Code : 3032 159 Hit

کیسے مایوسی کو شکست دیں؟

آپ نے بارہا سنا ہوگا کہ’’ نا امیدی میں ہی کہیں امید کی چنگاری چھپی ہوتی ہے‘‘۔ لیکن اس مقولہ کو بہانہ بنا کر کبھی محنت، کام اور مشقت سے ہاتھ نہیں کھینچنا نہیں چاہیئے۔ امید کے درخت کا میٹھا اور ذائقہ دار پھل اسے نصیب ہوتا ہے جس نے محنت و مشقت کے پانی سے اسے سینچا ہو۔

ولایت پورٹل: امید اللہ کی عطا کردہ ایسی نعمت اور تحفہ ہے جس کے سہارے انسانی زندگی کا پہیہ رواں دواں ہے اور زندگی میں کچھ کرنے اور کچھ حاصل کرنے کا انگیزہ اور جذبہ اس میں ایک طاقتور محرک و موٹر کا کام کرتا ہے۔ چونکہ ناامیدی کا ماحصل، بد حالی ،جمود جبکہ اس کے برعکس امید کا ثمر حرکت انگیزہ اور جذبہ ہوتا ہے۔
اگرچہ اس دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں ہے جس کی زندگی میں مشکلات نہ ہوں اور ان تمام تر مشکلات کے باوجود بھی اگر امید نہ ہو تو انسان متحیر اور سرگران ہوجاتا ہے۔ پس انسان کی زندگی کے ہر لمحہ لمحہ میں امید کی کرن نظر آتی ہے اگر امید نہ ہو تو بیکاری، سستی اور بے مقصدیت انسانیت کے دامن گیر ہوجائے گی۔
رسول اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا:’’ امید و آرزو میری امت کے لئے رحمت ہے اور اگر امید نہ ہوتی تو کوئی بھی ماں اپنے بچے کو دودھ نہ پلاتی اور کوئی کسان زمین کے سپرد دانہ نہ کرتا۔(۱)
ناامیدی پر غلبہ پانے کے طریقے
اسلام میں امید اور آرزو بہت بلند مرتبہ رکھتے ہیں اور اگر یہ کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا کہ روایات میں امید کو ’’ رحمت خدا‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اگرچہ بہت سارے لوگوں کی طبیعت یہ ہوتی ہے کہ وہ جلدی ہی رحمت خدا سے مایوس ہوکر محنت و مشقت سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔
قارئین کرام! ہمیں کبھی بھی اپنی امید نہیں توڑنی چاہیئے اور کبی بھی اپنے مقصد کے حصول سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے چونکہ جو اللہ اور اس کی رحمت پر عقیدہ رکھتا ہے وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا ۔چونکہ جو مایوس ہوجاتا ہے درحقیقت وہ اپنے اندر اس فکر کو پروان چڑھا چکا ہوتا ہے کہ (نعوذ باللہ)  اب اللہ کی قدرت تمام ہوگئی ہے اور اب سارے دروازے میرے لئے بند ہوچکے ہیں۔(۲) اللہ تعالیٰ نے ناامیدی اور مایوسی کو مات دینے کے لئے چند طریقوں کی طرف رہنمائی فرمائی ہے:
!۔ صبر و حوصلہ و پائداری۔(۳)
۲۔اللہ پر توکل و بھروسہ۔(۴)
۳۔ان نعمتوں کو یاد کرنا جو اللہ نے آپ کو دی ہیں۔(۵)
یہ وہ سب چیزیں ہیں جن کے ذریعہ انسان مایوسی پر غلبہ پاسکتا ہے ۔ اور ان مذکورہ طریقوں میں بھی سب سے محکم اور متقن طریقہ ان نعمتوں کو یاد کرنا ہے جو اللہ نے ہمیں دی ہیں اور جن سے معاشرے کے بہت سے افراد محروم ہیں۔ چونکہ نعمتوں کو یاد کرنے سے انسان کے دل میں امید کا چراغ روشن ہوتا ہے اور زندگی میں رونق پیدا ہوتی اور ان لوگوں کے بارے میں سوچنا کہ جو ان نعمتوں سے محروم ہیں ۔ مایوسی کو جڑ سے ختم کردیتا ہے۔
انسان کو مایوس کرنے کی شیطانی کاوش
انسان اپنی خواہشوں اور آرزؤں تک پہونچنے میں طبیعی طور پر عجلت کا شکار ہوجاتا ہے۔(۶) اور اس کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ وہ ایک صدی کے سفر کو ایک رات میں طئے کرلے ۔ یہ عجلت پسندی صرف یہی نہیں کہ انسان کو اس کی منزل مقصود تک پہونچنے میں کوئی مدد نہیں کرتا بلکہ اکثر اوقات یہ انسان کو مایوس بنا دیتا ہے جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ محنت، مشقت کے ذریعہ ہی اپنی آرزؤں تک پہونچا جاسکتا ہے اور جلد بازی کے تصور کو اپنے فکر و خیال سے نکال دینا چاہیئے۔(۷) پس صبر، مسلسل محنت کے ذریعہ منزل تک پہونچنے کی آرزو رکھنا چاہیئے جیسا کہ امام علی(ع) ارشاد فرماتے ہیں:’’ تم ان افراد میں سے مت بنو کہ جو بغیر عمل کے آخرت میں اچھے نتیجہ کے امیدوار ہوں ۔ اگر انسان کسی چیز کی امید رکھتا ہے تو اسے اس تک پہونچے کے تیاری کرنا چاہیئے پس جو شخص کسی چیز کی تمنا کرتا ہے لیکن اس کے لئے پیہم عمل نہیں کرتا تو اسے جان لینا چاہیئے کہ وہ ایک جھوٹے گمان میں مبتلا ہے۔
آپ نے بارہا سنا ہوگا کہ’’ نا امیدی میں ہی کہیں امید کی چنگاری چھپی ہوتی ہے‘‘۔ لیکن اس مقولہ کو بہانہ بنا کر کبھی محنت، کام اور مشقت سے ہاتھ نہیں کھینچنا نہیں چاہیئے۔ امید کے درخت کا میٹھا اور ذائقہ دار پھل اسے نصیب ہوتا ہے جس نے محنت و مشقت کے پانی سے اسے سینچا ہو۔
ایک دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا کہ جو زمین میں بیلچہ چلا رہاتھا  آپ نے اللہ کی بارگاہ میں اس کے حق میں دعا کرتے ہوئے فرمایا: اے اللہ امید و آرزو کو اس سے لے لے! چنانچہ اچانک وہ بوڑھا شخص، بیلچہ زمین پر ڈال کر ایک پیڑ کے نیچے آکر آرام کرنے لگا اور کچھ ہی دیر بعد اسے نیند آگئی۔ کچھ دیر کے بعد حضرت عیسیٰ(ع) نے پھر دعا کی: پروردگار! اس کی امید کو لوٹا دے! چنانچہ آپ نے دیکھا کہ بوڑھا شخص اٹھ کر پھر کام میں مشغول ہوگیا۔
حضرت عیسی(ع) نے آگے بڑھ کر اس سے اس کام کی وجہ دریافت فرمائی: اس بوڑھے شخص نے کہا: میں نے پہلی بار یہ سوچا تھا کہ میں تو اب بوڑھا ہوچکا ہوں تو کیوں میں خود کو زحمت میں ڈالوں اور اتنی محنت کروں؟ لہذا میں نے بیلچہ چھوڑ دیا اور آکر سوگیا لیکن ابھی کچھ دیر نہ گذری تھی کہ یہ فکر میرے ذہن میں آئی کہ مجھے کہاں سے معلوم کہ میں جلد ہی مرجاؤں گا؟ اور انسان جب تک زندہ ہے اسے اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے ناگزیر محنت کرنا ہے ۔لہذا میں اٹھا اور پھر کام میں مشغول ہوگیا۔(۸)
اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے سورہ نساء کی ۱۱۹ ویں آیت میں انسان کی آرزؤں کی بلند پروازی کو ایک شیطانی کاوش اور انسان کو مایوسی کی گہری کھائی میں گرانے کا ذریعہ قرار دیتا ہے چونکہ انسان کی آرزؤں کا میدان بڑا وسیع ہے اور شیطان، انسان کی اس خصلت سے سوء استفادہ کرتے ہوئے اسے مایوس بنانے کے لئے  یہ سب حربے  استعمال کرتا ہے۔
لہذا اس کا حل سورہ طہ کی ۱۳۱ ویں آیت میں بتلاتا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنی امید کی حفاظت کرنے کے لئے کسی دوسرے کی چیزوں پر نظر نہ رکھو اور اپنی محنت  اور کاوش کے ذریعہ اپنے مقاصد تک پہونچنے کی کوشش کرو!
اللہ سے مانگنا،امید کے ثمر آور ہونے کا سبب
قارئین کرام! ہمیں کبھی بھی اللہ سے مانگنا اور دعا کرنا نہیں چھوڑنا چاہیئے چونکہ اس کی قبولیت کی امید ہی تو ہے جس کے سبب ہم پُر امید رہتے ہیں اور ہو بھی کیوں نا؟ چونکہ خود اسی نے تو دعا کی قبولیت کا وعدہ کیا ہے۔(۹) اور دعا کرنے والا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں ہوتا ہے پس کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیئے لیکن شرط یہ ہے کہ ہم کچھ کریں اور تبدیلی اور تغیر کے خواہاں ہوں۔(۱۰)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1- بحارالانوار، ج 74، ص 173.
2- یوسف/87.
3- بقره/153.
4- طلاق/3.
5- فاطر/3.
6- انبیا/37 .
7- نجم/39.
8- داستان پیامبران، اکبری، ص 245.
9- بقره/ 186.
۱۰- یونس/103.


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین