آل سعود کی حج تجارت

سعودی عرب کی جانب سے گزشتہ چند سالوں میں حج کے عمل میں رکاوٹیں ڈالنے اور اس کے اخراجات میں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب اس روحانی اور اقتصادی سفر سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ولایت پورٹل:اس وقت جبکہ مناسک حج کے باضابطہ آغاز میں تقریباً ایک ماہ باقی رہ گیا ہے، خبر رساں ذرائع نے چند روز قبل اعلان کیا کہ سعودی عرب نے حج اخراجات میں 300 فیصد اضافہ کر دیا ہےجس پر اسلامی جمہوریہ ایران سمیت کئی ممالک نے احتجاج کیا ہے۔ ایک باخبر ذریعے کے مطابق سعودی عرب نے ہر ایک حاجی کے لیے مشعر، عرفات اور منیٰ میں رہائش اور کھانے کی سہولیات کے لیے 1160 سعودی ریال کا مطالبہ کیا ہے اور جب تک یہ پیسہ سعودی عرب  کو ادا نہیں کیا جاتا حجاج کو سرزمین وحی بھیجنا ممکن نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے جبکہ سعودیوں نے حال ہی میں حجاج کے لیے عمر کی حد کا اعلان کرتے ہوئے 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو حج کرنے کی اجازت نہیں دی ہے، اس طرح کورونا کے زیر اثر دو سال کے وقفے کے بعد اس سال کا حج غیر ملکی عازمین کی موجودگی  میں ہوگا جس میں ہر حاجی کا اوسط خرچہ 4500 ڈالر ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی حکام نے ابھی تک حج فیس میں 300 فیصد اضافے کی وجہ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں متعدد ممالک کی طرف سے کیے جانے والے احتجاج پر کسی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین