Code : 2737 37 Hit

کیا مشرق وسطی میں امریکی تسلط ختم ہوچکا ہے؟(ایک تجزیہ)

مصر کے ایک اسٹریٹجک اسٹڈیز ڈیٹا بیس نے مغربی ایشیاء میں امریکی اثر کے محدود ہونے کے بارے میں لکھا ہے کہ ایران ، ترکی اور روس جیسے ممالک کی طاقت کے سامنے آنے کے ساتھ ہی مشرق وسطی میں امریکی تسلط ختم ہو گیا ہے۔

ولایت پورٹل:برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے حالیہ تجزیے کو دیکھتے ہوئے  مصر کے ایک اسٹریٹجک اسٹڈیز ڈیٹابیس  المرصد المصری نے ایک مضمون  میں لکھا ہے کہ شام سے امریکی انخلاء ناکامیوں کا ایک سلسلہ ہے اور مشرق وسطی میں اس کے اثر و رسوخ میں کمی اس خطہ  میں اس کے تسلط کے خاتمہ کی علامت ہے،اس مضمون کی ابتدا میں فنانشل ٹائمز کے تجزیے کے ایک حصہ کو ضمیمہ کرتے ہوئے آیا ہے کہ مشرق وسطی میں امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ ڈونلڈ ٹرمپ کے جذباتی ٹویٹ کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے ، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ روس ، شام اور ایران شام کےصوبہ ادلب میں ہزاروں بے گناہ شہریوں کو قتل کررہے ہیں یا قتل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں،انھیں  ایسا نہیں کرنا چاہیے،اس مضمون  میں فنانشل ٹائمز کی رپورٹ  جس میں آیا ہے کہ شام میں امریکی صدر کے کردار کے خاتمے کی سب سے بڑی وجہ مشرق وسطی میں حالات کا رخ موڑنے  میں ان کی نا اہلیت یا ناپسندیدگی تھی، کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ شام سے امریکہ کی پسپائی کی وجہ روس ، ایران اور ترکی جیسی طاقتوں کا ابھرنا ہے جنہوں  نے مشرق وسطی میں امریکہ کی جگہ  پُر کرلی ہے،مضمون میں آگے چل کر شام اور عراقی سرحدوں پر حالیہ واقعات اور خطے میں امریکی موجودگی کے کمزور ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھاگیا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ مشرق وسطی میں وسیع اسٹریٹجک کردار ادا کرنے کے لئے امریکہ کی آمادگی وائٹ ہاؤس میں کافی حد تک  ختم ہوچکی ہے،مضمون نگار  نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کےمعاملے پر امریکہ کی خاموشی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ  یہ مشرق وسطی میں امریکی تسلط میں کمی کی علامتوں میں سے ایک ہے،مضمون میں مزید آیا ہے کہ توقع کی جارہی تھی کہ امریکہ سعودی عرب کو اس حملے سے بچائے گا یا کم سے کم فوجی ردعمل ظاہر کرے گا لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے ایسا کچھ نہیں کیا۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین