Code : 3800 11 Hit

حضرت امام علی رضا علیہ السلام اور عبادت و بندگی

میں نے سفر یا حضر میں نماز ضحی پڑھتے نہیں دیکھا سفر میں روزہ بالکل نہیں رکھتے تھے ہر دعا سے پہلے محمد و آل محمد(ص) پر صلوات بھیجتے تھے نماز اور غیر نماز میں صلوات بہت زیادہ پڑھتے تھے راتوں میں قرآن کی تلاوت زیادہ کرتے تھے جب کسی ایسی آیت پر پہونچتے تھے جس میں جنت یا دوزخ کا تذکرہ ہوتا تھا تو گریہ فرماتے تھے اور خداوند عالم سے جنت کی درخواست کرتے تھے اور جہنم سے پناہ مانگتے تھے تمام نمازوں میں بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے کہتے تھے جب قل ھو اللّٰہ احد پڑھتے تھے تو چپکے سے اللہ احد کہتے تھے قل ھو اللّٰہ احد سے کی قرأت کے بعد تین مرتبہ کذالک اللّٰہ ربنا کہتے تھے۔

ولایت پورٹل: امام رضا(ع) اپنے آباء و اجداد کی طرح عبادت میں بہت زیادہ سعی فرماتے تھے۔ اپنی واجب نمازیں اول وقت فضیلت میں انتہائی خضوع و خشوع کے ساتھ انجام دیتے تھے۔ نافلہ نمازوں کی بھی پابندی کرتے تھے۔ تہجد شب زندہ داری اور نماز شب کو کبھی ترک نہیں کرتے تھے ۔دعا، ذکر الٰہی اور قرأت قرآن میں مشغول رہتے تھے آپ کی عبادت کے سلسلہ میں بہت سی چیزیں نقل ہوئی ہیں ہم یہاں نمونے کے طور پر صرف بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
رجاء ابن ابی ضحاک بیان کرتا تھا: مامون نے مجھے حکم دیا کہ علی ابن موسیٰ الرضا (ع)کو مدینہ سے طوس لے کر آؤں اس کا حکم تھا کہ آپ کو بصرہ، اہواز اور فارس کی طرف سے سفر کرایا جائے اور قم کی طرف سے نہ گذارا جائے مجھے حکم دیاگیا تھا کہ میں رات دن آپ کی نگرانی کروں جب تک شہر ’’مرو‘‘ نہ پہونچ جائیں۔خدا کی قسم میں نے ان سے زیادہ متقی، ان سے زیادہ ذکر الٰہی کرنے والا اور ان سے زیادہ خدا ترس کسی اور کو نہیں دیکھا۔
نماز صبح پڑھنے کے بعد مصلے پر بیٹھے رہتے تھے اور طلوع آفتاب تک’’ سبحان اللّٰہ،الحمد للہ، اللّٰہ اکبر اور لا الہ الا اللّٰہ‘‘ کہتے رہتے تھے اس کے بعد سجدہ میں چلے جاتے تھے اور سورج بلند ہونے تک سجدہ میں رہتے تھے۔
اس کے بعد ظہر تک لوگوں کے لئے حدیث بیان کرتے تھے اور ان کو موعظہ فرماتے تھے اس کے بعد تجدید وضوء فرما کے مصلائے عبادت پر چلے جاتے تھے۔
اذان ظہر کے بعد چھ رکعت نماز نافلہ ادا کرتے تھے پہلی رکعت میں سورۂ حمد اور سورۂ  ’’قل یاایہا الکافرون‘‘ کی تلات فرماتے تھے دوسری رکعت میں حمد و قل ھو اللہ احد پڑھتے تھے اور باقی چار رکعتوں میں بھی حمد اور قل ھو اللہ ہی پڑھتے تھے ہر دو رکعت کے بعد سلام پڑھتے تھے اور دوسری رکعت میں رکوع میں جانے سے پہلے قنوت پڑھتے تھے اس کے بعد اذان کہتے تھے اور دو رکعت نماز نافلہ پڑھتے تھے پھر اقامت کہہ کر ظہر کی نماز ادا کرتے تھے نماز ظہر کے بعد دوبارہ  ’’سبحان اللّٰہ، الحمد للہ، اللّٰہ اکبر اور لا الہ الا اللّٰہ‘‘  ۔کہتے تھے اور کچھ دیر تک کہتے رہتے تھے اس کے بعد سجدہ شکر بجا لاتے تھے اور سجدہ کی حالت میں سو مرتبہ شکراً للہ  کہتے  تھے اس کے بعد چھ رکعت نافلہ پڑھتے تھے جس کی دونوں رکعتوں میں حمد اور قل ھو اللہ پڑھتے تھے ہر دوسری رکعت میں قنوت پڑھتے تھے اس کے بعد اذان کہہ کر دو رکعت نماز نافلہ ادا کرتے تھے اور پھر اقامت کہہ کر نماز عصر ادا کرتے تھے عصر کی نماز کی تعقیبات میں بھی  ’’سبحان اللّٰہ، الحمد للہ، اللّٰہ اکبر اور لا الہ الا اللّٰہ‘‘ کہتے تھے جب تک خدا چاہے اس کے بعد سجدہ ٔ شکر میں چلے جاتے تھے اور سجدہ میں ستر مرتبہ ’’استغفر اللّٰہ سبحان اللّٰہ الحمد للہ اللّٰہ اکبر اور لا الہ الا اللّٰہ‘‘  کہتے تھے۔
جب مغرب کی نماز کا وقت ہو جاتا تھا تو تجدید وضوء کے بعد تین رکعت نماز مغرب ادا فرماتے تھے دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے قنوت پڑھتے تھے نماز کے بعد پھر ذکر  ’’سبحان اللّٰہ الحمد للہ و اللّٰہ اکبر و لا الہ الا اللّٰہ‘‘  کہتے تھے اور پھر سجدہ شکر میں چلے جاتے تھے سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد بغیر کسی سے بات کئے ہوئے چار رکعت نماز نافلہ دو سلام سے ادا کرتے تھے ہر دوسری رکعت میں قنوت پڑھتے تھے اور پہلی رکعت میں حمد و قل ھو اللہ اور دوسری رکعت میں حمد و قل ایھا الکافرون پڑہتے تھے نماز کے بعد بیٹھ کر تھوڑی دیر تعقیبات پڑھتے تھے اور پھر افطار فرماتے تھے۔
جب رات کا ایک تہائی حصہ گذر جاتا تھا تو چار رکعت عشاء کی نماز ادا کرتے تھے۔ دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے قنوت پڑھتے تھے نماز کے بعد مصلے پر بیٹھ کر کچھ دیر ذکر ’’سبحان اللّٰہ الحمد للہ اللّٰہ اکبر اور لا الہ الا اللّٰہ‘‘ کہتے تھے پھر سجدہ شکر میں جاتے تھے اس کے بعد آرام کے لئے بستر پر جاتے تھے رات کے آخری تہائی حصہ میں اٹھ جاتے تھے آپ کے زبان مبارک پر ذکر ’’سبحان اللّٰہ الحمد للہ واللّٰہ اکبر و لا الہ اللّٰہ اور استغفر اللّٰہ‘‘  ہوتا تھا مسواک کر تے تھے وضوء فرماتے تھے پھر نماز شب میں مشغول ہو جاتے تھے آٹھ رکعت نماز شب بجا لاتے تھے ہر دوسری رکعت میں سلام ہوتا تھا ہر نماز کی پہلی رکعت میں سورۂ حمد کے بعد تیس مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھتے تھے اس کے بعد چار رکعت نماز جعفر طیار دو سلام سے ادا فرماتے تھے دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے تسبیحات کے بعد قنوت پڑھتے تھے نماز جعفر طیار آپ کی نماز شب کا جز شمار ہوتی تھی اس کے بعد باقی دو رکعت نماز ادا کرتے تھے پہلی رکعت میں سورۂ حمد اور سورۂ ملک کی تلاوت فرماتے تھے دوسری رکعت میں سورۂ حمد اور سورۂ {ھل أتی علی الانسان حین من الدہر۔۔۔} کی تلاوت فرماتے تھے۔
اس کے بعد نماز شفع پڑھتے تھے ہر رکعت میں حمد کے بعد تین مرتبہ قل ھو اللّٰہ پڑھتے تھے دوسری رکعت میں قنوت پڑھتے تھے اس کے بعد اٹھ کر ایک رکعت نماز وتر بجا لاتے تھے اس میں سورہ حمد کے بعد تین مرتبہ سورۂ  ’’قل ھو اللّٰہ احد‘‘ اور ایک مرتبہ قل اعوذ برب الفلق اور ایک مرتبہ قل اعوذ برب الناس پڑہتے تھے رکوع سے پہلے قنوت میں یہ دعا پڑھتے تھے:’’اللّٰہم صلی علی محمد و آل محمد اللّٰہم اہدنا فیمن ہدیت و عافنا فیمن عافیت و تولنا فیمن تولیت و بارک لنا فیما اعطیت و قنا شر ما قضیت فانک تقضی و لا یقضی علیک انہ لا یذل من والیت و لا یعز من عادیت تبارکت ربنا و تعالیت‘‘۔ اس کے بعد ستر مرتبہ ’’استغفر اللّٰہ‘‘ اور’’اسئلہ التوبۃ‘‘۔ فرماتے تھے سلام کے بعد بیٹھ کر تھوڑی دیر تک تعقیب پڑھتے تھے۔
طلوع فجر کے وقت دو رکعت نماز نافلہ نماز صبح ادا کرتے تھے پہلی رکعت میں سورۂ حمد اور سورۂ قل ایہا الکافرون اوردوسری رکعت میں سورہ حمد اور قل ھو اللّٰہ احد، پڑھتے تھے طلوع فجر کے بعد اذان و اقامت کہتے تھے اور دو رکعت نماز صبح بجالاتے تھے نماز کے بعد بیٹھ کر طلوع آفتاب تک تعقیبات پڑھتے تھے اس کے بعد سجدہ شکر میں چلے جاتے تھے اور سورج بلند ہونے تک سجدہ میں رہتے تھے۔
نماز واجب کی پہلی رکعت میں سورۂ حمد اور انا انزلناہ پڑھتے تھے اور دوسری رکعت میں سورہ حمد اور قل ھو اللّٰہ احد، کی تلاوت فرماتے تھے جمعہ کے دن کی نماز صبح، نماز ظہر اور نماز عصرمیں سورۂ حمد کے بعد سورہ جمعہ اور سورۂ منافقون کی تلاوت فرماتے تھے۔
شب جمعہ نماز عشاء کی پہلی رکعت میں سورۂ حمد اور سورۂ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورۂ حمد کے بعد سورۂ ’’سبح اسم ربک الاعلیٰ‘‘۔ کی تلاوت کرتے تھے۔
دوشنبہ اور پنج شنبہ کو نماز صبح کی پہلی رکعت میں سورۂ حمد اور سورۂ دہر ھل اتی علی الانسان کی تلاوت فرماتے تھے اور دوسری رکعت میں سورۂ حمد سورۂ دہر اور سور ۂ غاشیہ کی تلاوت فرماتے تھے۔
نماز مغرب و عشاء اور نماز شب، نماز شفع ، نماز وتر اور نماز صبح میں بلند آواز سے قرأت کرتے تھے اور نماز ظہر و عصر میں آہستہ قرأت فرماتے تھے تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ حمد کی جگہ تسبیحات اربعہ سبحان اللّٰہ و الحمد للہ و لا الہ الا اللّٰہ و اللّٰہ اکبر پڑھتے تھے۔
آپ کی نمازوں میں قنوت کی دعا یہ تھی:’’رب اغفر و ارحم و تجاوز عما تعلم انک انت الاعز الاجل الاکرم‘‘۔
جس جگہ دس دن رکنے کا ارادہ ہوتا تھا روزہ رکھتے تھے نماز مغرب کے وقت پہلے واجب نمازیں ادا کرتے تھے اس کے بعد افطار فرماتے تھے۔
سفر میں واجب نمازیں دو رکعت ادا کرتے تھے سوائے نماز مغرب کے جو تین رکعت ہے۔
سفر و حضر کسی بھی حال میں نافلۂ مغرب و عشاء، نماز شب، شفع، وتر اور نافلہ صبح ترک نہیں کرتے تھے لیکن سفر میں ظہر و عصر کی نافلہ نہیں پڑھتے تھے قصر نمازوں کے بعد تیس مرتبہ سبحان اللّٰہ و الحمد للہ و لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر،کہتے تھے اور فرماتے تھے یہ ذکر نماز کی کمی کو پورا کردیتا ہے۔
میں نے سفر یا حضر میں نماز ضحی پڑھتے نہیں دیکھا سفر میں روزہ بالکل نہیں رکھتے تھے ہر دعا سے پہلے محمد و آل محمد(ص) پر صلوات بھیجتے تھے نماز اور غیر نماز میں صلوات بہت زیادہ پڑھتے تھے راتوں میں قرآن کی تلاوت زیادہ کرتے تھے جب کسی ایسی آیت پر پہونچتے تھے جس میں جنت یا دوزخ کا تذکرہ ہوتا تھا تو گریہ فرماتے تھے اور خداوند عالم سے جنت کی درخواست کرتے تھے اور جہنم سے پناہ مانگتے تھے تمام نمازوں میں بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے کہتے تھے جب قل ھو اللّٰہ احد پڑھتے تھے تو چپکے سے اللہ احد کہتے تھے قل ھو اللّٰہ احد سے کی قرأت کے بعد تین مرتبہ کذالک اللّٰہ ربنا کہتے تھے جب سورہ حجد (قل یا ایھا الکافرون) کی تلاوت کرتے تھے تواس کے بعد تین مرتبہ فرماتے تھے ربی اللّٰہ و دینی الاسلام جب سورۂ و التین اور والزیتون کی تلاوت فرماتے تھے تو قرأت کے بعد بلی و انا ذالک من الشاہدین کہتے تھے جب سورۂ لا اقسم بیوم القیامۃ کی تلاوت فرماتے تھے تو اس سے فارغ ہونے کے بعد سبحانک اللّٰہم بلی  کہتے تھے۔
 جب سورۂ جمعہ کی تلاوت فرماتے تھے اور آیت  قل ما عند اللّٰہ خیر من اللہو و من التجارۃ و اللّٰہ خیر الرازقین پر پہونچتے تھے تو  ’’للذین اتقوا‘‘ کہتے تھے۔
سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد ’’الحمد للہ رب العالمین‘‘ کہتے تھے۔
جب سورۂ اعلیٰ کی تلاوت کرتے تھے تو آہستہ سے  ’’سبحان ربی الاعلیٰ‘‘  کہتے تھے جب آیت  ’’یا ایہا الذین آمنوا‘‘ پڑھتے تھے تو آہستہ سے لبیک اللٰہم لبیک کہتے تھے۔ (1)
ابراہیم ابن عباس کا بیان ہے کہ ابو الحسن رضا (ع)رات میں بہت کم سوتے تھے اور زیادہ تر بیدار رہتے تھے اکثر صبح تک عبادت میں مصروف رہتے تھے روزے بہت رکھتے تھے مہینہ کے تین روزے آپ سے ترک نہیں ہوتے تھے آپ فرماتے تھے کہ ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھنا گویا پوری عمر روزے رکھنا ہے۔(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔بحار الانوار، ج۴۹، ص۹۱۔
۲۔بحار الانوار، ج۴۹، ص۹۱؛ الفصول المہمہ، ص۲۳۳ ۔

انتخاب و ترجمہ: سید حمیدالحسن زیدی (الاسوہ فاؤنڈیشن سیتاپور)


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین