Code : 3173 79 Hit

حضرت زینب سلام اللہ علیہا

حضرت زینب(س) کی سب سے اہم خصوصیت جسے سید نور الدین جزائری نے خصائص زینبیہ میں ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ آپ قرآن مجید کی مفسرہ تھیں۔ اور وہ ایک روایت کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جن دنوں امام علی (ع) کوفہ میں رہتے تھے انہیں دنوں حضرت زینب(س) کوفہ کی عورتوں کے لئے قرآن مجید کی تفسیر بیان کیا کرتی تھیں۔ایک دن امام علی(ع) گھر میں داخل ہوئے دیکھا حضرت زینب(س) سورہ مریم کے آغاز میں آنے والے حروف مقطعات کی تفسیر بیان کررہی تھیں ۔ آپ نے فرمایا: بیٹی ! ان حروف کی تفسیر میں بیان کرتا ہوں اور پھر آپ نے فرمایا: ان حروف میں اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑی مصیبت کو راز بنا کر رکھا ہے اور پھر آپ نے کربلا کی داستان کو بیان کردیا جسے سن کر بی بی بہت روئیں۔

ولایت پورٹل: ایک روایت کے مطابق حضرت زینب(س) ۵ جمادی الاول کو مدینہ میں پیدا ہوئیں۔آپ کے والد ماجد حضرت علی(ع) اور والدہ حضرت زہرا(س) تھیں۔ آپ ابھی صرف پانچ برس کی تھیں کہ آپ کی والدہ نے شہادت پائی۔ آپ نے اپنی زندگی میں بہت سی مصیبتوں کا سامنا کیا ، والدین کی شہادت سے لیکر  بھائیوں اور اپنے بچوں کی شہادت تک آپ نے دیکھی اور اسلام کی راہ میں قیدخانے کی صعوبتوں کو بھی برداشت کیا۔ آپ کی زندگی کی یہی صعوبتیں اور مشکلات تھیں جنہوں نے آپ کے صبر تحمل اور حوصلہ کو پوری دنیا کے لئے مثال بنا دیا۔(۱)
آپ کے بہت سے القاب ہیں جن میں صدیقہ صغریٰ ، عالمہ، محدثہ،عارفہ اور ثانی زہرا بہت مشہور ہیں آپ کے صفات اور آپ کے خصوصیات دیکھ کر آپ کو عقیلہ بنی ہام بھی کہا جاتا ہے۔آپ کی شادی جناب جعفر طیار کے بیٹے عبداللہ سے ہوئی تھی۔آپ کے دو بیٹے عون و محمد کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ دین کی حفاظت کی خاطر کربلا میں شہید کردیئے گئے تھے۔(۲)
عام طور سے بچوں کے نام ان کے والدین رکھتے ہیں لیکن حضرت زینب(س) کا نام نامی آپ کے نانا حضرت محمد مصطفیٰ (ص) نے رکھا تھا ۔
جب آپ کی ولادت ہوئی تو پیغمبر اکرم(ص) سفر پر گئے ہوئے تھے جب آپ واپس تشریف لائے اور جیسے ہی آپ کو حضرت زینب(س) کی ولادت کی خبر ملی آپ فوراً اپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر تشریف لائےاور اس نومولود بچی کو آغوش میں لیکر پیار کیا اور اسی وقت آپ نے اس بچی کا نام زینب رکھا۔ یعنی اپنے باپ کی زینت ۔(۳)
کسی بھی انسان کی شخصیت کے معیار کے لئے اس کا علم اور معرفت اہم چیز ہوتی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۳۱ اور ۳۲ میں حضرت آدم علیہ السلام کے بارے بھی یہی کہا گیا ہے ۔ اور سب سے اہم علم اور معرفت وہ ہے جو ڈائریکٹ اور بلا واسطہ اللہ سے حاصل کیا جائے جسے شریعت کی اصطلاح میں علم لدنی کہا جاتا ہے ، حضرت زینب(س) کا علم بھی کچھ اسی طرح کا تھا جیسا کہ امام سجاد علیہ السلام نے آپ کو عالمہ غیر معلمہ یعنی ایسی عالمہ جس نے دنیا میں کسی کے سامنے زانوئے تلمذ طئے نہ کیا ہو۔(۴)
ہر عورت کے لئے سب سے بڑا کمال اور سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ اس کی پاکیزگی اور عفت پر کوئی انگشت نہ اٹھا سکے۔ حضرت زینب(س) نے پاکیزگی کا سبق اپنے والد سے سیکھا جیسا کہ یحیٰ مازندرانی نے روایت کی ہے راوی کہتا ہے کہ میں نے کئی برسوں تک مدینہ میں امام علی(ع) کی خدمت کی ہے اور میرا گھر حضرت زینب(س) سے بالکل قریب تھا لیکن کبھی نہ میں نے ان کو دیکھا اور نہ کبھی ان کی آواز سنی ۔
آپ جب بھی اپنے نانا کی قبر کی زیارت کو جانا چاہتی تو رات کے سناٹے میں جاتیں اور آپ کے ساتھ آگے آگے امام علی(ع) چلتے اور داہنے امام حسن(ع) اور بائیں امام حسین علیہ السلام چلتے اور جب پیغمبر اکرم(ص) کی قبر کے قریب پہونچتے تو پہلے امام علی(ع) جاکر چراغ کی روشنی کو کم کردیتے تھے ۔ ایک بار امام حسن (ع) نے اپنے والد سے اس کی وجہ دریافت کی تو آپ نے جواب دیا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں کوئی نامحرم زینب(س) کو نہ دیکھ لے۔
آپ نے مشکل حالات اور گھٹن کے ماحول میں بھی اپنی پاکیزگی اور عفت کا خیال رکھا ، کوفہ و شام جیسے گھٹن کے ماحول میں جہاں آپ کے سر پر چادر نہیں تھی لیکن پھر بھی آپ اپنے ہاتھوں سے اپنے چہرے کو چھپائے تھیں ۔(۵)
حضرت زینب(س) کی سب سے اہم خصوصیت جسے سید نور الدین جزائری نے خصائص زینبیہ میں ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ آپ قرآن مجید کی مفسرہ تھیں۔ اور وہ ایک روایت کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جن دنوں امام علی (ع) کوفہ میں رہتے تھے انہیں دنوں حضرت زینب(س) کوفہ کی عورتوں کے لئے قرآن مجید کی تفسیر بیان کیا کرتی تھیں۔ایک دن امام علی(ع) گھر  میں داخل ہوئے دیکھا حضرت زینب(س) سورہ مریم کے آغاز میں آنے والے حروف مقطعات کی تفسیر بیان کررہی تھیں ۔ آپ نے فرمایا: بیٹی ! ان حروف کی تفسیر میں بیان کرتا ہوں  اور پھر آپ نے فرمایا: ان حروف میں اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑی مصیبت کو راز بنا کر رکھا ہے اور پھر آپ نے کربلا کی داستان کو بیان کردیا جسے سن کر بی بی بہت روئیں۔ شیخ صدوق بنا بیان کرتے ہیں  کہ امام سجاد علیہ السلام کے بیماری کے وقت امام حسین علیہ السلام نے بی بی کو یہ اجازت مرحمت فرمائی تھی کہ جو لوگ شرعی مسائل پوچھیں آپ ان کا جواب دیجئے گا ۔
شیخ طبرسی نے نقل کیا ہے کہ حضرت زینب(س) نے بہت سی احادیث اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہرا(س) سے نقل کی ہیں اسی طرح عماد المحسنین میں نقل ہوا ہے کہ آپ نے اپنی والدہ، والد، بھائیوں ، ام سلمہ ، ام ہانی اور بھی دیگر لوگوں سے بہت سی احادیث روایت کی ہیں ۔ اور جن لوگوں نے آپ سے روایات نقل کی ہیں ان کے اسماء یہ ہیں : ابن عباس، امام سجاد(ع)،عبداللہ بن جعفر ۔
اسی طرح فاضل دربندی اور بھی دوسرے بہت علماء نے حضرت زینب(س) کے بارے میں یہ بات بھی لکھی ہے کہ حضرت زینب(س) کے پاس علم المنایا و البلایا  تھا یعنی آپ کے پاس وہ علم تھا جس سے آنے والے زمانے میں واقع ہونے والے واقعات کا علم ہوتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ ریحان الشریعۃ،ج۳ ، ص ۴۶۔
۲۔ ریحان الشریعۃ، ج۳ ، ص ۲۱۰۔
۳۔ ریحان الشریعۃ، ج۳ ، ص ۳۹ ۔
۴۔ منتھی لاعمال، ج۱ ، ص ۲۹۸ ۔
۵۔ الخصائص زینبیۃ ، ج۳۴۵۔



1
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین