Code : 2408 51 Hit

عرب نما صیہونی بٹالین کے بارے میں ہم کتنا جانتے ہیں؟

اپنے آپ کو عربوں کی شکل میں ڈھالنے والی صیہونی خفیہ اور جاسوسی ادارے کی بٹالین اس ادارے کا دائیں بازو سمجھی جاتی ہے۔عربوں کا حلیہ بنانے والی صیہونی خفیہ ایجنسی کی ٹیم فلسطینیوں کو کچلنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اس لیے کہ اس ٹیم کے عناصر دیکھنے میں بالکل فلسطینیوں کی طرح لگتے ہیں اور انھیں کے درمیان رہتے ہیں ۔

ولایت پورٹل:صیہونی قلمکار عوفر اڈراٹ نے اپنی رپورٹ میں اس خفیہ ٹیم کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ  عرب نما یہ ٹیم اسرائیل کے جعلی وجود  سے پہلے بھی موجود تھی ، اس کو شموئیل موریا نامی شخص نے بنایا جو بعد میں موساد کا اعلی عہدہ دار بنا۔
عوفر نےہارٹز اخبار میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں لکھا ہے موریا نے 1947 میں دسیوں عراقی یہودیوں کو فلسطین میں منتقل کیا پر 1953 میں  دیگر عرب ممالک سے یہودیوں کو لے کر فلسطین آیا  جس کے بعد اس نے عربوں کی طرح دکھائی دینے والے افراد پر مشتمل اسرائیل کی جاسوس ٹیم شاباک کی بنیاد ڈالی۔
 شروع میں اس ٹیم میں دس افراد تھے  جو تربیت یافتہ تھے اور فلسطینی شہروں اور دیہاتوں میں  داخل تو ہوئے لیکن وہاں سے واپس نہیں آئے  بلکہ وہیں کے ہو کر رہ گئے ،انھوں فلسطینی خواتین کے ساتھ شادیاں کیں  اور بچئ بھی ہوئے۔
قابل ذکر ہے کہ ان جعلی عربوں کواسلامی تعلیمات جیسے قرآن مجید سے کافی حد تک آشنائی تھی،یہ فلسطینیوں کی طرح عربی بولتے تھے انھیں کے درمیان رہتے تھے  اور اتنے محطاط انداز میں جاسوسی کرتے تھے یہاں تک کہ ان کے یہودی ہونے کے بارے میں ان کی بیوی بچوں  کو بھی نہیں معلوم تھا۔
اسرائیلی قلمکار شموئیل کا حوالہ دیتے ہوئے مزید لکھتا ہے کہ ہم ان سے یہ نہیں کہا تھا کہ فلسطینیوں کے ساتھ شادی بھی کر لیں  لیکن ان کی ڈیوٹی کا تقاضہ تھا کہ وہ ایسا کریں ۔
اس نے مزید لکھا ہے کہ 1995 میں جعلی عربوں کی یہ صیہونی خفیہ ٹیم نیست ونابود ہوگئی ،فلسطینی خواتین کو جب پتا چلا کہ ان کے شوہر یہودی ہیں تو وہ ان سے الگ  ہوگئیں جس کی وجہ سے بہت سارے گھر برباد ہوگئے،جب ہم نے کچھ فلسطینی خواتین سے کہا کہ وہ اسرائیل چلی آئیں اور یہودی بن جائیں نیز اپنے بچوں کو بھی یہودی بنا دیں تو انھوں سے صاف انکار کردیا جس کے بعد ان کے بہت سارے بچے بھی ذہنی تناؤ کا شکار ہوگئے اس لیے کہ ان  کے لیے یہ ماننا بڑا مشکل تھا کہ کل تک ان کا پاب جو احمد تھا آج اچانک  یوسی یا رونی  کیسے ہوگیا؟

ایک اور صیہونی قلمکار نوعام روٹم سیحا میکومٹ ویب سائٹ پر لکھتے ہیں کہ  کیا آپ نے عرب کا حلیہ بنانے والے صیہونیوں کے بارے کچھ سنا ہے؟ آپ کو معلوم ہے کہ یہ کیسے بنے؟ ساٹھ سال پہلے یہ ایسے جاسوس تھے جو بارہ سال  الجلیل،المثلث اور النقب جیسے علاقوں میں فلسطینیوں کے ساتھ  رہے ،ا نھیں میں سے شادیاں کیں ،بچے ہوئے  اور فلسطینیوں ہی کے کارخانوں میں انھوں نے کام کیا، یہ ایسے رہے جیسے فلسطینی رہتے ہیں۔
اب نئے انداز میں جعلی عربوں کی ٹیم  تیار
صیہونی اخبار یادیوت احرونوت نے 2016 میں ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی شاباک کی جعلی عربوں کی ٹیم پھر سے بن چکی ہے  لیکن اس کی ڈیوٹی پہلے والے ٹیم سے کچھ الگ ہے،ان کی ڈیوٹی ہے فلسطینی مظاہرین میں شامل ہونا اور انھیں گرفتار کرنا،کئی جگہوں مزاحمتی تحریک کے سربراہوں کو قتل کرنا ان کے ذمہ ہوتا ہے۔
القدس العربی اخبار نے اس سلسلہ میں لکھا ہے کہ  جعلی عربوں پر مشتمل صیہونی خفیہ ایجنسی کی ٹیم  عربی کپڑے پہن کر مغربی پٹی میں آتی ہے اور فلسطینی لیڈروں کو گرفتار کرتی ہے۔
اسی ٹیم کے کارندوں نے  دو سال پہلے فلسطین لبریشن فرنٹ کے رکن شادی معالی کو اغوا کیاتھا۔
قابل ذکر ہے اس ٹیم کے لیے افراد کو نہایت باریک بینی کے ساتھ انتخاب کیا جاتا ہے، ایسے افراد کو لیا جاتا ہے جوشکل و صورت ، عادات واطور او چال ڈھال میں بھی  نیز زبان سے بھی عرب لگتے ہوں ا س لیے کہ ایسا ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ انھیں فلسطینیوں کے درمیان رہنا ہوتا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम