Code : 4021 23 Hit

حج ابراہیمی اس ماڈرن جاہلیت کے سامنے اسلام کا پرشکوہ جلوہ ہے :رہبر انقلاب کا پیغام حج

حج ابراہیمی اس ماڈرن جاہلیت کے سامنے اسلام کا پرشکوہ جلوہ ہے؛ اسلام کی دعوت اور اسلامی معاشرے کی زندگی کا علامتی مظاہرہ ہے۔ ایک ایسا معاشرہ کہ جس میں مومنین کی باہمی زندگی، ایک مسلسل حرکت میں، توحید کے محور کے گرد، برترین علامت ہے؛ لڑائی اور جھگڑے سے دوری، امیرانہ امتیاز و تفریق سے دوری، بدعنوانی اور آلودگی سے دوری، لازمی شرط ہے؛ شیطان کو پتھر مارنا اور مشرکین سے نفرت و بیزاری کا اظہار کرنا، ماتحت اور خود سے نچلے لوگوں کے ساتھ گھل مل جانا، ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور اہل ایمان کے شعائر کا پرچم لہرانا، اصلی فرائض میں شمار ہوتا ہے؛ اور خدا کی یاد اور اس کے شکر اور بندگی کے ساتھ عوامی مصلحتوں اور مفادات کو حاصل کرنا درمیانے اور آخری مقاصد ہیں۔

ولایت پورٹل:
                                                               بسم اللہ الرحمن الرحیم
والحمد للہ رب العالمین و صلی اللہ علی محمد و آلہ الطاھرین و صحبہ المنتخبین من تبعھم باحسان الی یوم الدین
حج کا موسم ہمیشہ عالم اسلام کی عزت و عظمت اور شگفتگی کے احساس کا موسم تھا، اس سال  مؤمنین  اندوہ و حسرت کا شکار اور عاشقوں کے فراق و ناکامی کے احساس میں مبتلا ہیں۔ ہمارے دل، کعبہ کی غربت و تنہائی سے غربت و تنہائی کا احساس کر رہے ہیں اور پیچھے رہ جانے والوں کی لبیک  اشک و آہ سے لبریز ہے۔
یہ محرومیت قلیل عرصے کے لیے ہے اور خدا کی مدد و نصرت سے زیادہ دیر نہیں رہے گی۔ لیکن درس یہ ہے کہ حج کی عظیم نعمت کی قدر جاننا پائیدار ہونا چاہیے اور یہ ہمیں غفلت سے رہائی دے۔ حریم کعبہ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ اور ائمہ بقیع علیھم السلام کے حرم میں مومنین کے متنوع اور ہمہ گیر اجتماع میں امت اسلام کی عظمت و طاقت کے رمز و راز کو ہمیشہ سے زیادہ محسوس کرنا چاہیے اور اس کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
حج ایک بےنظیر فریضہ ہے ۔ اسلامی فرائض کے درمیان اس کی مثال  گیندے کا پھول جیسی  ہے؛ گویا دین کے انفرادی، اجتماعی، زمینی و آسمانی، تاریخی اور عالمی تمام اہم پہلوؤں کا اس میں جائزہ لیا جائے گا۔ معنویت و روحانیت اس میں ہے، لیکن تنہائی گوشہ نشینی اور خلوت اختیار کرنے کے بغیر۔ اجتماع اس میں ہے لیکن لڑائی، بدگوئی اور بدخواہی سے دور۔ ایک طرف سے الہی ذکر و مناجات اور گریہ و زاری کا روحانی لطف اور دوسری جانب سے عوامی رابطے اور انس کا تعلق۔
حاجی ایک آنکھ سے تاریخ کے ساتھ، ابراہیم اور اسماعیل اور ہاجر کے ساتھ، مسجد الحرام میں فاتحانہ داخلے کے وقت رسول خدا کے ساتھ، اور صدر اسلام کے مومنین کے ہجوم کے ساتھ اپنے دیرینہ رشتے اور تعلق کو دیکھتا ہے، اور دوسری آنکھ سے اپنے زمانے کے مومنین کو، کہ جن میں سے ہر ایک اللہ کی رسی کو تھامنے اور مدد و تعاون کے لیے ایک ہاتھ ہو سکتا ہے۔
حج کے بارے میں تدبر اور غوروفکر کرنا، حاجی کو اس قطعی یقین تک پہنچا دیتا ہے کہ انسان کے لیے دین کے بہت سے مقاصد اور آرزوئیں دین کے سب پیروؤں کی مدد تعاون اور ہمدلی کے بغیر پوری نہیں ہو سکتی ہیں اور یہ ہمدلی اور تعاون پیدا ہونے سے مخالفین اور دشمنوں کا مکروفریب، اس راستے میں کوئی اہم مسئلہ کھڑا نہیں کرے گا۔
حج ان مستکبرین کے سامنے طاقت کی مشق اور مظاہرہ ہے کہ جو ظلم و فساد ، ضعیف کشی اور لوٹ مار کا مرکز ہیں اور آج امت اسلامی کا جسم اور جان ان کے ظلم و ستم اور خباثت سے آزردہ اور خون آلود ہے۔ حج امت کی سخت و نرم توانائیوں کا مظاہرہ ہے۔
یہ، حج کی فطرت اور حج کی روح اور حج کے اہم ترین مقاصد کا ایک حصہ ہے، یہ وہی ہے کہ جسے امام راحل خمینی کبیر نے حج ابراہیمی کا نام دیا، اور یہ وہی ہے کہ اگر امر حج کے متولی کہ جو خود کو خادم حرمین کہتے ہیں، سچے دل سے اس کے سامنے گردن جھکائيں اور امریکی حکومت کی خوشنودی کے بجائے رضائے الہی کا انتخاب کریں تو عالم اسلام کی بہت بڑی مشکلات حل ہو سکتی ہیں۔
آج ہمیشہ کی مانند، اور ہمیشہ سے زیادہ، امت اسلامی کی لازمی مصلحت، وحدت میں ہے، ایسی وحدت جو دشمنیوں اور خطرات کے مقابل "ید واحدہ" وجود میں لائے اور مجسم شیطان جارح اور غدار امریکہ اور اس کے پالتو کتے صیہونی حکومت کے خلاف بجلی کی کڑک کی مانند نعرے لگائے اور زور و زبردستی کے سامنے بہادری سے سینہ سپر ہو جائے۔
یہ فرمان الہی کا معنی ہے کہ فرمایا: ’’واعتصموا بحبل اللہ جمیعا و لاتفرقوا‘‘
قرآن کریم امت اسلامی کا " اشداء علی الکفار رحماء بینھم " کے تناظر میں تعارف کرتا ہے، اور اس سے : ولا ترکنوا الی الذین ظلموا ، و لن یجعل اللہ للکافرین علی المؤمنین سبیلا، فقاتلوا ائمۃ الکفر و لا تتخذوا عدوی عدوکم اولیاء ، کی ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے، اور دشمن کو واضح اور معین کرنے کے لیے ، لا ینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین و لم یخرجوکم من دیارکم ۔ ۔ کا حکم صادر فرماتا ہے۔
یہ اہم اور تقدیر ساز فرامین ہم مسلمانوں کے فکر و سوچ اور اقدار کے نظام سے الگ نہیں رہنے چاہیے اور انہیں طاق نسیان کی زینت نہیں بننا چاہیے۔
آج ہمیشہ سے زیادہ اس بنیادی تبدیلی کی زمین امت اور اس کے ہمدرد اور مصلحت اندیش دانشوروں کی دسترس میں ہے۔ آج اسلامی بیداری، مسلمان دانشوروں اور نوجوانوں کی اپنے معنوی و روحانی اور معرفت کے اثاثوں پر توجہ کے معنی میں ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ آج لبرلزم اور کمیونزم کہ جو سو سال پہلے اور پچاس سال پہلے مغربی تہذیب کے نمایاں ترین تحفے شمار کیے جاتے تھے ، کلی طور پر اپنی آب و تاب کھو چکے ہیں اور ان کے لاعلاج عیوب و نقائص کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ ان پر مبنی ایک نظام کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور دوسرے پر مبنی نظام بھی گہرے بحرانوں کا شکار ہے اور وہ بھی ٹوٹ کر بکھرنے والا ہے۔
آج نہ صرف مغرب کے ثقافتی نمونے ، کہ جس نے شروع سے ہی بےشرمی اور رسوائی کے ساتھ میدان میں قدم رکھا، بلکہ حتی اس کے سیاسی و اقتصادی نمونے یعنی پیسے کے محور پر گھومنے والی جمہوریت اور طبقاتی اور امتیازی سرمایہ داری نے بھی اپنا ناکارہ اور فساد انگیز ہونا ظاہر کر دیا ہے۔
آج عالم اسلام میں ایسے دانشوروں کی کمی نہیں ہے کہ جو سر اونچا کر کے اور فخر و سربلندی کے ساتھ مغرب کے معرفت اور تمدن کے تمام دعووں کو چیلنج کرتے ہیں اور اسلامی متبادل کو واضح طور پر دکھاتے ہیں۔ آج حتی بعض مغربی مفکرین نے کہ جو اس سے قبل لبرلزم کو بڑے غرور کے ساتھ تاریخ کا اختتام قرار دیتے تھے۔ مجبور اور ناچار ہو کر اس دعوے کو واپس لے لیا ہے اور وہ اپنی نظری اور عملی سرگردانی کا اعتراف کرتے ہیں۔
امریکہ کی سڑکوں، اپنے عوام کے ساتھ امریکی حکمرانوں کے سلوک، اس ملک میں طبقاتی فاصلے کی گہری خلیج، ان لوگوں کی حقارت اور کم عقلی کہ جنھیں اس ملک کا انتظام چلانے کے لیے منتخب کیا گيا ہے، اس میں موجود ہولناک نسلی امتیاز اور اس کے اس پولیس اہلکار کی سنگدلی پر ایک نظر ڈالنے سے کہ جو ایک غیرمجرم کو سڑک پر سکون و اطمینان کے ساتھ اور راہگیروں کی آنکھوں کے سامنے اذیت دے کر قتل کرتا ہے، مغربی تہذیب کے اخلاقی اور سماجی بحران کی گہرائی اور اس کے سیاسی و اقتصادی فلسفے کی کجی اور بطلان ظاہر و آشکار ہو جاتا ہے۔
کمزور قوموں کے ساتھ امریکہ کا رویہ اس پولیس والے کے رویے کا بڑا نمونہ ہے کہ جس نے اپنا گھٹنا ایک نہتے سیاہ فام کی گردن پر رکھا اور اسے اس وقت تک دبائے رکھا کہ جب تک اس کی جان نہیں نکل گئی۔
دوسری مغربی حکومتیں بھی ہر ایک اپنی وسعت و طاقت اور امکان کے مطابق اس المناک صورت حال کے دیگر نمونے ہیں۔
حج ابراہیمی اس ماڈرن جاہلیت کے سامنے اسلام کا پرشکوہ جلوہ ہے؛ اسلام کی دعوت اور اسلامی معاشرے کی زندگی کا علامتی مظاہرہ ہے۔ ایک ایسا معاشرہ کہ جس میں مومنین کی باہمی زندگی، ایک مسلسل حرکت میں، توحید کے محور کے گرد، برترین علامت ہے؛ لڑائی اور جھگڑے سے دوری، امیرانہ امتیاز و تفریق سے دوری، بدعنوانی اور آلودگی سے دوری، لازمی شرط ہے؛ شیطان کو پتھر مارنا اور مشرکین سے نفرت و بیزاری کا اظہار کرنا، ماتحت اور خود سے نچلے لوگوں کے ساتھ گھل مل جانا، ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور اہل ایمان کے شعائر کا پرچم لہرانا، اصلی فرائض میں شمار ہوتا ہے؛ اور خدا کی یاد اور اس کے شکر اور بندگی کے ساتھ عوامی مصلحتوں اور مفادات کو حاصل کرنا درمیانے اور آخری مقاصد ہیں۔
حج ابراہیمی کے آئینے میں یہ ایک اسلامی معاشرے کی اجمالی تصویر ہے ، اور خود پسند اور متکبر مغربی معاشروں کی حقیقت کے ساتھ اس کا موازنہ ہر باہمت مسلمان کے دل کو، ایسے معاشرے تک پہنچنے کے لیے کوشش اور جدوجہد کے شوق و ولولے سے بھر دیتا ہے۔
ہم ایرانی لوگوں نے امام خمینی کبیر کی ہدایت و رہنمائی میں ایسے شوق و ولولے سے راستے پر قدم رکھا اور کامیاب ہوئے۔ ہم یہ دعوی نہیں کرتے ہیں کہ ہم نے وہ چیز جسے ہم جانتے ہیں اور پسند کرتے ہیں، پوری طرح حاصل کر سکے ہیں لیکن یہ دعوی کرتے ہیں کہ اس راستے میں کچھ آگے بڑھے ہیں اور بہت سی رکاوٹوں کو راستے سے ہٹایا ہے۔ قرآنی وعدوں پر اعتماد کی برکت سے ہمارا قدم استوار اور مضبوط رہا ہے۔ اس دور کا سب سے بڑا غدار اور راہزن شیطان یعنی امریکی حکومت ہمیں ڈرا نہیں سکی ہے یا اپنے مکروفریب کا شکار نہیں کر سکی ہے یا ہماری مادی اور معنوی ترقی و پیشرفت کو روک نہیں سکی ہے۔
ہم تمام مسلمان قوموں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں اور ان غیرمسلموں کے ساتھ بھی کہ جو مخالف کیمپ میں داخل نہیں ہوئے ہیں، نیکی و بھلائی اور انصاف کے ساتھ برتاؤ کرتے ہیں۔ ہم مسلمان معاشروں کے غم اور پریشانیوں کو اپنی پریشانی سمجھتے ہیں اور انھیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مظلوم فلسطین کی مدد، یمن کے مجروح پیکر کے لیے ہمدردی اور دنیا کے کسی بھی گوشے میں ظلم کا شکار مسلمانوں کے بارے میں سوچنا اور فکرمند ہونا اپنا دائمی فریضہ سمجھتے ہیں۔
بعض مسلمان ملکوں کے سربراہوں کو نصیحت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں؛ وہ حکمران کہ جو اپنے مسلمان بھائی پر بھروسہ کرنے کے بجائے دشمن کی آغوش میں پناہ لیتے ہیں اور اپنے چند روزہ ذاتی فائدے کے لیے دشمن کی جانب سے کی جانے والی توہین و ذلت اور زور و زبردستی کو برداشت کرتے ہیں اور اپنی قوم کی عزت و خودمختاری کو سخت نقصان پہنچاتے ہیں۔ جو لوگ غاصب اور ظالم صیہونی حکومت کی بقا کو قبول کرتے ہیں اور چھپ کر اور کھلے عام اس کے ساتھ دوستی کا ہاتھ ملاتے ہیں، میں ان کو نصیحت کرتا ہوں اور اس طرزعمل کے تلخ نتائج سے خبردار کرتا ہوں۔
میں مغربی ایشیا کے علاقے میں امریکہ کی موجودگی کو اس علاقے کی قوموں کے لیے نقصان دہ اور ملکوں کی بدامنی، تباہی اور پسماندگی کا سبب سمجھتا ہوں۔ امریکہ کے موجودہ واقعات اور وہاں پر نسلی امتیاز کے خلاف تحریک کے بارے میں بھی ہمارا ٹھوس موقف، عوام کی طرفداری اور اس ملک کی نسل پرست حکومت کے سنگدلانہ رویے کی مذمت کرنا ہے۔
آخر میں حضرت بقیۃ اللہ ارواحنا فداہ پر سلام و صلوات کے ساتھ امام خمینی کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور شہیدوں کی پاک روحوں پر درود بھیجتا ہوں اور امت اسلامی کے لیے مستقبل قریب میں محفوظ، مقبول اور مبارک حج کی خداوند متعال سے دعا کرتا ہوں۔
                                                                                                                                               

                                                                                                        والسلام علی عباداللہ الصالحین
                                                                                                            سید علی خامنہ ای
                                                                                             ۸ ذی الحجہ ۱۴۴۱ ہجری  مطابق 29 جولائی 2020 ء۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین