حزب اللہ کے میزائل ہمیں تباہ کر سکتے ہیں؛صیہونی تجزیہ کار کا اعتراف

صیہونی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ تخمینے بتاتے ہیں کہ تل ابیب کسی بھی صورت میں حزب اللہ کے میزائلوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گا جس کی وجہ سے اس حکومت کے عہدہ داروں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

ولایت پورٹل:عرب امور کے صہیونی تجزیہ کار یونی بن مناحم نے کہا صیہونی سیاسی ذرائع کا اندازہ ہے کہ ا ن کی حکومت حزب اللہ کے میزائلوں پر حملہ نہیں کر رہی ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس سے بڑے پیمانے پر فوجی تصادم ہوسکتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کے ایک نقطے پر مار کرنے والے میزائلوں سے مقبوضہ فلسطین میں اسٹریٹجک اہداف اور تنصیبات ، جیسے تل ابیب میں الکرایا ہ میں وزارت جنگ کی عمارت ، دیمونا جوہری تنصیبات ، بین گوریون ہوائی اڈے اور اسی طرح کے دوسرے اہداف کو خطرہ ہے ۔
بن مناحم نے مزید کہا کہ اگر ہم ان  میں 1100ایرانی بیلسٹک میزائل بھی  شامل کریں تو مقبوضہ فلسطین کی تمام اسٹریٹجک تنصیبات ان میزائلوں کی زد پر ہوں گی، انہوں نے مزید کہا کہ حماس اور جہاد اسلامی تنظیمیں اسرائیلی حکومت کی خاموشی کو جانچ رہی ہیں جبکہ  صیہونی فوجیوں کے درمیان حزب اللہ کا مقابلہ کرنے کا رجحان ختم ہورہا ہے ،درایں اثناصیہونی سکیورٹی کے سینئر ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے پوائنٹ ٹو پوائنٹ مار کرنے والے میزائلوں کا غزہ تک پہنچنے کامعاملہ یقینی ہے صرف وقت طے کرنے کی بات ہے،قابل ذکر ہے کہ آج بھی صہیونی حکومت کے ایک ریٹائرڈ جنرل نے حزب اللہ کے  پوائنٹ ٹو پوائنٹ مار  کرنے والےمیزائلوں کے مقابلہ میں اپنے جنگی طیاروں کے ناکارہ ہونے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسئلہ مستقبل کی ممکنہ جنگ میں ہماری حکومت کے لئے تباہی کا باعث ہوگا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین