Code : 1297 37 Hit

کیسے ضیافت الہی نصیب ہو؟

اگر کسی انسان میں اپنے پڑوسی کے درد کا احساس نہیں اگر اسے یہ فکر نہیں کہ میرے پاس تو سردی سے بچنے کے لئے کپڑے ہیں لیکن میرے پڑوسی کے پاس نہیں ہے۔میرے پاس تو گرمی سے محفوظ رہنے کے لئے وسائل ہیں لیکن میرے پڑوسی کے پاس نہیں ہے تو اس شخص کو یہ جان لینا چاہیئے کہ وہ بیمار ہے اور اسے علاج کی ضرورت ہے۔چونکہ اگر آپ کا پڑوسی بھوکا ہو اور آپ شکم سیر ہوں تو سمجھئے آپ کا احساس کمزور ہے آپ اپنا علاج کیجئے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور ۱۴۴۰ ہجری کے رمضان المبارک کا چاند فلک پر طلوع ہوا چاہتا ہے لہذا ہمیں اس مہینہ کی برکتوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرتے ہوئے حق اللہ کے ساتھ ساتھ حق الناس کو بھی ادا کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔
ویسے تو پورے سال ہی مؤمنین اپنے پڑوسیوں اپنے شہر کے مؤمنین اور اپنے اعزاء و اقارب کا خیال رکھتے ہیں لیکن یہ تأکید رمضان المبارک میں اور بڑھ جاتی ہے جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے:’’ما آمَنَ بِاللهِ وَالیومِ الآخَرِ مَن باتَ شَبعاناً وَجارُهُ جائِعٌ‘‘۔(وہ شخص اللہ اور روز قیامت پر کبھی ایمان نہیں لایا جو خود تو پیٹ بھر کر سو جائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے)۔
قارئین کرام! اس حدیث کا مضمون صرف رمضان المبارک سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ایک مؤمن کو پورے سال ایسا ہی ہونا چاہیئے کہ اس کا کوئی پڑوسی بھوکا نہ سوئے اور اس حدیث پر اگر غور کیا جائے تو یہ نکتہ بھی لطف سے خالی نہیں ہے کہ اس بھوکے رہنے والے پڑوسی کی کوالٹی اور کیفیت بیان نہیں ہوئی ہے یعنی علمی زبان میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ حدیث کی دلالت مطلق ہے اور ہر ایک کو شامل ہے چاہے وہ پڑوسی مؤمن ہو یا کافر، مرد ہو یا عورت،رشتہ دار ہو یا کوئی اور۔ اس حدیث پر غور کرنے سے اسلام کی تعلیمات میں موجود انسانیت کا درد نظر آتا ہے کہ یہ ایسا دین ہے جس میں جب ایک مؤمن کی تربیت کی جاتی ہے تو اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ تیرے ایمان کی دلیل یہ ہے کہ تیرا کوئی بھی پڑوسی بھوکا نہ رہے چاہے وہ کوئی کافر ہی کیوں نہ ہو۔
اور اگر کسی انسان میں اپنے پڑوسی کے درد کا احساس نہیں اگر اسے یہ فکر نہیں کہ میرے پاس تو سردی سے بچنے کے لئے کپڑے ہیں لیکن میرے پڑوسی کے پاس نہیں ہے۔میرے پاس تو گرمی سے محفوظ رہنے کے لئے وسائل ہیں لیکن میرے پڑوسی کے پاس نہیں ہے تو اس شخص کو یہ جان لینا چاہیئے کہ وہ بیمار ہے اور اسے علاج کی ضرورت ہے۔چونکہ اگر آپ کا پڑوسی بھوکا ہو اور آپ شکم سیر ہوں تو سمجھئے آپ کا احساس کمزور ہے آپ اپنا علاج کیجئے۔
چونکہ قرآن مجید کی رو سے ایسے لوگوں کی نماز بھی قبول نہیں ہوتی بلکہ ان پر اللہ ویل کرتا ہے کہ جو اپنے پڑوسیوں کے کام نہیں آتے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ﴿٤﴾ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ﴿٥﴾ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ ﴿٦﴾ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ ﴿٧﴾‘‘ ۔(سورہ الماعون:۴، ۵ ،۶ اور ۷)
قارئین کرام! کیا آپ جانتے ہیں کہ ان مذکورہ آیات کی تفسیر کرتے ہوئے علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ ان آیات سے قرآن مجید یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ صرف نماز نجات کے لئے کافی نہیں ہے۔ تباہی ہے ان نمازیوں کیلئے۔جو اپنی نماز (کی ادائیگی) میں غفلت برتتے ہیں۔جو ریاکاری کرتے ہیں۔اورتیسرا گروہ وہ ہے کہ جو اپنے پڑوسیوں کو کسی معمولی و روز مرہ کی ضروری چیز دینے سے منع کردیتا ہے اور فقراء کو زکات و صدقات دینے سے کتراتا ہے۔
بھلا کیسے ممکن ہے کہ ایک انسان نماز بھی پڑھتا ہو لیکن اسے یہ احساس نہ ہو کہ میں جس خدا کی عبادت کررہا ہوں یہ میرا پڑوسی بھی اسی کا بندہ ہے لہذا مجھے اس کی مدد کرنی چاہیئے؟
قارئین کرام! اپنے پڑوسیوں اور اللہ کے نادار بندوں کی مدد کرنے سے کوئی غریب نہیں ہوتا بلکہ یہ فضیلت و شرف ہے کہ اللہ نے آپ کو اس لائق بنایا ہے کہ اس کے نادار بندے آپ کے ذریعہ رزق حاصل کریں چنانچہ امام سجاد علیہ السلام سے منقول دعائے شعبانیہ میں یہ فقرات موجود ہیں:’’ وَ اُرْزُقْنِي مُوَاسَاةَ مَنْ قَتَّرْتَ عَلَيْهِ مِنْ رِزْقِكَ بِمَا وَسَّعْتَ عَلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ وَ نَشَرْتَ عَلَيَّ مِنْ عَدْلِكَ وَ أَحْيِنِي تَحْتَ ظِلِّكَ‘‘۔(مصباح المتهجد ؛ ج 2 , ص 828)
اے پروردگار تونے میرے رزق میں اپنے فضل و شرف سے جو وسعت عطا فرمائی ہے اور تونے مجھے اپنے جس عدل سے مجھے نوازا اور اپنے رحمت کے سائے میں زندہ رکھا۔ مجھے یہ توفیق عطا فرما کہ میں تیرے ان بندوں کے ساتھ مواسات سے پیش آؤں جن کا رزق تیرے یہاں سے کم ہے۔
قارئین! ہم آہستہ آہستہ شعبان المعظم سے جدا ہورہے ہیں اور خود کو اللہ کے دسترخوان ضیافت کے لئے تیار کررہے ہیں تو ہمیں یہ کوشش کرنا چاہیئے کہ اس ماہ عظیم میں ہم اس کے نادار بندوں کو نہ بھولیں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम