Code : 3422 30 Hit

جناب خدیجہ(س) حامی رسالت

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا شمار سرکار رسالتمآب(ص) کی بعثت سے پہلے بھی آپ کے مددگاروں میں ہوتا تھا البتہ اعلان رسالت کے بعد تو آپ کی ساری دولت صدائے توحید کے بلند ہونے اور رسالت کا پیغام پہونچانے میں کام آگئی اور صرف یہی نہیں کہ آپ نے اپنے شوہر نامدار سرکار ختمی مرتبت(ص) پر اپنا سب کچھ نچھاور کردیا بلکہ جب اللہ کے رسول(ص) نے یہ خبر آکر دی کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی توسب سے پہلے ایمان لانے والی ذات بھی جناب خدیجہ (س) کی ہی تھی۔

ولایت پورٹل: ام المؤمنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا پیغمبر اکرم(ص) کی ایسی مددگار تھیں کہ جنہوں نے اپنا سارا مال اور دولت آپ(ص) کی نبوت و رسالت پر نچھاور کردیا اور آپ ہی سے رسول اللہ(ص) کی نسل آگے بڑھی اور آج تک جاری و ساری ہے لہذا تاریخ اسلام  آپ کو ایک آئیڈیل اور مثالی ماں کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔
آپ کا تعلق عرب کے ایک شریف اور دولتمند گھرانے سے تھا اور آپ کے پاس بہت سی جائداد تھی اور آپ کے مال کے سبب بہت سے عرب کے لوگوں نے  تجارت کرکے دولتمند بننے کے خواب کو پورا کیا۔ آپ کی اپنے سماج و معاشرہ عزت و وقار کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کو اس جاہلیت کے دور میں بھی ملکۃ قریش کہا جاتا تھا۔
اتنی دولت ہونے کے باوجود کبھی آپ نے اسے فضول کاموں میں خرچ نہیں کیا بلکہ اکثر آپ غریب، نادار ،مسکینوں اور فقیروں  پر اپنی ساری دولت خرچ کیا کرتی تھیں اسی وجہ سے آپ کو یتیموں کی ماں کہا جاتا تھا۔
حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا شمار سرکار رسالتمآب(ص) کی بعثت سے پہلے بھی آپ کے مددگاروں میں ہوتا تھا البتہ اعلان رسالت کے بعد تو آپ کی ساری دولت صدائے توحید کے بلند ہونے اور رسالت کا پیغام پہونچانے میں کام آگئی اور صرف یہی نہیں کہ آپ نے اپنے شوہر نامدار سرکار ختمی مرتبت(ص) پر اپنا سب کچھ نچھاور کردیا بلکہ جب اللہ کے رسول(ص) نے یہ خبر آکر دی کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی توسب سے پہلے ایمان لانے والی ذات بھی جناب خدیجہ (س) کی ہی تھی۔
جناب خدیجہ نے صرف مال و دولت سے ہی رسول اللہ(ص) کی مدد نہیں کی بلکہ آپ نے ہر طرح سے اپنے کو سرکار کی خدمت کے لئے وقف کردیا تھا چنانچہ آپ نے متعدد زاویوں سے اللہ کے رسول کی مکمل حمایت کی جس کے سبب اسلام مضبوط ہوا مثال کے طور پر جب اعلان رسالت کے بعد کفار قریش رسول اللہ(ص) کے ایسے دشمن بن گئے تھے کہ وہ آپ کی شخصیت کو داغدار بنانے اور آپ کو اپنے مقصد سے روکنے کے لئے کسی حد تک پہونچنے سے دریغ نہیں کرتےتھے لہذا انہوں آپ پر بہت سے بے بنیاد الزام لگائے جیسا کہ جھوٹ، جادو ٹونہ کرنے وغیرہ کے الزامات کہ جنہیں قرآن مجید نے شدت کے ساتھ رد کیا ہے لہذا جناب خدیجہ نے اس ماحول میں آپ(ص) کا بھرپور ساتھ دیا ، آپ کی کھلی حمایت کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رسول اللہ (ص) اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور آپ کے دشمنوں کو ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا اس جاہل اور بد تہذیب معاشرے میں آپ کا پیغمبر اکرم(ص) کی حمایت کرنا اپنے آپ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
پیغمبر اکرم(ص) نے جب اپنی نبوت کا اعلان عام کیا اس وقت آپ کے سامنے اسلام کے سب سے طاقتور دشمن مقابلے کے لئے موجود تھے ان حالات میں صرف معدودے لوگ ہی آپ کی حمایت کررہے تھے جن میں ایک آپ(ص) کی شریک حیات جناب خدیجہ(س) تھی بی بی نے رسول اللہ(ص) کو بعثت سے پہلے اور بعثت کے بعد حمایت جاری رکھی  اور اس دور میں آپ کی حمایت رسول اللہ (ص) کے لئے بہت اہم سمجھی جاتی تھی۔
مال خدیجہ(س) کی برکتیں
جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا نے اسلام پر اپنی ساری دولت قربان کردی اور اس پاک و پاکیزہ مال کا اثر تھا کہ اسلام خوب پھیلا پھولا خود سرکار رسالتمآب(ص) نے فرمایا کہ خدیجہ(س) کی دولت سے زیادہ کسی اور کی دولت اسلام کے کام نہیں آئی۔ اسلام کی تبلیغمیں آپ کی مالی امداد اس لئے بھی اہم ہے چونکہ اس دور میں پورے معاشرے کے اقتصادی حالات اچھے نہیں تھے لہذا بی بی کی مالی حمایت و امداد نے رسول اللہ(ص) کو روحی سکون پہونچایا۔
رسول اللہ (ص) خدیجہ(س) کی دولت سے مظلوم اور ستم دیدہ غلاموں کو خریدتے اور انہیں اللہ کی راہ میں آزاد کردیتے تھے۔قرضداروں کے قرضوں کو ادا کیا کرتے تھے ۔غریبوں، یتیموں اور بیواؤں کی مدد کرتے تھے ۔مکہ میں رہتے ہوئے مسلمان دو مرتبہ حبشہ کی طرف ہجرت کی ان دونوں ہجرتوں میں خرچ ہونے والا پیسہ جناب خدیجہ کا تھا۔شعب ابی طالب میں ۳ برس تک پورا خاندان نظر بند تھا اس عرصہ میں خدیجہ کا مال کام آیا ۔ اور وہ مسلمان جنہوں نے آپ کے ساتھ مکہ سے مدینہ ہجرت کی اور مشرکوں نے جن کا مال ہڈپ لیا تھا آنحضرت(ص) ان سب کی مدد بھی خدیجہ (س) کے مال سے کرتے تھے۔
غرض جناب خدیجہ(س) کا ایمان ، اسلام اور مسلمانوں کی خدمت اور پیغمبر اکرم(ص) کی مکمل حمایت یہ وہ سب چیزیں ہیں جو ہمیشہ تاریخ میں جناب خدیجہ کے نام سے محفوظ ہیں اور اسی وجہ سے آپ کا شمار دنیا کی پاکیزہ عورتوں میں کیا جاتا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین