اللہ کی معرفت میں اس درجہ پر فائز ہوجائے کہ وہ اپنے آپ کو محتاج محض شمار کرے اور جب ہم نماز کے لئے کھڑے ہوں یہ سوچنا چاہیئے کہ ہم اب اس معبود کی بارگاہ میں کھڑے ہیں کہ جس سے ہمارا پورا وجود اور زندگی وابستہ ہے اور اگر اس کی عنایت نہ ہو تو ہم ایک سانس بھی نہیں لے سکتے اور ہمیں جو بھی چاہیئے وہ اسی کے دست قدرت میں ہے چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:’’انتم الفقراء الی الله‘‘۔(تم سب اللہ کے محتاج ہو) جب انسان اس دید کے ساتھ نماز پڑھے گا یقیناً اس کی توجہ نماز کی طرف زیادہ ہوگی۔(۶)
ایک حدیث میں پیغمبر اکرم(ص) کا ارشاد ہے:’’ اس طرح اللہ کی عبادت کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو ، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے۔(۷)
۳۔ نماز کو اپنی ضرورت سمجھنا
نماز میں حضور قلب ، خشوع و خضوع پیدا کرنے کے لئے ایک مؤثر ترین سبب یہ ہے کہ انسان عبادت کرنے اور نماز پڑھنے کو اپنی ضرورت سمجھے ۔ اگر انسان یہ یقین کر لے نماز سعادت کا سرمایہ اور مخلوق کا خالق سے رابطے کا  بہترین ذریعہ ہے جو کمال تک پہونچنے کے لئے زینہ ، اور شیطان کے حملوں سے انسان کی مضبوط پناہ گاہ ہے اور اسے یہ احساس ہوجائے کہ نماز میری ضرورت ہے تو وہ کبھی بھی اس احساس کو ہاتھ سے جانے نہیں دے گا ۔(۸)
۴۔نماز کے معنی کی طرف توجہ
اگر نماز پڑھنے والا نماز میں پڑھے جانے والے الفاظ و اذکار کے معنی کو سمجھ کر پڑھے اور اپنے قلب کو ان مفاہیم کی طرف متوجہ کرے تو  وہ اپنے کو اللہ کی بارگاہ میں پائے گا۔ اور پھر نماز اپنا اثر ضرور دکھائی گی لہذا امام جعفر صادق(ع) ارشاد فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص دو رکعت نماز پڑھے اور یہ سمجھ لے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے تو ابھی وہ نماز ختم بھی نہ کرپائے گا کہ اس کے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(۹)
۵۔موت کو یاد کرتے ہوئے آخری نماز پڑھنا
اسلامی روایات میں اس کی بہت تأکید ہوئی ہے کہ نماز پڑھنے والے کو چاہیئے کہ وہ اپنی موت کو یاد کرے اور یہ سوچ کر نماز پڑھے کہ یہ اس کی آخری نماز ہے اور اب شاید اسے دوبارہ نماز پڑھنے کی توفیق نہ ہو۔(۱۰)
اگر کوئی شخص یہ سوچ کر نماز پڑھے گا تو یقیناً اس کی نماز میں خلوص، خشوع و خضوع اور حضور قلب پیدا ہوگا۔
۶۔حضور قلب کے لئے دعا کرنا
خشوع و خضوع اور حضور قلب کا حصول اللہ کی مدد اور نصرت کے بغیر ممکن نہیں لہذا انسان اپنی ہر نماز میں اللہ سے یہ توفیق طلب کرتا رہے۔
۷۔حضور قلب کی مشق کرنا
نماز کے دوران اپنے افکار و خیالات کو کنٹرول کرنے اور حضور قلب کے لئے ہمیشہ کوشش اور مشق کرتا رہے اور جہاں تک ممکن ہوسکے نماز سے اپنی توجہ ہٹنے نہ دے البتہ یہ کام ابتداء میں تھوڑا سخت ہے بس مضبوط ارادے کی ضرورت ہے ۔(۱۱)
۸۔امور دنیاوی سے اپنی مصروفیتوں کو کم کرنا
یہ دنیا اور اس کے امور زندگی کا جزء ہیں لیکن بقدر ضرورت و کفاف ہی ان پر توجہ دینا چاہیئے اور اگر انسان ضرورت سے زیادہ ان امور پر توجہ دے گا تو نماز کے وقت بھی یہ خیالات و افکار اس کا دامن نہیں چھوڑیں گے اور وہ مکمل طور پر اللہ کی طرف متوجہ نہیں ہوسکے۔(۱۲) یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ علماء و اہل معرفت اس کی بہت تأکید کرتے ہیں کہ جب نماز کے لئے جانا چاہو تو اپنے کو دنیا و ما فیہا کی فکر سے آزاد کرلو تاکہ تمہاری توجہ اللہ کی طرف زیادہ ہوسکے ۔(۱۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔بحار الانوار، ج 84، ص 238۔
۲۔ سابق حوالہ،ص ۲۰۱۔
۳۔ملکی تبریزی، جواد، اسرار الصلاه، ترجمه رجب زاده، انتشارات پیام آزادی، ص 301۔
۴۔عزیزی تهرانی، علی اصغر، حضور قلب در نماز، دفتر تبلیغات اسلامی، ص 108۔
۵۔بحارالانوار، ج 69، ص 406۔
۶۔تهرانی، علی اصغر، حضور قلب در نماز، ص 112 ـ 117۔
۷۔نهج الفصاحہ، ترجمہ ابوالقاسم پاینده، انتشارات جاویدان، ص 65۔
۸۔حضور قلب، ص 118 ـ 122۔
۹۔بحارالانوار، ج 1، ص 240۔
۱۰۔سابق حوالہ، ج 83، ص 232۔
۱۱۔ امام خمینی، چهل حدیث، مؤسسہ نشر آثار امام، ص 430۔
۱۲۔نراقی، ملا احمد، معراج السعاده، انتشارات رشیدی، ص 673 ـ 666۔
۱۳۔امام خمینی، سر الصلوه، انتشارات پیام آزادی، ص 58۔

تحریر: سجاد ربانی


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین