حماس اور جہاد اسلامی بکنے والی نہیں :صیہونی فوج کا اعتراف

اسرائیلی فوج کے اعلیٰ ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ حماس اور جہاد اسلامی کو خوراک یا طویل المدتی اقتصادی وعدوں کے بدلے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنا بہت مشکل ہے۔

ولایت پورٹل:سما نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صیہونی ذرائع نے مصری حکام کو پیش کیے جانے والے صیہونی وزیر خارجہ کے منصوبے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے  اس منصوبے کی شقوں پر حماس اور اسلامی جہاد کی تحریکوں کو قائل کرنا مشکل ہے۔
صیہونی سکیورٹی ذرائع نے قاہرہ میں صیہونی حکومت کے وزیر خارجہ  یائیر لاپڈ کے ذریعہ قاہر ہ میں  پیش کیے جانے والےمنصوبے پر سوال اٹھایا جس میں حماس سے اسلحہ لینے  کے بدلے غزہ کو اقتصادی فوائد مختص کرنا اور فلسطینی اتھارٹی کی غزہ کی پٹی میں واپسی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے اعلیٰ ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ حماس اور جہاد اسلامی کو خوراک یا طویل المدتی اقتصادی وعدوں کے بدلے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنا بہت مشکل ہےبلکہ اس سے غزہ کی پٹی کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے۔
 ذرائع نے مزید کہا کہ اگر تمام فریقین اسرائیلی حکومت کے خلاف موجودہ خطرات کی روشنی میں غزہ کی پٹی میں حقیقی جنگ بندی چاہتے ہیں تو ایک عملی اور جرات مندانہ تجویز پیش کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ صیہونی وزیر خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف ،مصر، یورپی یونین اور خلیجی ریاستوں کے متعدد عہدیداروں سے اس منصوبے پر تبادلہ خیال کیا ہے،یادرہے کہ اسرائیلی وزیر خارجہ کے اس منصوبے میں دو مراحل شامل ہیں: پہلا بین الاقوامی افواج کے ذریعے حماس کی فوجی طاقت کے کمزور کرنے کے بعد غزہ میں تعمیر نو اور انسانی ضروریات کی فراہمی اور دوسراایک جامع اقتصادی منصوبہ جو سلامتی کی ضمانت دیتا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین