Code : 4130 49 Hit

قرآن و احادیث کی روشنی میں والدین کا احترام

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:’’ ایک شخص پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ(ص) میں آپ کے ہاتھ پر ہجرت اور راہ خدا میں جہاد کے لئے بیعت کرتا ہوں ۔ آپ (ص) نے فرمایا : اگر تیرے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہو تو تم واپس جاکر ان کے ساتھ نیکی اور احسان کرو ‘‘۔ اس روایت کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ والدین کے حق میں نیکی کرنا راہ خدا میں جہاد اور ہجرت کرنے کے مساوی ہے ۔

ولایت پورٹل: اسلام کی نظر میں والدین کا بڑا عظیم مرتبہ ہے۔اسی وجہ سے دین نے ان کے احترام پر خاص توجہ دی ہے۔ قارئین کرام ! آپ کچھ لمحات ہمارے ساتھ رہیئے آج ہم قرآن مجید کی آیات اور معصومین علیہم السلام سے منقول روایات کی روشنی میں والدین کے احترام پر کچھ معروضات آپ کی خدمت میں پیش کرنے جارہے ہیں ۔
قارئین ! قرآن مجید کا سورہ لقمان، مکہ مکرمہ میں نازل ہوا۔ اس میں ۳۴ آیات ہیں اس سورہ کی مرکزی و بنیادی تعلیمات توحید، معاد، دینی اعمال کی بجا آوری ہے ۔(۱) اور ان سب کے ساتھ ساتھ معاشرتی آداب اور لوگوں کو اجتماعی اخلاق کی رعایت کرنے کی بھی دعوت دی گئی ہے ۔ نیز اس سورہ میں جناب لقمان سے بھی چند حکمت آمیز کلمات وارد ہوئے ہیں اسی سبب اس سورہ کو سورہ لقمان کہا جاتا ہے۔
جناب لقمان نے اپنے بیٹے کے جہاں بہت سی دیگر نصیحتیں کی ہیں وہیں والدین کے ساتھ احسان کرنے پر بھی خصوصیت کے ساتھ اپنی نصیحت میں شامل کیا ہے۔(۲)
والدین کا احترام
قرآن مجید انسان کو یہ دستور دیتا ہے کہ وہ اپنے والدین کی ہر حال میں قدر دانی اور احترام کرے چاہے ان کا مسلک و مذہب کوئی بھی ہو ۔ قرآن مجید اس طرح کی نصیحتوں کا آغاز ’’وصینا‘‘۔ کہکر کرتا ہے جس سے صاف طور پر واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن مجید کی نظر میں یہ موضوع کتنا اہم ہے اور والدین کے ساتھ نیکی و احسان کو خداوند عالم کے شکر کے بعد بیان کرتا ہے ۔(۳)
اسی طرح قرآن مجید کی دیگر آیات میں ارشاد ہوتا ہے کہ : ہم نے بنی اسرائیل سے یہ عہد لیا کہ وہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی و احسان سے پیش آئیں ‘‘۔(۴)
اور حضرت یحیی (ع) کو اپنے والدین کے حقوق کی رعایت کرنے کی خاطر قرآن ان کی تعریف بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے :’’ وہ(یحییٰ ) اپنے والدین کی نسبت نیکی کرنے والے اور خوش اخلاق تھے  اور انہوں نے کبھی ان کی نافرمانی نہیں کی‘‘۔(۵)
اپنے والدین کے سایہ عطوفت سے دوری کا غم ہمیشہ سرکار ختمی مرتبت(ص) کو ستاتا تھا اور آپ (ص) ہمیشہ یہ تمنا کرتے تھے کہ اے کاش ! آپ کے والدین زندہ ہوتے اور آپ ان کی خدمت کرکے مزید خدا کی رضا حاصل کر پاتے ۔(۶)
پس مندرجہ بالا آیات و روایت کی روشنی میں ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جس طرح پروردگار عالم ، حقیقی طور پر نعمتوں کو عطا کرنے والا ہے اسی طرح والدین انسان کے حق میں نعمتوں کے حصول کا اہم ذریعہ محسوب ہوتے ہیں پس ہمیں ہر آن ان کا احترام کرنا چاہیئے اور ان کی قدر کرنی چاہیئے اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو اس سے اللہ کا غضب بھڑک جاتا ہے اور یہ ایک نا پسندیدہ امر ہے۔
والدین کے احترام کا ایک اہم طریقہ
والدین کے شکریہ اور ان کی قدردانی و احترام کے جہاں بہت سے طریقے روایات میں بیان ہوئے ہیں ان میں سب سے اہم طریقہ جسے تمام لوگوں کو سیکھنا چاہیئے یہ ہے کہ ہمیشہ اپنے ان کے لئے اچھے کلمات اور میٹھی زبان کا استعمال کیا ۔ اس کے ذریعہ والدین اور اولاد کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہونے کے ساتھ ساتھ یہ چیز پروردگار عالم خوشنودی کا سبب بھی قرار پاتی ہے ۔چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلان اس کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں :’’ والدین کے ساتھ نیکی کرو اور ان کے ساتھ اچھے اور نرم لہجہ میں ان سے باتیں کرو اور جو ان کے لئے ضروری ہو وقت سے پہلے ان کی ضرورت کو پورا کرو۔(7)
والدین کے احترام کی برکتیں
اہل بیت(ع) سے منقول روایات کی روشنی میں اپنے والدین کا احترام اور ان کی زحمات پر ان کا شکریہ و قدردانی کرنے سے اولاد کو بہت سی برکتیں اللہ کی طرف سے نصیب ہوتی ہیں چنانچہ ہم ذیل میں چند ایک کی طرف مختصر طور پر اشارہ کر رہے ہیں :
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:’’ ایک شخص پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ(ص) میں آپ کے ہاتھ پر ہجرت اور راہ خدا میں جہاد کے لئے بیعت کرتا ہوں ۔ آپ (ص) نے فرمایا : اگر تیرے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہو تو تم واپس جاکر ان کے ساتھ نیکی اور احسان کرو ‘‘۔  اس روایت کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ والدین کے حق میں نیکی کرنا راہ خدا میں جہاد اور ہجرت کرنے کے مساوی ہے ۔(۸)
ایک دوسری حدیث میں چھٹے امام فرماتے ہیں :’’ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا سانسیں آسانی سے نکلیں اسے چاہیئے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحم اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرے ۔ اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ اپنے آخری وقت میں سکون و آرام محسوس کرے گا اور اس دنیاوی زندگی میں فقر و تنگی رزق میں گرفتار نہیں ہوگا ۔ اس حدیث کی روشنی میں سمجھ میں آتا ہے کہ والدین کے ساتھ نیکی کرنے سے جانکنی کا وقت انسان کے پر آسان ہوجاتا ہے ۔(۹)
والدین سے نیکی نہ کرنے کا انجام
جیسا کہ ہم نے اس مضمون کے گذشتہ پیراگراف میں والدین کے ساتھ نیکی و احسان پر روشنی ڈالی اور عرض کیا کہ والدین کے ساتھ احسان کرنے سے اللہ کی برکتیں انسان کے شامل حال ہوتی ہیں اسی طرح وہ افراد جو اپنے والدین کے ساتھ نیکی و احسان نہیں کرتے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق کا مظاہرہ نہیں کرتے تو لازمی طور پر اللہ کی برکتیں ایسے لوگوں سے اٹھا لی جاتی ہیں اور ان کی زندگی برکتوں سے خالی ہوجاتی ہیں ایسے لوگ لطف الہی سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ اجتماعی حقوق سے بھی محروم ہوجاتے ہیں جیسا کہ امام جعفر صادق(ع) نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ چند گروہ کو سلام نہ کیا کرو :
۱۔ شراب پینے والوں کو
۲۔جوا کھیلنے والوں کو
۳۔ناچنے گانے والوں کو
۴۔کافروں کو
۵۔ جو اپنی ماں کو گالی دیں
۶۔ ایسے شاعر جو ناحق شاعری کرتے ہوں ۔(۱۰)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات :
۱۔المیزان، ج16، ص209۔
۲۔تفسیر نمونہ، ج17، ص5-6۔
۳۔نساء/36۔
۴۔بقره/83۔
۵۔مریم/14۔
۶۔کنز العمال، ج16، ص470۔
۷۔اسراء/23۔
۸۔مستدرک الوسائل، ج15، ص199۔
۹۔روضۃ الواعظین، ج2، ص367۔
۱۰۔خصال شیخ صدوق، ج1، ص330 ۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین