Code : 2094 32 Hit

دلی میں ہندو لڑکے کا مسلمان سمجھ کر قتل

ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں ساحل نامی ہندو لڑکے کو مسلمان سمجھ کر قتل کردیا گیا۔

ولایت پورٹل:ہندوستان کے دارالحکومت دہلی کے علاقے جعفرآباد میں ایک واقعہ پیش آیا جس میں کچھ ہندو انتہا پسندوں نے 23 سالہ ساحل نامی ہندو لڑکے کو مسلمان سمجھ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا،ساحل کے والد سُنیل سنگھ کا کہنا ہے کہ ’میرا بیٹا اپنے دوست کی سالگرہ میں سے گھر واپس آرہا تھا تو راستے میں سنجے چندربھان اور اُس کے بیٹے نے ساحل کو روکا اور پوچھا کہ تُم پنڈتوں کی گلی سے کیوں جا رہے ہو؟،ساحل کے والد کے مطابق سنجے چندربھان نشے کی حالت میں تھا، جب ساحل نے اُس کے سوال کا جواب نہیں دیا تو سنجے نے اُس کی موٹر سائیکل کی چابی نکال لی،مقتول کے والد نے بتایا کہ جب میرا بیٹا چابی واپس لینے لگا تو اُس کے دوست نے ساحل کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ساحل ہم کل آکر اِن کا مقابلہ کریں گے، ساحل کا نام سنتے ہی سنجے کو لگا کہ یہ مسلمان ہے اور پھر اُس نے نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا،ساحل کی والدہ کے مطابق اُس کا بیٹا زخمی حالت میں گھر آیا اور اُس نے پُورا واقعہ بتایا، جس کے بعد وہ اپنی والدہ کی گود میں گِرا اور بے ہوش ہوگیا،نوجوان کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا،مقتول کے والدین کا کہنا ہے کہ ہمارے بیٹے کو صرف اِس وجہ سے قتل کیا گیا ہے کیونکہ وہ پنڈتوں والی گلی سے گُزر رہا تھا اور ساحل نام ہونے کی وجہ سے ہمارے بیٹے کو مسلمان سمجھ کر قتل کردیا،تاہم ہندوستانی پولیس کے مطابق یہ واقعہ مذہبی اور فرقہ وارانہ نہیں تھا، واقعے میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے،یاد رہے کہ گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو آگاہ کیا گیا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران انتہا پسند ہندووں کی طرف سے ہندوستان میں مسلمانوں پر حملوں کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے،اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو جنیوا میں اسکے 41ویں اجلاس کے دوران اس بات سے بھی آگاہ کیا گیا کہ ہندو انتہا پسند ہندوستان بھر میں گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کو بےدریغ قتل کر رہے ہیں،سینٹر فار افریقہ ڈیولپمنٹ اینڈ پراگراس کے پال کمار نے کہا کہ ماضی قریب میں کم از کم دس مسلمانوں کو مارا پیٹا گیا اور ان بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث مسلمانوں کے اندر عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے اور مذہبی تناؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے،انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں کم از کم دس مسلمانوں کو مارا پیٹا گیا اور ان بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث مسلمانوں کے اندر عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے اور مذہبی تناؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، انہوں نے کہا کہ قریباً دو ہفتہ قبل جھارکھنڈ میں ایک چوبیس سالہ مسلمان تبریز انصاری کو ہندو انتہا پسندوں نے ”جے شری رام “ کا نعرہ نہ لگائے پر گھنٹوں مارا پیٹا جس کے باعث ان کی جان چلی گئی،انہوں نے کہا کہ ہندو انتہا پسند کھلے عام پھر رہے ہیں اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں اور ہندوستانی ریاست اقلیتوں پر ہونے والے حملوں پر بالکل خاموش ہے ۔
تسنیم


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम