Code : 1364 29 Hit

شریک کار رسالت؛حضرت خدیجۃ الکبری(س)

آپ کے تاریخی اقدامات میں ،یتیم عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقد اور مرسل اعظم کی زوجیت میں آنے کے بعد اسلامی تاریخ کا آپ کے گرد طواف کرنا ،حضور پر سب سے پہلے ایمان لانا،سب سے پہلے نبوت کے ساتھ نماز ادا کرنا،پچیس برس مسلسل آواز وحی کو سننا،خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طیب و طاہر نسل مبارک کی امین، کوثر فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیھا کو گود میں لے کر تین سال تک شعب ابی طالب کی قید اور ساری جمع پونجی اسلام کی بنیادوں پر خرچ کردینے والی تاریخ ساز خاتون،سیدہ خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیھا ہیں۔

ولایت پورٹل: تاریخ عالم کا رخ بدلنے میں جن خواتین نے اہم کردار ادا کیا ہے ان میں سرفہرست اور سنہرے حروف سے لکھا گیا مقدس اسم گرامی ام الزہراء ،سیدہ خدیجۃالکبریٰ کا ہے۔ ام المؤمنین،سیدہ خدیجۃالکبریٰ عرب کی معزز ترین اور دولت مند ترین خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ علم و فضل اور ایمان و ایقان میں بھی نمایاں مقام رکھتی ہیں۔پیغمبر اسلام(ص) آپ  کی رفاقت اور غمگساری کو آخری سانس تک نہ بھول پائے اور فرمایا کہ خدیجہ جیسی رفیقہ مجھے کوئی اور نہ ملی۔
افتخار عرب کے ہمالیہ کی دو بلند ترین چوٹیاں تھیں،ایک شیخ بطحا حضرت عمران(ابوطالب)  اور دوسری ملیکۃالعرب سیدہ خدیجۃالکبریٰ ہیں جو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں اور دوران جاہلیت میں آپ کو طاہرہ اور سیدہ قریش جیسے القاب سے یاد کیا جاتا تھا ۔ عزت و احترام کے علاوہ سیدہ خدیجہ دولت و ثروت میں بھی اپنا نظیر نہ رکھتی تھیں۔ذرائع آمد و رفت اور وسائل نقل و حمل کے حد درجہ محدود اور غیر ترقی یافتہ ہونے کے باوجود نہ صرف عربی حدود بلکہ عرب سے باہر دیگر ممالک تک آپ کا سلسلۂ تجارت وسیع تھا۔دنیا قومیت میں محدود تھی اور آپ کی تجارت بین الاقوامی تھی۔
سیدہ خدیجہ ،عزت و احترام ،دولت و ثروت اور علم و عرفان میں بلند منزلت اور بین الاقوامی تجارت میں تن تنہا مالک تھیں۔آپ تاریخ اسلام میں نمایاں اور مرکزی مقام رکھتی ہیں۔شرفِ زوجیت رسول اعظم(ص) سے پہلے بھی آپ تاریخ ساز شخصیت تھیں اور پورے عرب میں آپ کا کوئی مثل نہ تھا۔عرب،جہاں عورت کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا وہاں ایسی عورت کا وجود جس نے تجارت میں مردوں کو گرد کارواں بنا دیا اور گھر میں بیٹھ کر تجارت کرنا اور اتنے بڑے تجارتی نظام کو ترقی دینا اور عورت ہو کر مختلف دیار و امصار میں پھیلی ہوئی دولت و تجارت کی دیکھ بھال کرنا اور پھر عورت کی تضحیک کرنے والے معاشرے کے تمام سربراہوں اور بادشاہوں کے غرور کو مٹی میں ملا دینا ایک تاریخ ساز اقدام تھا۔
دور جاہلیت میں بھی آپ مکارم اخلاق،صفات حمیدہ اور اعلیٰ انسانی اقدار کی مالکہ تھیں اور ان ایام میں بھی آپ کو طاہرہ اور سیدۂ قریش کہا جاتا تھا۔آپ کی فکر و نظر طاہر، عقل و شعور طاہر، تہذیب و تمدن طاہر، خیالات و تصورات طاہر اور آپ ابتداء سے انتہا تک طاہرہ تھیں اور ہر اعتبار سے سیدۂ قریش تھیں۔
سیدنا طہٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایسی ہی رفیقۂ حیات شایان شان تھیں جو خود ہر اعتبار سے طاہرہ ہوں۔ مزاج کی یک رنگی، خیالات کی یکجہتی،فکر و نظر اور قول و فعل کی ہم آہنگی سیدہ طاہرہ اور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے مثال ازدواجی زندگی کا سنہرا باب ہے۔ شیعوں کے عقائد کے مطابق ملکۃ العرب سیدۃ خدیجۃ الکبری پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بہت عزیز تھیں۔
آپ کے تاریخی اقدامات میں ،یتیم عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقد اور مرسل اعظم  کی زوجیت میں آنے کے بعد اسلامی تاریخ کا آپ کے گرد طواف کرنا ،حضور پر سب سے پہلے ایمان لانا،سب سے پہلے نبوت کے ساتھ نماز ادا کرنا،پچیس برس مسلسل آواز وحی کو سننا،خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طیب و طاہر نسل مبارک کی امین، کوثر فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیھا کو گود میں لے کر تین سال تک شعب ابی طالب کی قید اور ساری جمع پونجی اسلام کی بنیادوں پر خرچ کردینے والی تاریخ ساز خاتون،سیدہ خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیھا ہیں۔
سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کی سیرت مبارکہ پر آدمیت کو ناز ہے کہ آپ نے انسانیت کی اعلیٰ اقدار کی نگہداشت فرمائی۔ اسلام کو ناز ہے کہ انہوں نے اس وقت اسے قبول فرمایا جب کوئی اسے جاننے اور ماننے کو تیار نہ تھا۔دنیا کی ہر شریف بیٹی،اطاعت گزار بیوی اور مقدس ماں کو ناز ہے کہ انہوں نے ہر دور میں عورت کی شرم و حیا،غیرت و خودداری اور پیار و محبت کے جوہر کا تحفظ کیا۔
جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا روزانہ ہزاروں درہم غرباء و مساکین میں تقسیم فرماتی تھیں۔آپ کے بعد سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، تواتر سے غرباء و مساکین کی امداد کرتے اور فرمایا کرتے:’’خدیجہ نے مجھے ان لوگوں سے حسن سلوک کرتے رہنے کی وصیت کی تھی‘‘۔
علمی مذاکرے
عزت و دولت کی مالک خدیجہ علم و عرفان کی زندگی بسر فرما رہی تھیں۔ دنیا جہالت و جاہلیت کے اندھیروں میں تھی اور کتب سماوی اور علوم لدنی کے درمیان سیدہ خدیجہ کی شمع حیات روشن تھی۔آپ علمی مباحثہ فرمایا کرتی تھیں اور جید علماء کتب آسمانی اور احبار یہود سے آپ کے علمی مباحث جاری رہتے تھے۔آپ کے خاندان کو صرف سیادت و سروری ہی کا فخر حاصل نہیں تھا بلکہ اس خاندان میں زمانۂ قدیم سے علم بھی خیمہ زن تھا۔ورقہ بن نوفل کی شخصیت ،غیر معروف نہیں ہے ۔آپ،سیدہ خدیجہ طاہرہ کے چچا زاد بھائی تھے اور کتب سماوی کے جید عالم تھے۔ ان کے ساتھ علمی مذاکرے،آسمانی کتابوں کے تذکرے اور صحف انبیاء کے چرچے ہوتے رہتے تھے۔آپ کی تلاش و جستجو، حقیقت کی دریافت کا شوق اور مسلسل تگ و دو اور غور و فکر کی نورانی تڑپ صفحات تاریخ میں بکھری نظر آتی ہے۔
وفات
مصادر و ذرائع میں منقول ہے کہ سیدہ خدیجہ (س)، سن 10 بعثت (یعنی 3 سال قبل از ہجرت مدینہ) ہے۔ زیادہ تر کتب میں ہے کہ وفات کے وقت آپ کی عمر 65 برس تھی۔ابن عبدالبر، کا کہنا ہے کہ خدیجہ (س) کی عمر بوقت وفات 64 سال چھ ماہ، تھی۔ بعض مصادر میں ہے کہ حضرت خدیجہ(س) کا سال وفات ابو طالب (ع) کا سال وفات ہی ہے۔ ابن سعد کا کہنا ہے کہ حضرت خدیجہ (س) ابو طالب (ع) کی رحلت کے 35 دن بعد رحلت کر گئی ہیں۔اور بعض دوسرے مؤرخین نے کہا ہے کہ آپ کی وفات کی صحیح تاریخ رمضان سن 10 بعثت ہے۔ اور رسول اللہ (ص) نے آپ کو اپنی ردا اور پھر جنتی ردا میں کفن دیا اور مکہ کے بالائی حصے میں واقع پہاڑی (کوہ حجون) کے دامن میں واقع قبرستان جنت المعلی میں سپرد خاک کردیا گیا۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम