Code : 4020 5 Hit

حج سامراجی طاقتوں کے خلاف طاقت کا مظاہرہ ہے ؛رہبر معظم کا پیغام حج

رہبر معظم نے فرمایا ہے کہ حج کے وجود میں غور وفکر کرنے سے حاجی کو یقین ہوجاتا ہے کہ بشریت کے تئیں دین کی بہت ساری امنگیں دیندار افراد کی ہم بستگی اور ہمدلی کے بغیر محقق نہیں سکتی ہیں اوراس بستگی اور ہمدلی کے راستہ میں دشمنوں اور معاندین کا مکر وفریب بھی کوئی خاص مشکل ایجاد نہیں کر سکتا۔

ولایت پورٹل: رہبر معظم کے پیغام حج کا مکمل متن

بسم اللہ الرحمن الرحیم
والحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ علی محمد و آلہ الطاھرین و صحبہ المنتخبین
من تبعھم باحسان الی یوم الدین
حج کا موسم ہمیشہ عالم اسلام کی عزت و عظمت اور شگفتگی کے احساس کا موسم تھا، اس سال مومنین کے اندوہ و حسرت کا شکار اور عاشقوں کے فراق و ناکامی کے احساس میں مبتلا ہے، دل کعبہ کی غربت و تنہائی سے غربت و تنہائی کا احساس کر رہا ہے اور پیچھے رہ جانے والوں کی لبیک اشک و آہ سے لبریز ہے۔
یہ محرومیت قلیل عرصے کے لیے ہے اور خدا کی مدد و نصرت سے زیادہ دیر نہیں رہے گی لیکن درس یہ ہے کہ حج کی عظیم نعمت کی قدر جاننا پائیدار ہونا چاہیے اور یہ ہمیں غفلت سے رہائی دے، حریم کعبہ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ اور ائمہ بقیع علیھم السلام کے حرم میں مومنین کے متنوع اور ہمہ گیر اجتماع میں امت اسلام کی عظمت و طاقت کے رمز و راز کو ہمیشہ سے زیادہ محسوس کرنا چاہیے اور اس کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
حج ایک بےنظیر فریضہ ہے ؛ اسلامی فرائض کے درمیان گیندے کا پھول ہے؛ گویا دین کے انفرادی، اجتماعی، زمینی و آسمانی، تاریخی اور عالمی تمام اہم پہلوؤں کا اس میں جائزہ لیا جائے گا،معنویت و روحانیت اس میں ہے، لیکن تنہائی گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کرنے کے بغیر، اجتماع اس میں ہے لیکن لڑائی، بدگوئی اور بدخواہی سے دور ایک طرف  دعائیں ، عقیدت اور خدا کی یاد سے روحانی طور پر لطف اندوز ہونا  اور دوسری طرف وحدانیت اور عوامی مواصلات کا ربط ہے۔
حاجی  جب فاتحانہ انداز میں  مسجد نبوی میں داخل ہوتا ہے تو  ہو   تاریخ ،  جناب ابراہیم ، اسماعیل اور حاجرہ علیہم السلام  اور رسول خدا ﷺکے ساتھ میں داخل ہوئے ، اور پہلی صدی کے مومنین کے جمع غفیر کے ساتھ اپنے کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلق کو محصوص کرتا ہے اور دوسری طرف اس  دور کے مؤمنین کے عظیم اجتماع کو دیکھتا ہے جس میں ہر انسان اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے ۔
حج کے وجود میں غور وفکر کرنے سے حاجی کو یقین ہوجاتا ہے کہ  بشریت کے تئیں دین کی بہت ساری امنگیں دیندار افراد کی ہم بستگی اور ہمدلی کے بغیر محقق نہیں سکتی ہیں اوراس  بستگی اور ہمدلی  کے راستہ میں دشمنوں  اور معاندین کا مکر وفریب بھی  کوئی  خاص مشکل ایجاد نہیں کر سکتا۔
حج سامراجی طاقتوں  کے خلاف طاقت کا مظاہرہ  ہے جو بدعنوانیوں ، جبر ، کمزوروں کے استحصال اور قتل و غارت گری کا مرکز ہیں اور آج ان کے ظلم و بربریت سے امت اسلامیہ کے جسم و جان لہو لہان ہے، حج امت  مسلمہ کی سخت اور نرم صلاحیتوں کا مظاہرہ ہے، یہ حج کی نوعیت اوراس کی روح ہے اور حج کے سب سے اہم اہداف کا ایک حصہ ہے ، اسی کو  امام خمینی  رحمت اللہ علیہ نے ابراہیمی حج کہا تھا ، یہی وہ چیز ہے کہ اگر حج کے متولی جو اپنے آپ کو حرمین شریفین کے خادم کہلاتے ہیں اگر خلوص دل سے اس کی اطاعت کریں اور امریکی حکومت کو راضی کرنے کے بجائے خدا کی مرضی حاصل کرنے کی کوشش کریں تو  اس سے عالم اسلام کے بڑے بڑےمسائل حل ہوسکتے ہیں۔
آج ہمیشہ کی طرح بلکہ  پہلے سے بھی زیادہ  اسلامی  کی لازمی مصلحت اتحاد میں مضمر ہے ،ایسا اتحاد جو دشمنیوں اور خطرات کے مقابلہ میں ایک  آواز ہو اور شیطان کے مجسمہ  جارح  اور غدار امریکہ نیز اس کے زنجیروں میں جکڑے ہوئے کتے  صیہونی حکومت پر آسمان کی بجلی بن کر گرے اور اس کی دھونس کے مقابلے میں سینہ تان کر سامنے آئے ،یہی خدا وند عالم کا ارشاد بھی ہے’’وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ‘‘۔
قرآن مجید اسلامی امت کو اس دائرہ میں دیکھنا چاہتا ہے’’أَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَهُمْ معرفی میکند، و از او وظیفه‌ی: وَلَا تَرْکَنُوا إِلَی الَّذِینَ ظَلَمُوا،  وَلَن یَجْعَلَ اللَّهُ لِلْکَافِرِینَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ سَبِیلًا،  فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْکُفْرِ  و  لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَاءَ ‘‘اور دشمن کو پہنچوانے کے لیے ارشاد ہوتا ہے’’لا یَنْهَاکُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِینَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّینِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُم مِّن دِیَارِکُمْ ‘‘۔
ان اہم ترین اور بنیادی احکام کو بطور مسلمان ہمارے فکری اور اقدار کے نظام سے کبھی الگ نہیں ہونا چاہئے اور انہیں فراموش نہیں کرنا چاہئے۔
آج پہلے سے کہیں زیادہ  قوم اور اس کے ہمدرد مفکرین  اور خیر خواہ افراد کے لیے اس بنیادی تبدیلی  کا زمینہ فراہم ہے، آج اسلامی بیداری کا مطلب یہ ہے کہ مسلم دانشوروں اور نوجوانوں کی توجہ ان کے علم معرفتی اور روحانی اثاثوں کی طرف ایک ناقابل تردید حقیقت ہے، آج  لبرل ازم اور کمیونزم  جو سو سال پہلے اور پچاس سال قبل مغربی تہذیب کا سب سے نمایاں تحفہ سمجھا جاتا تھا ، بالکل ختم ہوچکا ہے اور ان کے لاعلاج نقائص سامنے آ چکے ہیں، ایک پر مبنی نظام تباہی کا شکار ہے  اور دوسرےپر مبنی نظام بھی  گہرےبحران اور تباہی کے دہانے پر پہنچ چکاہے، آج نہ صرف مغربی ثقافتی تمثیل جو ابتداء سے ہی شرمی اور بے حیائی  کے ساتھ میدان میں آئی تھی بلکہ اس کی سیاسی اور معاشی مثال  یعنی پیسے پر مبنی جمہوریت اور امتیازی طبقاتی سرمایہ داری نے بھی اپنی نا اہلی اور بدعنوانی کا مظاہرہ کرچکی ہے، آج عالم اسلام میں بہت سارے دانشور موجود ہیں جو فخر کے ساتھ مغرب کے تمام علمی اور تہذیبی دعووں کو چیلنج کرتے ہیں اور اس کے اسلامی متبادلات کو واضح طور پر دکھاتے ہیں ۔
آج یہاں تک کہ بہت سارے مغربی مفکرین ، جو پہلے فخر کے ساتھ لبرل ازم کو تاریخ کے خاتمہ کے طور پراعلان کرتے تھے لیکن آج مجبور ہو کر اپنےاس دعوے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور اپنی نظریاتی اور عملی الجھن کا اعتراف کرتے ہیں۔
امریکہ کی سڑکوں پر ایک نظر  ڈالیے، امریکی لوگوں کے ساتھ ان کے ریاستی حکام کاسلوک ، اس ملک میں طبقاتی فاصلے کی گہری وادی ، اس ملک پر حکومت کرنے کے لئے منتخب ہونے والے لوگوں کی ذلت اور حماقت،یہاں ہونے والے خوفناک نسلی امتیاز اورپولیس کی سنگدلی کہ ایک عام شہری اور غیرمجرم نہایت ہی بے رحمی کے ساتھ شاہراہ عام پر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دیا جاتا ہے، اس سے مغربی تہذیب کے اخلاقی اور معاشرتی بحران کی گہرائی اور اس کے سیاسی اور معاشی فلسفے کی مسخ اور باطل ہونے کا پتہ چلتا ہے، امریکہ کا کمزور اقوام کے ساتھ سلوک ایک پولیس اہلکار کے طرز عمل کا ایک توسیع شدہ ورژن ہے جس نے ایک بے دفاع سیاہ فام آدمی کی گردن پر اپنا گھٹنا رکھ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا، دوسری مغربی حکومتیں بھی جتنا ان سے ممکن ہوسکتا ہے  اور ان کے اختیار میں ہے  اسی تباہ کن صورتحال کا شکار ہیں۔
ابراہیمی حج اس جدید جہالت کے خلاف اسلام کا ایک شاندار واقعہ ہے، یہ اسلام کی دعوت ہے اور اسلامی برادری کی زندگی کی ایک علامتی نمائش ہے، ایک ایسے معاشرہ کی اعلی  علامت ہے جس میں مؤمنین توحید کے محور کے گرد چل کرایک ساتھ زندگی بسر کر تے ہیں جہاں تنازعات ، امتیازی سلوک اور اشرافیہ مراعات سے دوری  نیز بدعنوانی اور آلودگی سے بچنا  اس کےضروری شرائط ہیں،شیطان کو کنکڑیاں مارنا،مشرکین سے بیزاری کا اظہار،کمزوروں کے ساتھ ایک ہونا،غریبوں کی مدد کرنااور ایمان کے پرچم کو بلند کرنا اس معاشرہ کی اصلی ذمہ داری ہے، اس کے علاوہ خدا کو یاد رکھنے، اس کا شکر ادا کرنے اور اس کی عبادت کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی مفادات کا ملحوظ خاطر اس معاشرہ  وسطی اور حتمی اہداف ہیں۔
یہ ابراہیمی حج کے آئینے میں اسلامی معاشرے کا ایک مختصر جائزہ ہے جس کا مغربی معاشروں کی حقیقت سے موازنہ ہر ہمت والےاور مسلمان کے دل کو ایسے معاشرے کے حصول کے لئے جدوجہد کرنے کے جوش و جذبے سے بھر دیتا ہے۔
ہم ، ایران کے عوام  نے امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی رہنمائی میں ، ایسے ہی  جوش و خروش کے ساتھ قدم بڑھایا اور کامیاب ہوئے، ہم یہ دعوی نہیں کرتے کہ ہمیں جو معلوم ہے اور جس کو ہم چاہتے ہیں اسے پوری طرح سے سمجھنے میں کامیاب  ہوچکے ہیں لیکن ہم دعویٰ  ضرورکرتے ہیں کہ ہم نے لمبا فاصلہ طے کیا ہے اور بہت سی رکاوٹوں کو دور کیا ہے، قرآنی وعدوں پر اعتماد کی بدولت اب تک ہم ثابت قدم رہے ہیں، وقت کا سب سے بڑا ڈاکو اور غدار شیطان امریکہ  ہمیں خوفزدہ کرنے یا اپنی چالاکیوں یا دھوکہ دہی کے ذریعہ   شکست دینے یا ہماری مادی اور روحانی پیشرفت کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے، ہم تمام مسلم اقوام کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں ، اور ان غیر مسلموں  جو دشمنی پر نہیں اتر آئے ہیں ،کے ساتھ احسان اور انصاف کا سلوک کرتے ہیں ، ہم مسلم معاشروں کے غم اور تکلیف کو اپنا دکھ ودرد سمجھتے ہیں اور اس کا علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، مظلوم فلسطین کی مدد ، یمن کے زخمی جسم کے ساتھ ہمدردی اور ہر جگہ کے مظلوم مسلمانوں کا خیال رکھنا ہمارا نصب العین ہے۔
بعض مسلم ممالک کے رہنماؤں کو مشورے دینا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں، وہ حکمران جو اپنے مسلمان بھائیوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے دشمن کے بازوؤں میں پناہ لیتے ہیں اور اپنے کچھ دن  کےذاتی مفاد کی خاطر وہ دشمن کی ذلت اور جبر کو برداشت کرتے ہیں اور اپنی قوم کے وقار اور آزادی کو نیلام کرتے ہیں، وہ جو غاصب صہیونی حکومت کی بقا کو قبول کرتے ہیں اوراس کی طرف کھلے عام یا خفیہ طور پر دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں، ہم انہیں نصیحت کرتے ہیں اور انہیں اس طرز عمل کے تلخ نتائج کی جانب متنبہ کرتے ہیں۔
ہم مغربی ایشیامیں امریکہ کی موجودگی کو اس خطے کی قوموں کے نقصان اور ممالک کی عدم تحفظ ، تباہی اور پسماندگی کا باعث سمجھتے ہیں، امریکہ اور اس ملک میں نسل پرستی کے خلاف چلنے والی تحریک کے موجودہ معاملات میں ، ہماری موقف عوام کی حمایت اوراس ملک کی نسل پرستانہ حکومت کے مظالم کی مذمت کرنا ہے۔
آخر میں ، حضرت بقیۃ اللہ اروانالہ الفداء پر درود وسلام بھیجتے ہوئے، امام خمینی ؒ کو دل کی گہرائیوں سے یاد کرتے شہدا کی نیک روحوں کو سلام بھیجتا ہوں اور اللہ تعالٰی سے مستقبل قریب میں امت اسلامیہ کے لئے ایک محفوظ ، مقبول اور بابرکت حج کے لئے دعا گو ہوں۔
والسلام علی عباداللّه الصالحین
سید علی خامنه‌ای
29جولائی2020
 




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین