Code : 2210 107 Hit

امام سجاد علیہ السلام کی شہادت اور مدینہ میں کہرام

سعید بن مسیب روایت کرتے ہیں:’’جب امام علی ابن الحسین علیہ السلام کی شہادت ہوگئی مدینہ کے تمام نیک و بد لوگ تشیع جنازہ کے لئے حاضر ہوئے سب لوگ آپ کی تعریف کررہے تھے اور آنکھوں سے اشک جاری تھے اور سبھی لوگوں نے جنازے میں شرکت کی یہاں تک کہ مسجد النبی(ص) میں کوئی ایک شخص بھی باقی نہ رہا‘‘۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام یزید واقعہ کربلا کے بعد امام سجاد علیہ السلام کو شہید کرنا چاہتا تھا یہی وجہ تھی شام میں جتنی مرتبہ بھی یزید کا اسیروں کے ساتھ امام سجاد(ع) سے سامنا ہوا وہ اس انتظار میں تھا کہ حضرت سے کوئی چھوٹی ہی سی غلطی ہوجائے تاکہ انہیں قتل کرنے کا بہانا ہاتھ آجائے۔
ایک دن یزید نے امام سجاد علیہ السلام کو قید خانے سے اپنے محل میں بلوایا اور آپ سے کچھ پوچھ تاچھ کرنے لگا۔امام سجاد(ع) کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی تسبیح تھی جسے آپ پڑھ رہے تھے۔
یزید نے برہم ہوکر کہا:’’تمہاری یہ جرأت کیسے ہوئی کہ مجھ سے بات کرتے ہوئے تسبیح پڑھو؟
امام علیہ السلام نے فرمایا:’’میرے بابا نے مجھ سے میرے جد کی یہ حدیث نقل کی ہے کہ جو شخص نماز صبح کے بعد بغیر کسی سے بات کئے ہاتھ میں تسبیح لیکر یہ پڑھے:’’اللهم انی اصبحت و اسبحّک و امجدک و احمدک و اُهللک بعدد ما ادیر به سبحتی‘‘۔اور اس کے بعد ہاتھ میں تسبیح لیکر جو کچھ بھی کہے یہاں تک کے رات کو بستر پر چلا جائے اس کے لئے ذکر پڑھنے کا ثواب لکھا جاتا رہے گا اور جیسے ہی بستر پر جائے اس وقت بھی یہی دعا پڑھے اور تسبیح کو اپنے سرہانے رکھ دے تو صبح اٹھنے تک اس کے نامہ اعمال میں ذکر خدا کا ثواب لکھا جاتا رہے گا چنانچہ میں اپنے جد کی اقتداء کررہا ہوں۔
یزید نے کہا:’’ میں نے آپ سے جب بھی بات کی مجھے صحیح جواب ہی دیا‘‘۔
یعنی یزید اس انتظار میں تھا کہ بس امام سجاد(ع) کی زبان سے کوئی ایسی بات نکلے جسے بہانہ بنا کر وہ آپ کو شہید کرسکے۔
ایک دوسری روایت میں وارد ہوا ہے کہ جب شام میں حضرت زینب(س) کے آتشیں خطبہ سے یزید اور خاندان بنی امیہ کی رسوائی کا ڈھنڈورا پٹ گیا تو یزید کو اس ماجرے سے بڑا صدمہ پہونچا اور اس نے شام والوں سے کہا کہ اب میں ان کے ساتھ کیا کروں؟ شام کے چاپلوسیوں نے کہا:ان سب کو تہہ تیغ کردے!
اسی مجمع میں مدینہ کا رہنے والا انصار میں سے ایک شخص جس کا نام لقمان بن بشیر ملتا ہے ،تھا اس نے کہا:’’اے یزید! اگر رسول اللہ(ص) ہوتے تو وہ اپنے اہل بیت(ع) کے ساتھ کیا سلوک کرتے تم بھی ویسا ہی کرو!
تب جاکر یزید اپنے ارادے سے منصرف ہوا۔
نیز ایک روایت میں امام سجاد علیہ السلام نے منہال سے فرمایا:’’ منہال کبھی ایسا نہ ہوا کہ یزید نے ہمیں اپنے دربار میں بلوایا ہوا اور ہمیں اپنے قتل ہونے کا خدشہ لاحق نہ ہوا ہو‘‘۔
بہر حال مذکورہ بالا تمام شواہد و قرائن سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یزید نے کئی بار امام سجاد اور آپ کے ہمراہ دیگر اسیروں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا لیکن اللہ کی تدبیر ہمیشہ یزیدی مکر پر غالب رہی۔( بحارالانوار، ج 45،‌ ص 200)
امام سجاد علیہ السلام کی شہادت کا زمانہ
جس طرح امام سجاد علیہ السلام کی ولادت کی تاریخ میں مورخین کے درمیان اختلاف ہے اسی طرح آپ کی شہادت کی تاریخ میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس اختلاف کی اصل 92 ہجری سے 100 ہجری کی طرف پلٹتی ہے۔لیکن ان میں دو روایات کافی مشہور ہیں ایک 94 ہجری چونکہ اس برس مدینہ میں بہت سے مشہور فقہاء فوت ہوئے جس کی وجہ سے اس سال کو’’ سنۃ الفقھاء‘‘ کہا گیا ۔اور دوسرا مشہور قول  95 ہجری میں شہادت کا ہے۔
امام علی ابن الحسین(ع) کے ایک بیٹے جن کا نام حسین تھا انہوں نے اپنے بابا کی شہادت کو 94 ہجری میں بتلایا ہے اور اسی روایت کی بنیاد پر بہت سے علماء جیسا کہ شیخ مفید،شیخ طوسی اور محقق اربلی ، و ابن اثیر نے اسی تاریخ کو قبول کیا ہے۔
لیکن ابو بصیر نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ: حضرت علی ابن الحسین(ع) نے 57 برس کی عمر میں شہادت پائی جس کی رو سے آپ کی شہادت 95 ہجری کو ہونا قرین قیاس لگتا ہے۔
امام سجاد علیہ السلام کی آخری رات
امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:’’ میرے جد حضرت امام سجاد علیہ السلام نے شب شہادت اپنے بیٹے امام محمد باقر علیہ السلام سے فرمایا:’’میرے لخت جگر! میرے لئے پانی لاؤ تاکہ میں وضو کرسکوں! امام باقر علیہ السلام اٹھے اور ایک ظرف میں پانی لے آئے۔
امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:’’بیٹا! یہ پانی وضو کے لئے مناسب نہیں ہے چونکہ اس میں مردہ حیوان گرا ہوا ہے۔
امام باقر علیہ السلام ایک چراغ لائے دیکھا اس میں مرا ہوا چوہا پڑا ہوا تھا اسی وجہ سے آپ ایک دوسرے برتن میں پانی لے آئے۔
امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:’’ اے میرے بیٹے! یہ وہی رات ہے جس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا ہے۔پھر آپ نے اپنی تمام وصیتیں کیں۔( بحارالانوار، ‌ج 46، ص 148۸، حدیث 4)
امام سجاد علیہ السلام کا قاتل
حضرت امام علی ابن الحسین علیہ السلام کی ولید بن عبد الملک کے زمانے میں شہادت ہوئی۔
عمر بن عبدالعزیز کے قول کے مطابق ولید ایک جابر و ظالم حاکم تھا جس نے اللہ کی زمین کو ظلم و جور سے بھر رکھا تھا اس کی حکومت میں مروانیوں اور خاص طور پر اس کے عمّال نے آل پیغمبر (ص) اور خاص طور پر امام سجاد علیہ السلام پر بہت مظالم روا رکھے۔
مدینہ کا گورنر ہشام بن اسماعیل اگرچہ عبد الملک بن مروان کے زمانے سے مدینہ کا گورنر تھا لیکن ولید نے امام زین العابدین پر سختیاں کی اور جب اپنی بے راہ روی کے سبب مدینہ کے لوگوں کی شکایت پر اپنے منصب سے معزول ہوا تو اسے مروان کے گھر کے قریب روک لیا گیا تاکہ لوگ اس سے اپنا اپنا بدلہ لے سکیں اور وہ خود معترف تھا کہ مجھے سب سے بڑا خطرہ علی ابن الحسین(ع) سے لاحق ہے چونکہ میں نے اپنی گورنری کے دوران سب سے بڑے مظالم ان پر کئے ہیں اور جب امام علیہ السلام اپنے اصحاب کے ہمراہ اس کے قریب سے گذرے تو کسی نے بھی اسے کچھ نہ کہا اور حرف شکایت لب پر بھی نہ لائے یہی وہ مقام تھا کہ ہشام نے با آواز بلند کہا:’’ الله اعلم حیث یجعل رسالته‘‘ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اپنے منصب کو کہاں رکھنا ہے۔
اور ایک دوسری روایت میں وارد ہوا ہے کہ امام علیہ السلام نے اسے پیغام بھجوایا کہ اگر تجھے کسی چیز کی ضرورت ہے تو ہم فراہم کریں۔
مورخین نے امام سجاد علیہ السلام کے قاتل کے بارے میں مختلف روایات نقل کی ہیں۔ بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ امام کو ولید نے زہر دیا اور بعض دیگر مورخین کا ماننا ہے کہ خود خلیفہ کے بھائی ہشام بن عبد الملک نے آپ کو زہر دلوایا لیکن یہ تو حقیقت ہے کہ ہشام بھی بغیر ولید کی مرضی کے امام کو زہر نہیں دے سکتا تھا۔( بحارالانوار،‌ج 46، ص 152، حدیث 12 و ص 153 و 154)
امام سجاد علیہ السلام کا مدفن
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کو مدینہ منورہ میں تشیع کیا گیا اور بقیع میں آپ کے چچا امام حسن علیہ السلام کے پہلو میں دفن کردیا گیا۔( بحارالانوار، ‌ج 46، ص 151، حدیث 10)
امام کی شہادت سے شہر مدینہ میں کہرام
امام سجاد علیہ السلام نے اپنی امامت کے 35 برسوں میں انسانیت کی وہ عظیم خدمات  انجام دی ہیں جو تاریخ میں کم نظیر ہیں اسی وجہ سے جب آپ کی شہادت کی خبر مدینہ میں پہونچی تمام اہل مدینہ آپ کے جنازے میں شرکت کے لئے دوڑے چلے آئے۔
سعید بن مسیب روایت کرتے ہیں:’’جب امام علی ابن الحسین علیہ السلام کی شہادت ہوگئی مدینہ کے تمام نیک و بد لوگ تشیع جنازہ کے لئے حاضر ہوئے سب لوگ آپ کی تعریف کررہے تھے اور آنکھوں سے اشک جاری تھے اور سبھی لوگوں نے جنازے میں شرکت کی یہاں تک کہ مسجد النبی(ص) میں کوئی ایک شخص بھی باقی نہ رہا‘‘۔(بحارالانوار، ‌ج 46، ص 150)
قارئین کرام! حجت خدا کے زمین سے اٹھ جانے کا غم صرف انسانوں ہی کو نہیں بلکہ حیوانوں، چرند اور پرند کو بھی ہوتا ہے چنانچہ روایات میں ملتا ہے کہ وہ ناقہ جس سے آپ 22 مرتبہ حج بیت اللہ کے لئے تشریف لے گئے اور پوری زندگی کبھی آپ نے ایک کوڑا بھی اسے نہیں لگایا اور جس کے لئے آپ نے اپنے بیٹے امام باقر علیہ السلام سے خاص وصیت کی تھی چنانچہ ملتا ہے کہ جب امام کی شہادت واقع ہوگئی تو یہ اونٹنی امام علیہ السلام کی قبر پر آئی اور اپنے سر کو قبر پر پٹخنے لگی اس طرح کہ اس کی آنکھوں سے اشک جاری تھے۔ جب یہ خبر امام محمد باقر علیہ السلام تک پہونچی آپ اپنے باپ کی قبر کے قریب آئے اور اونٹنی سے کہا:’’چپ ہوجا! کھڑی ہو خدا تجھے با برکت بنائے چنانچہ وہ اونٹنی اٹھی اور چلی گئی لیکن کچھ دیر کے بعد پھر قبر کے پاس آکر رونے پیٹنے لگی امام باقر علیہ السلام نے فرمایا اسے اس کے حال پر چھوڑ دو چنانچہ امام کی شہادت کو ابھی 3 دن ہی گذرے تھے کہ وہ دنیا سے چل بسی۔( بحارالانوار، ‌ج 46، ص147 و 148، حدیث 2 و 3 و 4 به نقل از بصائر الدرجات و اختصاص و اصول کافی ج 1، ص 467، حدیث 2 و 3 و4)
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम