Code : 3868 11 Hit

اپنے گھر والوں کو امر بالمعروف کیسے کریں؟

ہوسکتا ہے کہ اگر وقت پر دوسرے کے گھر میں لگی آگ بجھائی نہ گئی اس کی زد میں محلہ کے بہت سے مکان آجائیں۔اور اگر پھر بھی بے حسی طاری رہی، ہو سکتا ہے پورا محلہ اور پوری بستی ہی دھکتے ہوئے انگاروں اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کی نذر ہوجائے۔ لہذا کبھی انسان کو یہ نہیں سوچنا چاہیئے کہ ہم سے کیا سامنے والے کی اپنی مرضی وہ جو چاہے کرے! نہیں! اسلام ہمیں اس غیر جانبداری پر ذمہ دار ٹہراتا ہے اور ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ یہ معاشرہ اسی وقت جنت نشان اور مزرعۃ الآخرہ بن سکتا ہے جب اس میں رہنے والے سبھی صالح اور پاکیزہ افراد ہوں۔

ولایت پورٹل: جیسا کہ ہم نے کل امربالمعروف و نہی از منکر کی اہمیت کے باب میں یہ بات تحریر کی تھی کہ اسلام دوسروں کے اعمال کی نسبت ابک مؤمن کے غیر جانبدارانہ رویہ کو پسند نہیں کرتا۔بلکہ اسلام کا حکم یہ ہے کہ ایک مؤمن اگر  دوسروں سے  کچھ غلط دیکھے یا سنے،اس کی نسبت غیر جانبدار نہ رہے بلکہ شریعت کی نگاہ میں وہ  ایک ذمہ دار فرد ہے اور اس پر شریعی طور یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں ہونے والی برائیوں کے مقابل خاموش نہ رہے۔
یہ بھی پڑھیئے!
اسلام کا یہ عام معیار تمام معاشرتی آداب پر فوقیت و ترجیح رکھتا ہے ۔بہ عبارت دیگر؛ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اس فریضہ الہی یعنی امر بالمعروف اور نہی از منکر کرنے کا جنتا اسے موقع میسر آئے وہ اس سے بھرپور استفادہ کرے اور یہاں تک کہ اپنی دوستانہ اور صمیمی محافل میں بھی۔ اگرچہ بہت کم اور مختصر وقت کے لئے ہی ہو۔ اس فریضہ الہی سے روگردانی نہ کرے۔
دوسروں کے ساتھ نشست و برخاست کا سب سے پہلا موقع انسان کے پاس خود اپنے اہل و عیال اور خاندان والوں کے ساتھ ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس فرض کی ادائیگی کا آغاز معاشرے کی سب سے چھوٹی اور اہم اکائی ،یعنی اپنے گھر اور خاندان سے شروع کرنا چاہیئے۔اور پھر آہستہ آہستہ اس کا دائرہ بڑھائے ۔ گھر سے آغاز کا مطلب یہ ہوگا کہ انسان کو اس فریضہ کے تمام خد و خال سے واقفیت ہوجائے گی و انسان گھر والوں کو اس فریضہ کی طرف دعوت دیکر بڑے اجتماعات یہاں تک کہ پورے گاؤں ، بستی اور محلہ والوں کے لئے بھی امر بالمعروف اور نہی از منکر کی ذمہ داری ادا کرسکتا ہے۔
اپنی بات کو اپنے مقصد سے قریب کرنے سے پہلے ایک اعتراض کا جواب دینا مناسب سمجھتے ہیں،اور وہ یہ ہے کہ بعض افراد ،بہت سے متدین افراد بھی اس میں شامل ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ فریضہ امر بالمعروف اور نہی از منکر صرف علماء پر واجب ہے اور ہمیں کیا غرض کوئی کیا کررہا ہے؟ہر ایک کو اپنا حساب دینا ہے اور ہر کو اپنی قبر میں سونا ہے؟
جواب: یہ بات تو صحیح ہے کہ ہر ایک کو اپنا حساب دینا ہی ہے اور ہر ایک کو اپنی اپنی قبر میں سونا ہے! لیکن امر بالمعروف ایسا فریضہ ہے جس کے متعلق سب سے علیحدہ علیحدہ سوال کیا جائے گا اور اس مسئلہ میں یہ قید اور شرط نہیں ہے کہ وہ انسان عالم تھا یا عوام سے تھا۔دوسرے جب پڑوس میں اگر کسی گھر میں آگ لگ جائے تو ضروری نہیں ہے کہ اس کی لپٹیں آپ کے گھر تک نہ پہونچیں۔ ہوسکتا ہے کہ اگر وقت پر دوسرے کے گھر میں لگی آگ بجھائی نہ گئی اس کی زد میں محلہ کے بہت سے مکان آجائیں۔اور اگر پھر بھی بے حسی طاری رہی، ہو سکتا ہے پورا محلہ اور پوری بستی  ہی دھکتے ہوئے انگاروں اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کی نذر ہوجائے۔ لہذا کبھی انسان کو یہ نہیں سوچنا چاہیئے کہ ہم سے کیا سامنے والے کی اپنی مرضی وہ جو چاہے کرے! نہیں! اسلام ہمیں اس غیر جانبداری پر ذمہ دار ٹہراتا ہے اور ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ یہ معاشرہ اسی وقت جنت نشان اور مزرعۃ الآخرہ بن سکتا ہے جب اس میں رہنے والے سبھی صالح اور پاکیزہ افراد ہوں۔
اپنا گھر، امر بالمعروف و نہی از منکر کا پہلا مرحلہ
ہر ایک شخص فطری طور یہ چاہتا ہے کہ اس کا گھر ، اس کا خاندان، اور اس کے اہل و عیال اچھے ہوں۔لہذا امربالمعروف اور نہی از منکر کا ہم سے تقاضہ یہ ہے کہ ہم اپنے گھر والوں ، اپنی خاندان والوں کی نسبت، دلسوزی کا مظاہرہ کریں تاکہ وہ اپنی مادی و معنوی زندگی میں ترقی و کمال حاصل کرسکیں۔اگرچہ گھر اور خاندان ، معاشرہ کی نسبت بہت چھوٹی فضا ہوتی ہے۔لیکن اس میں امر بالمعروف اور نہی از منکر کرنے کے مواقع اور ذمہ داری دوسری جگہوں اور افراد کی نسبت بہت سنگین اور اہم ہوتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ انسان، اپنے گھر والوں اور خاندان والوں کے ساتھ زیادہ رہتا ہے ،دوسروں کی نسبت انہیں زیادہ اچھی طرح جانتا اور پہچانتا ہے۔ ہر ایک کی اچھائیاں اور برائیاں انسان کے سامنے رہتی ہے تو زیادہ اچھی طرح اور بہتر انداز میں ان کی رہنمائی کرسکتا ہے۔ جبکہ معاشرے کے دیگر افراد کے بارے میں اسے اتنا معلوم بھی نہیں ہوتا۔لہذا ان کی نسبت اس کی ذمہ داری اتنی سنگین بھی نہیں ہوگی۔چونکہ جب تک وہ امر بالمعروف و نہی از منکر کے مواقع کی پہچان نہ کرلے اس وقت تک اس پر یہ فرائض، واجب نہیں ہوتے۔ جبکہ اپنے گھر والوں کی نسبت مسئلہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ چونکہ گھر والوں کے ساتھ مدام رہنے سہنے اور یہاں تک کے ان کے چھوٹے چھوٹے مسائل، فضائل ، کمی و نقص ، سب چیزوں کے بارے میں انسان کو اطلاع ہوتی ہے اور علم اصول کے قاعدہ کے مطابق ، علم ہی کے سبب ذمہ داری عائد ہوتی ہے جب کسی کو کسی حکم کا علم ہی نہ ہو تو وہ اس کی نسبت ذمہ دار  اور مکلف بھی نہیں بنتا۔
اسی وجہ سے خود قرآن مجید اور معصومین علیہم السلام کی احادیث کی روشنی میں انسان پر اپنے گھر والوں اور اہل و عیال کی نسبت عائد ذمہ داریوں کا خاص طور پر تذکرہ ملتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے:’’یا اَیُّهَا الَّذینَ امَنُوا قُوا اَنْفُسَکُمْ وَ اَهْلیکُمْ ناراً وَ قُودُهَا النّاسُ وَالْحِجارَةُ ‘‘۔(۱)
اے ایمان لانے والوں! اپنے کو اور اپنے اہل و عیال کو  اس آگ سے بچاؤ کہ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔
اب ظاہر ہے انسان یہ تصور بھی نہ کرے کہ بس اب وہ اپنے گھر والوں کی تاک میں لگ جائے کہ کون کیا کررہا ہے؟ بلکہ اسے جتنی ذمہ داری دین دی ہے اگر وہ پوری کرلے تو مقصد حاصل ہوجائے گا۔ خدانخواستہ اس فریضہ کا مطلب لوگوں کے عیب تلاش کرنا نہیں ہے بلکہ ان کی نسبت، ہمدردی کا اظہار اور دلسوزی کا مظاہرہ ہے ۔ چونکہ ممکن ہے کوئی شخص کوئی غلط کام اس وجہ سے انجام دے رہا ہو چونکہ اسے اس کا علم نہیں ہے! شاید وہ اس کی حرام ہونے یا قبیح ہونے کو نہیں جانتا ہے! آپ کا بر وقت اقدام ، اسے گناہ سے دور کرکے اللہ سے قریب کرنے کا سبب قرار پاسکتا ہے۔
چنانچہ اس آیت کی تفسیر کے سلسلہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:’’ اے مؤمنین! تم انہیں( اپنے گھر والوں کو) اس کام کا حکم دو جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اور جس سے اس نے روکا ہے تم انہیں(اپنے گھر والوں کو) منع کرو! اگر انہوں (تمہارے گھر والوں) نے تمہارا کہا مانا، تو در حقیقت تم نے انہیں جہنم کی آگ سے نجات دیدی اور تم نے خدا کے حکم کو نافذ کردیا اور اگر تمہارے کہنے کے باوجود بھی انہوں نے عمل نہ کیا تمہاری ذمہ داری ساقط ہوجائے گی اور تم پر جو فرض تھا تم اسے بجا لائے ہو‘‘۔(۲)
اس آیت کی تفسیر میں نے ایک دلچسپ واقعہ علماء نے تحریر فرمایا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت شریفہ نازل ہوئی اور اس کے مضمون کی اطلاع لوگوں تک پہونچی ایک شخص یہ سن کر ایک گوشہ میں بیٹھ کر رونے لگا ۔ کچھ لوگوں نے رونے کا سبب دریافت کیا۔تو اس نے جوب میں کہا:’’ میں اپنی اصلاح کرنے سے ہی عاجز و ناچار ہوں اور مجھے خود یہ خوف لاحق ہے کہ کہیں میں اپنی اصلاح نہ کرپاؤں اور آخرت میں جہنم کے حوالے کردیا جاؤں۔اب مزید اللہ نے مجھ بیچارے پر ایک اور سنگین ذمہ داری عائد کردی کہ میں اپنے اہل و عیال کو بھی جہنم سے بچاؤں۔بھلا میں یہ کیسے کرسکتا ہوں؟‘‘۔
اس شخص کے رونے کا ماجرا رسول اللہ(ص) تک پہونچا آپ نے اسے بلایا اور سمجھایا :’’ اے بندہ خدا! تم غم نہ کھاؤ! اس فریضہ کے متعلق بس یہ جان لو کہ جو کچھ تم انجام دیتے ہو انہیں(اپنے اہل و عیال کو) بھی وہی کرنے کا حکم دو اور جن اعمال کو تم نہیں کرتے ان سے انہیں روکو! تمہاری بس یہی ذمہ داری ہے اور اگر تم نے ایسا کیا تو گویا تم نے اپنے ذمہ عائد ذمہ داری کو بخوبی ادا کردیا‘‘۔(۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورہ تحریم:۶ ۔
۲۔وسائل الشیعہ، ج ۱۱، ص ۴۱۸ ۔
۳۔سابق حوالہ،ص ۴۱۷۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین