Code : 3907 38 Hit

زمین کا فرش کیسے بچھایا گیا؟

جب ذات خدا اور اس کی کچھ مخصوص مخلوق کے علاوہ کچھ نہ تھا۔اللہ نے زمین کی خلقت کا ارادہ کیا۔جیسا کہ روایات میں ملتا ہے کہ پہلے صرف پانی ہی پانی تھا۔ اللہ نے جیسے ہی ارادہ کیا وہ پانی کچھ گڑھوں ، تالابوں، اور دریاؤں میں اکھٹا ہوگیا اور اس کے اندر سے زمین کی خشک سطح نمودار ہونے لگی۔ یہی وہ پہلا مرحلہ تھا جس میں زمین کے نمودار ہونے کا آغاز ہوا۔پس اس بنیاد پر اس دن یعنی ۲۵ ذی القعدہ کو زمین کی خلقت کا آغاز ہوا اور اسے تاریخ میں ایک اہم دن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔چونکہ اس کے بعد سے اسے انسان اور دیگر مخلوق کی رہائش کے لئے آمادہ کردیا گیا۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آج ۲۵ ذی القعدہ کا ہے۔ اس دن کو تاریخ میں یوم دحو الارض کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔لغوی اعتبار سے ’’دحو‘‘ کے معنیٰ کسی چیز کو پھیلانے اور بچھانے کے ہیں۔ جبکہ بعض اہل لغت نے اس کے معنیٰ پھینکنے یا کسی چیز کو اس کی اصلی جگہ سے ہلانے کے بھی بیان کئے ہیں۔
جب ذات خدا اور اس کی کچھ مخصوص مخلوق کے علاوہ کچھ نہ تھا۔اللہ نے زمین کی خلقت کا ارادہ کیا۔جیسا کہ روایات میں ملتا ہے کہ پہلے صرف پانی ہی پانی تھا۔ اللہ نے جیسے ہی ارادہ کیا وہ پانی کچھ گڑھوں ، تالابوں، اور دریاؤں میں اکھٹا ہوگیا اور اس کے اندر سے زمین کی خشک سطح نمودار ہونے لگی۔ یہی وہ پہلا مرحلہ تھا جس میں زمین کے نمودار ہونے کا آغاز ہوا۔(۱) پس اس بنیاد پر اس دن یعنی ۲۵ ذی القعدہ کو زمین کی خلقت کا آغاز ہوا اور اسے تاریخ میں ایک اہم دن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔چونکہ اس کے بعد سے اسے انسان اور دیگر مخلوق کی رہائش کے لئے آمادہ کردیا گیا۔
قرآنی آیات کے تناظر میں یوم دحو الارض
قرآن مجید میں اس دن کا تذکرہ کئی مقام پر ہوا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’وَ اَلْأَرْضَ بَعْدَ ذلِكَ دَحاها* أَخْرَجَ مِنْها ماءَها وَ مَرْعاها‘‘۔(۲) اس کے بعد اس نے زمین کو پھیلایا اور پھر اس نے اس میں سے پانی(چشمے) نکالا اور چراگاہیں پیدا کیں۔
قرآن مجید کی اس آیت میں اس کرہ زمین کی تشکیل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ایک ایسا زمانہ جو ایک انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوا اور پانی سے اللہ نے زمین کی سطح کو پیدا و نمودار کیا اور اسے رہائش کے قابل بنایا اور حیوانات اور انسانوں کے لئے جائے سکونت قرار دیا۔
سورہ رعد میں بھی زمین کے بچھانے کو فعل الہی کے طور پر یاد کیا گیا ہے:’’وَ هُوَ الَّذِى مَدَّ الْأَرْضَ وَ جَعَلَ فِیهَا رَوَاسیَ وَ أَنهارًا  وَ مِن کلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِیهَا زَوْجَینِ اثْنَینِ يُغْشىِ الَّيْلَ النهارَ إِنَّ فىِ ذَالِكَ  لآیَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُون‘‘۔(۳) وہ خدا وہ ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں اٹل قسم کے پہاڑ قرار دئیے اور نہریں جاری کیں اور ہر پھل کا جوڑا قرار دیا وہ رات کے پردے سے دن کو ڈھانک دیتا ہے اور اس میں صاحبانِ فکر و نظر کے لئے بڑی نشانیاں پائی جاتی ہیں۔
اس آیہ کریمہ میں بھی زمین کے بچھانے کو زندگی کے آغاز کے طور پر یاد کیا گیا ہے۔ زمین سے متعلق شعبہ سانئس کے ماہرین کا نظریہ بھی یہی ہے کہ زمین، ابتداء میں پانی کی نیچے تھی۔ جیسا کہ آیات قرآنی کے تناظر میں اس کے متعلق تمام مفسرین نے بھی گفتگو کی ہے۔(۴)
ایک دیگر آیت میں زمین کے بچھانے کو ایک تدریجی عمل بتایا گیا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’ قُلْ أَئنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِى خَلَقَ الْأَرْضَ فىِ يَوْمَینِ وَ تجعَلُونَ لَهُ أَندَادًا  ذَالِكَ رَبُّ الْعَالَمِین‘‘۔
آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم لوگ اس خدا کا انکار کرتے ہو جس نے ساری زمین کو دو دن میں پیدا کردیا ہے اور اس کا مثل قرار دیتے ہوئے جب کہ وہ عالمین کا پالنے والا ہے۔
زمین کے بچھانے کا آغاز کہاں سے ہوا؟
کچھ روایات سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ زمین کے بچھانے کا آغاز اس جگہ سے ہوا جہاں اس وقت کعبہ ہے۔چنانچہ مفاتیح الجنان میں شیخ عباس قمی(رح) نے ماہ ذی القعدہ کے اعمال میں حسن بن وشّاء سے نقل کیا ہے کہ: میں ابھی چھوٹا تھا ایک مرتبہ اپنے والد کے ہمراہ امام رضا(ع) کی خدمت میں شرفیاب ہوا اور حضرت کے ساتھ ماحضر تناول کیا۔ یہ ۲۵ ذی القعدہ کی رات تھی۔ امام رضا(ع) نے فرمایا: آج کی شب، حضرت ابراہیم اور حضرت عیسیٰ(ع) پیدا ہوئے اور آج ہی کے دن زمین کو کعبہ کے نیچے بچھایا گیا تھا ۔پس جو شخص بھی آج کا روزہ رکھے اس کا ثواب ایسا ہے کہ جیسے اس نے ۶۰ مہینہ روزہ رکھے ہوں۔(۵)اس روایت کے تسلسل میں محدث قمی(رح) نے نقل کیا ہے کہ ایک روایت میں اس دن کے روزے کا ثواب، ۷۰ سال کے روزوں کے برابر ہے جبکہ ایک دوسری روایت میں ۷۰ سال کے کفاروں کا حساب اس ایک دن کے روزہ سے ہوجاتا ہے۔ پس جو شخص اس دن روزہ رکھے اور رات کو عبادت میں بسر کرے اس کے لئے ۱۰۰ برس کی عبادت کا ثواب تحریر کیا جائے گا اور اس دن کا روزہ رکھنے والے کے لئے زمین و آسمان کی تمام مخلوق استغفار کرے گی ۔یہ وہ دن ہے جس میں رحمت خدا کا سایہ عام ہوتا ہے اور اس دن عبادت اور ذکر خدا کا بہت ثواب ملتا ہے۔(۶)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔تفسیر نمونہ، ج ۲۶، ص۱۰۰۔
۲۔سورہ نازعات: ۳۱،۳۰۔
۳۔سورہ رعد:۳۔
۴۔تفسیر نور، ج‏۴، ص ۳۱۴۔
۵۔سورہ فصلت: ۹۔
۶۔مفاتیح الجنان، اعمال ماه ذی‌ القعده، ص ۲۴۹۔
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین