حسن نصراللہ کی خود اعتمادی نے ہمیں پریشان کر رکھا ہے؛صیہونی سکیورٹی ریسرچ سینٹر کا اعتراف

تل ابیب یونیورسٹی سے وابستہ صیہونی سکیورٹی ریسرچ سنٹر نے اس حکومت کے لیڈروں کو دو محاذوں پر ممکنہ دھماکے کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا اور تاکید کی کہ نصر اللہ کی خود اعتمادی نے اسرائیل کو پریشان کر دیا ہے۔

ولایت پورٹل:صیہونی حکومت کے 12 ٹی وی چینل نے تل ابیب یونیورسٹی سے وابستہ صیہونی سکیورٹی ریسرچ سنٹر کے سربراہ میجر جنرل احترام تامیر ہیمان کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مستقبل قریب میں اور یہودیوں کے نئے سال کی تعطیلات کے دوران بھی فلسطینی اور لبنانی محاذوں پر بحران کا امکان بہت زیادہ ہے۔
صیہونی جنرل کے جائزوں کی بنیاد پر صہیونی فوج کے دو محاذ اگلے 2 ہفتوں میں بحرانوں کے وقوع پذیر ہونے کا مرکزی محور ہوں گے جن میں سے ایک محاذ مغربی کنارے میں تشدد کی ایک نئی لہر (انتفاضہ) کی تشکیل ہے جب کہ دوسرا محاذ شمالی سرحدوں (مقبوضہ فلسطین) کا ہے جو اس کے پلیٹ فارم پر مرکوز ہے۔
صیہونی ماہر کے مطابق صیہونی کنیسٹ کے انتخابات بھی آرہے ہیں  جس کی وجہ سے ہر طرف سے سیاسی دباؤ آئے گا، میجر جنرل تمر ہیمن نے شمالی محاذ کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ نصر اللہ کی خود اعتمادی اسرائیل کے لیے بہت تشویشناک ہے۔
 صہیوی حکومت کے سکیورٹی ریسرچ سنٹر کے سربراہ کے مطابق کہ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے گزشتہ ہفتے کے روز ایک تقریر کی، جس میں انہوں نے ایک بار پھر کاریش گیس پلیٹ فارم پر گفتگو کی اور دھمکی دی کہ اس علاقے سے گیس نکالنا ایک سرخ لکیر ہے۔
صیہونی محقق نے اعتراف کیا کہ نصراللہ کی خود اعتمادی اسرائیل کو پریشان کرتی ہے اس لیے کہ اگرچہ اسرائیلی فوج حزب اللہ سے 10 گنا زیادہ طاقتور ہے لیکن وہ ابھی تک حزب اللہ اور نصراللہ کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے جس کی وجہ سے یہ تشویش اور بھی بڑھ گئی ہے کہ حزب اللہ کا وسیع پیمانے پر خوداعتمادی اور اس کی صلاحیتوں کا غلط اندازہ اسرائیل میں ایک اور بدانتظامی کا باعث بنے گا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین