Code : 3001 76 Hit

قرآن و اہل بیت(ع) سے تمسک کا طریقہ

البتہ! توسل و تمسک بغیر معرفت کے حاصل نہیں ہوتا چونکہ تمسک معرفت شروع ہوتا اور قرآن و اہل بیت(ع) کے دستورات اور فرامین پر عمل کرنے پر منتھی ہوتا ہے اور ہمیں یہ دیکھنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اہل بیت(ع) قرآن مجید پر کس طرح عمل کیا کرتے تھے تاکہ ہم ان کی سیرت کے آئینہ میں اپنی زندگی کے خد و خال درست کرسکیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آپ نے بارہا سنا اور پڑھا ہوگا کہ جب سرکار ختمی مرتبت(ص) کے وصال کا وقت نزدیک تھا تو آپ نے اپنے اصحاب کو جمع فرمایا اور ان کے درمیان امت کی نجات کا نوشتہ لکھنے کے لئے قلم و کاغذ کا مطالبہ کیا جو آپ کو نہیں دیا گیا بلکہ مجمع میں موجود کچھ گستاخ اور نافہم لوگوں نے سرکار کی اس دلی خواہش کو سپرد قرطاس ہونے نہیں دیا جس کا نتیجہ ہم آج امت کے متعدد فرقوں میں تقسیم شدہ اجزاء کی صورت ملاحظہ کررہے ہیں۔
تمسک کے لغوی معنیٰ کسی چیز کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے ،تھام لینے یا کسی کی پناہ میں چلے جانے کے ہیں۔( لسان العرب، ج10، ص488 اور فرهنگ ابجدي عربي فارسي، ص66)نیز تمسک کے ایک معنیٰ توسل کے بھی ہیں۔
اگر آپ(ص) کی خواہش کا احترام کیا جاتا اور آپ کو اس وقت کاغذ و قلم دے دیا جاتا تو آج امت اس ابتری اور انحراف کا شکار نہ ہوتی ۔ بہر کیف جو کچھ ہوا وہ بہت بُرا تھا اور اس کے آثار اس سے بُرے ثابت ہوئے اور یہاں تک کہ ابن عباس اس منظر کو سوچ کر کبھی کبھی رو پڑتے تھے۔
اگرچہ سرکار کی خواہش پر عمل نہ کیا گیا لیکن آپ نے زبانی طور پر ہی امت کو نجات کا نسخہ اس صورت بتلایا:’’ إِنِّی تَارِكٌ فِیكُمُ الثَّقَلَیْنِ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوا- كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِی أَهْلَ بَیْتِی وَ إِنَّهُمَا لَنْ یَفْتَرِقَا حَتَّى یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْضَ‘‘۔میں تمہارے درمیان دو گرانقدر اور ارزشمند چیزیں یادگار کے طور پر چھوڑے جارہا ہوں ۔ جب تک تم ان سے متمسک اور وابستہ و مرتبط رہو گے کبھی گمراہ نہ ہونگے ۔ ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے میری عترت میرے اہل بیت۔ اور یہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی جدا نہ ہونگے یہاں تک کہ یہ حوض کوثر پر مجھ سے آکر مل جائیں ۔
اس گرانقدر حدیث شریف میں سرکار نے پوری امت کی کامیابی اور فلاح کو قرآن و اہل بیت(ع) سے وابستگی اور تمسک میں قرار دیا ہے۔ اب محض یہ دعویٰ کرنا کہ ہم تو قرآن کو اللہ کی کتاب مانتے ہیں اور اہل بیت پیغمبر(ص) کو اس کے فرستادہ اور منتخب مانتے ہیں، یہ کافی نہیں ہے بلکہ تمسک کا یہ مفہوم بالکل عامیانہ ہے اور اس کا قطعاً مطالبہ نہیں ہے۔بلکہ اللہ کے رسول(ص) کا اپنی امت سے مطالبہ یہ ہے کہ ان کے بتلائے ہوئے فرامین پر عمل کیا جائے اور ان کے دکھائے ہوئے راستہ پر چلا جائے اور جن چیزوں سے یہ منع کرتے ہوں اسے ترک کردیا جائے۔
قرآن پرعمل کرنا ہی تمسک ہے
اگر ہم قرآن کو اللہ کی کتاب بھی مانا اور اہل بیت پیغمبر(ص) کو اس کے برگزیدہ اور منتخب بندے بھی شمار کیا لیکن ان کے فرامین پر عمل نہ کیا تو عملی طور پر ہم میں اور ان لوگوں میں جو یہ عقیدہ نہیں کوئی خاص فرق نہیں رہ جائے گا ۔ بلکہ مطالبہ صرف ماننے اور عقیدہ رکھنے کا نہیں ہے بلکہ مطالبہ عقیدہ کے ساتھ ساتھ عمل کرنے کا بھی ہے چنانچہ پیغمبر اكرم (ص) اور ائمہ (ع) سے قرآن پر عمل كے سلسلہ میں مختلف تعبیرات پائی جاتی ہیں"اتّباع" اور  جیسی تعبیرات استعمال ہوئی ہیں اور ہم  ان میں سے بعض روایات كی طرف ذیل اشارہ كر رہے ہیں:
پیغمبراسلام (ص) فرماتے ہیں: "اعملوا بالقرآن احلوا حلالہ وحرموا حرامہ ولاتكفروا بشی منہ" قرآن (اس كےدستورات) پر عمل كرو اس كے حلال كو حلال جانو اور اس كے حرام سے پرہیز كرو اور اس كی كسی بھی چیز كا انكار نہ كرو۔
دوسری روایت میں امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:"یا حملۃ القران! اعملوا فان العالم من عمل بما علم و وافق عملہ علمہ و سیكون اقوام یحملون العلم لایجاوز تراقیہم، یخالف سریرتہم علانیۃ"
اے وہ لوگ جو قرآن كاعلم ركہتے ہیں! اس پر عمل كرو، چونكہ عالم وہ ہے جو اپنی معلومات پر عمل كرے اور اس كاعمل اس كے علم كے مطابق ہو۔ بہت جلد ایسے لوگ آئیں گے جن كا علم حلقوم سے نیچے نہیں اترے گا اور ان كا باطن ان كی ظاہری رفتار کا مخالف ہوگا۔
امام علی علیہ السلام ایک نہایت خوبصورت تعبیر كے ذریعہ فرماتے ہیں: "قرآن كو چاہيے كہ اندر كے لباس كی طرح ہمیشہ انسان كے ساتھ ر ہے "البتہ اس خصوصیت كے افراد كم نظر آتے ہیں: "طوبی للزاہدین فی الدنیا الراغبین فی الآخرة، اولئك قوم اتخذوا القرآن شعاراً "
ز ہے نصیب زاہدان دنیا! جو آخرت كے خواہاں ہیں وہ ایسی قوم ہیں جو قرآن كو اپنے لئے اندر كے لباس كی طرح قراردیتے ہیں۔
البتہ قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور اس سے متبرک ہونا  تمسک کی طرف پہلا قدم ضرور ہوسکتا ہے لیکن مقصد نہیں۔
اہل بیت(ع) سے توسل بھی تمسک کا ایک طریقہ
بہت سی روایات ہماری رہنمائی کرتی ہیں کہ جب ہم کسی مشکل میں گرفتار ہوجائیں اور سارے دروازے بند ہوجائیں تو ہم اہل بیت(ع) سے توسل کرکے اور ان کا واسطہ دے کر اللہ سے مدد طلب کرسکتے ہیں اور خاص طور اپنے امام وقت حضرت صاحب الزمان(عج) سے توسل بہت مؤثر امر ہے جیسا کہ ایک حدیث میں حضرت صادق آل محمد(ع) سے وارد ہوا ہے:’’ جب تم کبھی راستہ بھول جاؤ تو تم اپنے امام وقت(عج) کو اس طرح پکارو’’يا ابا صالح ارشدنا إلي الطريق رحمكم الله‘‘۔(علامه مجلسي، بحار الانوار، بيروت: دارالكتب الاسلاميه، ج 52، ص 176) یا ابا صالح! ہمیں راستہ دکھائیے ! اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی رحمت کرے۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سے علماء و فقہاء جب مشکلات میں گھر جاتے تھے اور ان کے سامنے تمام دروازے بند ہوجاتے تھے وہ اہل بیت(ع) اور خاص طور پر امام زمانہ(عج) سے توسل کرکے اپنی مشکلات کا ازالہ کیا کرتے تھے چونکہ سرکار ولیعصر(عج) تمام لوگوں کے حالات سے آگاہ ہیںاور ان کی تمام حاجتوں کو جانتے ہیں اور انہیں پورا کرنے پر قادر ہیں۔
حضرت امام زمانہ(عج) سے رابطہ اور تمسک اطمئنان اور مشکلات سے نجات کا ذریعہ ہے۔ البتہ یہ ارتباط صرف مشکل اوقات میں ہی نہیں بلکہ ہر حال میں برقرار رہنا چاہیئے چاہے خوشی کا موقع ہو یا غم کا۔
البتہ! توسل و تمسک بغیر معرفت کے حاصل نہیں ہوتا چونکہ تمسک معرفت  شروع ہوتا اور قرآن و اہل بیت(ع) کے دستورات اور فرامین پر عمل کرنے پر منتھی ہوتا ہے اور ہمیں یہ دیکھنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اہل بیت(ع) قرآن مجید پر کس طرح عمل کیا کرتے تھے تاکہ ہم ان کی سیرت کے آئینہ میں اپنی زندگی کے خد و خال درست کرسکیں۔



1
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین