Code : 923 52 Hit

امام علی نقی(ع) کی شہادت کی روداد

یوں تو اکثر آئمہ علیہم السلام کا خلفاء جور سے سامنا تھا لیکن امام علی نقی علیہ السلام کو سب سے زیادہ اذیت اور رنج بنی عباس کے سفاک و خونریز حکمراں متوکل نے پہونچایا چونکہ اس نے علویوں کے خطرات سے بچنے کے لئے امام کو تشیع یعنی مدینہ سے دور کرکے سامرا کے اس گھر میں قید کردیا جہاں آپ کو ایک لمحہ بھی سکون نہیں تھا اور یہی گھٹن والا گھر آخرکار آپ کے مقبرے میں تبدیل ہوگیا اور اس طرح امت اور امام کے رابطہ کو کاٹنے کی کوشش کہ آپ سے لوگوں کے ملنے جلنے پر شدید پابندی لگا دی گئی اور دوسرا تاریخ کا عظیم ظلم جو اس سفاک نے کیا وہ مرقد امام حسین(ع) کی متعدد بار تاراجی تھی تاکہ روئے زمین سے شیعیت کی نشانیاں ختم کر دی جائیں۔(5) لیکن شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ’’ يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ‘‘ یہ نور الہی منور چراغ ہیں انہیں ظلم و جور کی آندھیاں بجھا نہیں سکتیں۔نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن۔پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا

ولایت پورٹل: قارئین کرام! حضرت امام علی نقی علیہ السلام شیعوں کے دسویں امام ہیں آپ ایک روایت کے مطابق 15 ذی الحجہ سن 212 ہجری میں مدینہ کے نزیک ایک شہر’’ صریا‘‘ میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد ماجد حضرت امام محمد تقی علیہ السلام اور آپ کی والدہ جناب سمانہ خاتون تھیں۔(1)
امام علی نقی علیہ السلام 8 برس کی عمر میں اپنے والد بزرگوار کی شہادت کے بعد منصب امامت و خلافت و ولایت پر فائز ہوئے اور 33 برس امامت کی سنگین ذمہ داریاں اور فرائض ادا کرکے 41 برس کی عمر میں عباسی خلیفہ معتز باللہ کے حکم سے زہر کے ذریعہ شہید ہوئے۔(2)
امام علی نقی علیہ السلام نے 7 عباسی خلفاء کا زمانہ دیکھا ہے اور جب آپ کو منصب امامت ملا تو اس وقت معتصم عباسی،مامون کا بھائی تخت پر تھا آپ نے اس کی حکومت کے 7 برس ،اس کے بعد معتصم کے بیٹے واثق عباسی کی حکومت میں بھی 7 برس ،اس کے بعد 7 برس معتصم کا دوسرا بیٹا متوکل خلیفہ تھا اور اسی کے زمانے میں آپ کو اپنا وطن مدینہ چھوڑ کر سامرا آنا پڑا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا منتصر 6 مہینہ اور پھر منتصر کا چچازاد بھائی مستعین 4 برس،اس کے بعد متوکل کا دوسرا بیٹا معتز 3 برس حاکم رہا ۔چنانچہ اسی معتز نے برسر اقتدار آنے کے 1 برس کے  اندر ہی آپ کو سامرا میں زہر دے کر شہید کردیا اور آپ اسی گھر میں مدفون ہیں جہاں آپ قیام پذیر تھے۔(3)
امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت کے متعلق قابل غور بات یہ ہے کہ آپ ہمہ وقت حکومت وقت کی شدید نگرانی میں رہتے تھے اس طرح کہ نہ آپ اپنے چاہنے والوں سے مل سکتے تھے اور نہ کسی چاہنے والے کی جلد آپ تک رسائی ہوتی تھی یہی وجہ ہے کہ امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت کی زیادہ تفصیل کتب تواریخ میں نقل نہیں ہوئی ہیں اور تواریخ میں فقط اتنا ضرور تحریر ہے کہ امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت معتز کے زمانے میں واقع ہوئی۔ نہ کتابوں میں  یہ تذکر موجود ہے کہ آپ کو خلیفہ کے حکم سے مسموم کیا گیا تھا اورنہ ہی شخص کے متعلق کچھ معلوم ہوسکا کہ کس کو حکومت نے زہر دینے پر مأمور کیا تھا؟ اور نہ ہی آپ کی شہادت کے متعلق یہ معلوم ہے کہ کس وقت  آپ کی روح نے پرواز کیا چنانچہ یہی وجہ ہے کہ خود مؤرخین کے درمیان آپ کی شہادت کی تاریخ کو لیکر شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔(4)
یوں تو اکثر آئمہ علیہم السلام کا خلفاء جور سے سامنا تھا لیکن امام علی نقی علیہ السلام کو سب سے زیادہ اذیت اور رنج بنی عباس کے سفاک و خونریز حکمراں متوکل نے پہونچایا چونکہ اس نے علویوں کے خطرات سے بچنے کے لئے امام کو تشیع  یعنی مدینہ سے دور کرکے سامرا کے اس گھر میں قید کردیا جہاں آپ کو ایک لمحہ بھی سکون نہیں تھا اور یہی گھٹن والا گھر آخرکار آپ کے مقبرے میں تبدیل ہوگیا اور اس طرح امت اور امام کے رابطہ کو کاٹنے کی کوشش کہ  آپ سے لوگوں کے ملنے جلنے پر شدید پابندی لگا دی گئی اور دوسرا تاریخ کا عظیم ظلم جو اس سفاک نے کیا وہ مرقد امام حسین(ع) کی متعدد بار تاراجی تھی تاکہ روئے زمین سے شیعیت کی نشانیاں ختم کر دی جائیں۔(5) لیکن شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ’’ يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ‘‘ یہ نور الہی منور چراغ ہیں انہیں ظلم و جور کی آندھیاں بجھا نہیں سکتیں۔
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
عبد اللہ بن محمد متوکل کی طرف سے مدینہ کا والی تھا کہ جو دشمنی اہل بیت(ع) اور تعصب آل محمد(ص) میں اپنی نظیر آپ تھا وہ متوکل کے پاس امام علی نقی علیہ السلام کی جھوٹی شکایت لکھ کر بھیجتا تھا چنانچہ امام علیہ السلام نے بھی متوکل کو اس کے والی کی حقیقت سے آگاہ کرنے کے لئے ایک خط تحریر کیا کہ تیرا والی تیرے سامنے ہماری جھوٹی شکایات کرتا ہے لیکن متوکل یہ فیصلہ کرچکا تھا کہ اب امام کو ایک لمحہ کے لئے مدینہ نہیں رہنے دے گا اس نے امام علیہ السلام کو ایک خط تحریر کیا اور ظاہر طور پر خط کا مضمون بہت محترمانہ تھا کہ آپ سامرا چلے آئیے ہمیں آپ کی ہدایت و رہنمائی کی ضرورت ہے۔(6)
جیسے ہی متوکل کا خط پہونچا تو امام علیہ السلام سامرا کے لئے آمادہ ہوئے۔(چونکہ امام علیہ السلام جانتے تھے کہ اب سامرا جانا ہی ہوگا) جب آپ سامرا پہونچے تو متوکل نے جو تمام احترام و اکرام خط میں تحریر کیا تھا اس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مکمل ایک دن کے لئے اپنے کو روپوش کرلیا اور امام علیہ السلام کو ایک ایسی سرائے میں ٹہرا دیا گیا کہ جو فقراء و مساکین کے ٹہرنے کے لئے مخصوص تھی۔(7)
اگلے دن متوکل نے حکم دیا کہ امام علی نقی علیہ السلام کو ایک لمحہ کے لئے بھی آزاد نہ چھوڑا جائے بلکہ ہمہ وقت ان کی نگرانی کی جائے یہاں تک کہ کسی چاہنے والے کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت نہ دی جائے اور اس طرح امام کا رابطہ شیعوں سے کاٹنے کی کوشش کی اور کچھ دن گذرتے گذرتے امام علیہ السلام کے اقتصادی حالات خراب ہوتے چلے گئے چونکہ جو شخص بھی امام تک وجوہات شرعیہ پہونچانا چاہتا تھا اسے عباسی حکومت کے کارندے سخت سزائیں دیتے تھے۔(8)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ شيخ مفيد،‌ الارشاد ج 2 ، ترجمه سيد هاشم رسولي محلاّتي، ص 417 و 418 – پيشوايي، مهدي، سيره پيشوايان، چاپ 13،‌ 1381، موسسة امام صادق،‌ص 567، طبرسي، امين الاسلام، اعلام الوري، چ3، دار الكتاب الاسلاميه، ص 355۔
2 ۔شيخ مفيد سابق حوالہ، طبرسي سابق حوالہ۔
3۔ پيشوايي سابق حوالہ ص 612 ، نقل از شبلنجي، ‌نور الابصار، ص 166، شيخ مفيد نے  الارشاد میں شہادت کی جگہ وفات کا لفظ استعمال کیا ہے۔
 4۔ امام علی نقی علیہ السلام کی عمر کو 40 سے 42 سال کے درمیان ذکر کیا ہے اور امام کی شہادت کے دن کا تذکر نہیں کیا ہے یا تیسری رجب یا ستائیس رجب یا ماہ جمادی الثانی کا تذکرہ کیا ہے۔
5۔ ابو الفرج اصفهاني،‌مقاتل الطالبيين، نجف،‌ منشورات المكتبة الحيدرية،‌ 1385 ه.ق،‌ ص 395 – پيشوائي،سابق حوالہ ، ص 571 – عادل اديب ، سابق حوالہ، ص 256 .– عقيقي بخشايشي، سابق حوالہ، ص 53 و 54 – قرشي، باقر شريف،‌زندگاني امام علي الهادي، انتشارات اسلامي، 1371 ، ص 386۔
6۔ شيخ مفيد، سابق حوالہ، ص 435 – طبرسي،‌اعلام الوري، سابق حوالہ، ص 365 – قرشي،‌زندگاني امام علي الهادي،سابق حوالہ، ص 386 ۔
7۔شيخ مفيد،‌الارشاد، سابق کتاب،‌ص 438۔
8۔قرشي،‌ باقر شريف،‌زندگاني امام علي الهادي، سابق حوالہ، ص 386۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम