Code : 963 22 Hit

قرآن مجید سے کیسے شفا طلب کیجائے؟

کبھی کچھ چیزوں کا اثر الٹا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔درد دوا بن جاتا ہے اور دوا بیماری۔جیسے قرآن کریم انسانوں کے لئے ہدایت اور شفا بن کر آیا ہے لیکن کچھ لوگ اسی قرآن سے اپنی گمراہی میں اضافہ کرتے ہیں۔جیسے آج جتنے بھی لوگ اسلام کے نام پر دہشتگردی کرتے ہیں ،بے گناہوں کا قتل کرتے ہیں ،مسلمانوں کو کافر بتا کر ان کے گلے کاٹتے ہیں ،مسجدوں اور امامبارگاہوں میں خودکش حملے کرتے ہیں ،انسانیت کے جانی دشمن ہیں وہ سب قرآن سے استدلال کرتے ہیں۔اس کے برعکس کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی برا انسان،کوئی برا دوست،برا ماحول انسان کو حقیقت کی جانب متوجہ کردیتا ہے اور بیماری انسان کے لئے شفا بن جاتی ہے۔ کبھی انسان زندگی میں ایسی غلطی کر بیٹھتا ہے کہ ضمیر اسے شدید ملامت کرتا ہے اور وہی غلطی اسے ہمیشہ کے لئے سدھار دیتی ہے۔

ولایت پورٹل: حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے:’’جس دن مکہ فتح ہوا ہم رسول خدا(ص) کے ہمراہ کعبہ کے پاس آئے آنحضرت(ص) نے مجھ سے فرمایا:’’علی بیٹھ جاؤ! میں زمین پر بیٹھ گیا اس کے بعد سرکار ختمی مرتبت(ص) میرے شانوں پر چڑھے اور پھر میں کھڑا ہوگیا تب اللہ کے رسول (ص) نے حاضرین سے خطاب کرنا شروع کیا اور آپ کے خطاب کا ایک جملہ یہ تھا:’’من لم یستشف بالقرآن فلا شفاه الله‘‘ جو شخص قرآن کے ذریعہ سے شفا طلب نہ کرے اللہ تعالٰی اسے شفا نہیں دیتا۔( تفسیر کشاف، جار الله زمخشری، ج 2، ص 689)
انسان کو ہمیشہ سے دو طرح کی بیماریوں اور امراض کا سامنا رہا ہے ایک جسمانی بیماری اور دوسری روحانی اور اخلاقی بیماری و مرض، اور ان دونوں کے درمیان روحانی و اخلاقی مرض کا خطرہ جسمانی بیماری سے کہیں زیادہ ہوتا ہے کیونکہ:
1۔روحانی امراض دائمی ہوتے ہیں،اور عام طور پر اعضاء انسانی میں موجود درد نقاہت و ضعف یا آنکھ کان اور بدن کی بیماری کچھ دن کے بعد علاج کرنے سے ٹھیک ہوجاتی ہے لیکن روحانی امراض جیسا کہ حسد،کنجوسی،غرور،دوسروں کی نسبت کینہ و بغض ایک عمر تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔
2۔جسمانی بیماریاں عام طور پر ظاہر ہوتی ہیں اور کوئی بھی نبض شناس ان کو با آسانی تشخیص دے سکتا ہے جبکہ روحانی و اخلاقی امراض مخفی ہوتے ہیں اور ان کو مشخص و معین کرنا جسمانی امراض سے کہیں زیادہ سخت و دشوار کام ہوتا ہے چونکہ جسمانی امراض کو معاینہ،چیک اپ اور اس کی دیگر علامتوں سے پہچاننا آسان ہوتا ہے۔
3۔روحانی و اخلاقی امراض دیگر آلودگیوں اور نجاستوں کا سرچشمہ شمار ہوتے ہیں مثال کے طور پر جو شخص  دوسروں کی نسبت بغض و حسد میں مبتلاء ہوتا ہے یہ اس کے اندر  بہت سی دیگر خطرناک برائیوں و جراثیم کے پنپنے کا سبب بن جاتی ہے جیسا کہ اسی شخص کی برائی کرنا، اس کی غیبت کرنا،اس کی بے عزتی کرنا،اور اس کی توہین کرنا اس کے خلاف سازش رچانا یا کسی سازش میں شریک ہونا وغیرہ وغیرہ۔
4۔ایسے  افراد اپنے ان امراض کا علاج کرنے کے لئے کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے لیکن یہی لوگ جب کسی جسمانی مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو یہ جلد ہی اپنے کو کسی اچھے ڈاکٹر یا حکیم تک پہونچانے کی کوشش کرتے ہیں لہذا جسمانی امراض میں مبتلاء دسیوں لاکھ لوگ ہر دن ڈاکٹر کو دکھانے کے لئے جاتے ہیں لیکن ان میں سے انگشت شمار ہی ایسے لوگ ملتے ہیں جو اپنی روحانی بیماری کے علاج کے لئے اپنی حسد و بغض کے مداوے کے لئے کسی ماہر و حاذق کی طرف رجوع کرتے ہوں۔
لہذا ایسے مریضوں کا علاج مشکل ہوتا ہے سر کے درد کو ایک ٹیبلیٹ یا ایک انجکشن کے ذریعہ کنٹرول کیا جاسکتا ہے لیکن حسد کا علاج ایک آدھ ٹیبلیٹ و انجکشن سے ممکن نہیں ہوتا۔
5۔ایسے امراض سے شفا کے لئے دنیا کے کسی ڈاکٹر کا تجویز کردہ نسخہ کارگر و شفا بخش ثابت نہیں ہوسکتا کہ جس نے دنیا کے کسی بڑے میڈیکل کالج یا یونیورسٹی سے میڈیل کی ڈگری حاصل کی ہو بلکہ ایسی بیماریوں کا علاج قرآن مجید اور اولیاء الہی کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔
چنانچہ امیرالمؤمنین(ع) قرآن مجید کے شفا دینے کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:’’اپنی بیماریوں کے لئے قرآن مجید سے شفا طلب کرو اور اپنی مشکلات کے حل کے لئے اس سے مدد حاصل کرو چونکہ قرآن مجید بڑے سے بڑے امراض جیسا کہ درد کفر و نفاق، گمراہی و ضلالت کے لئے شفا ہے‘‘۔
دوا  بیماری اور بیماری علاج
کبھی کچھ چیزوں کا اثر الٹا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔درد دوا بن جاتا ہے اور دوا بیماری۔جیسے قرآن کریم انسانوں کے لئے ہدایت اور شفا بن کر آیا ہے لیکن کچھ لوگ اسی قرآن سے اپنی گمراہی میں اضافہ کرتے ہیں۔جیسے آج جتنے بھی لوگ اسلام کے نام پر دہشتگردی  کرتے ہیں ،بے گناہوں کا قتل کرتے ہیں ،مسلمانوں کو کافر بتا کر ان کے گلے کاٹتے ہیں ،مسجدوں اور امامبارگاہوں میں خودکش حملے کرتے ہیں ،انسانیت کے جانی دشمن ہیں وہ سب قرآن سے استدلال کرتے ہیں۔کیا یہ قرآن سے ہدایت اور شفا پارہے ہیں یا گمراہی اور یا ان کی بیماری  اور مرض میں اضافہ  ہورہاہے ۔ ارشاد ہوتا ہے:’’وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا ‘‘۔(اسراء:82)ہم نے جو قرآن بھیجا ہے وہ مؤمنین کے لئے تو شفا اوررحمت ہے لیکن ظالمین کو اس سے کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں بلکہ  یہ ان کے نقصان میں اضافہ کرتا ہے۔  
اس کے برعکس کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی برا انسان،کوئی برا دوست،برا ماحول انسان کو  حقیقت کی جانب متوجہ کردیتا ہے اور بیماری انسان کے لئے شفا بن جاتی ہے۔ کبھی انسان زندگی میں ایسی غلطی کر بیٹھتا ہے کہ ضمیر اسے شدید ملامت کرتا ہے اور وہی غلطی اسے ہمیشہ کے لئے سدھار  دیتی ہے۔ چنانچہ امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں:’’رُبَّمَا كَانَ اَلدَّوَاءُ دَاءً وَ اَلدَّاءُ دَوَاءً‘‘۔کبھی دوا بیماری بن جاتی ہے اور بیماری دوا۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम