امریکہ کا گن کلچر؛ جینے کے حق کی خلاف ورزی

امریکہ میں بندوق رکھنے کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور ہتھیاروں کی وجہ سے ہونے والی اموات کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔

ولایت پورٹل:سی این این نے ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا کہ امریکی آئین کی دوسری ترمیم، جس میں کہا گیا ہے کہ ہتھیار رکھنے کا حق درحقیقت اس ملک میں زندگی کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے کیونکہ امریکہ میں بندوق رکھنے کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور ہتھیاروں کی وجہ سے ہونے والی اموات کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔
سی این این نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پچھلی چند دہائیوں کے دورانریاستہائے متحدہ میں بہت کم جگہ ایسی رہی ہے جہاں اسلحہ رکھنے کی بنیاد پرتشدد کا مشاہدہ نہ کیا گیا ہوجبکہ بہت سے امریکی اب بھی ہتھیار رکھنےکے آئینی حق کو ایک مقدس چیز سمجھتے ہیں جبکہ اس سےزندگی کے حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جس کے پاس  عوام سے زیادہ بندوقیں ہیں، سوئس انسٹی ٹیوٹ فار سمال آرمز سروے (ایس اے ایس) کے مطابق، ہر 100 امریکی شہریوں  میں سے120 کے پاس آتشیں ہتھیار ہیں، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہےکہ یہ تعداد دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے بہت زیادہ ہے کیونکہ جزائر فاک لینڈ جیسے خطے میں فی 100 افراد پر 62 آتشیں اسلحہ موجود ہے  اور وہ  امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے،اسی طرح یمن میں 100 افراد میں سے53  کے پاس ہتھیار ہیں جو اسے دنیا میں ہتھیاروں کا تیسرا بڑا مالک بناتا ہے۔
واضح رہے کہ  غیر قانونی فروخت اور غیر رجسٹرڈ ہتھیاروں جیسے عوامل کی وجہ سے امریکی شہریوں کے پاس موجود ہتھیاروں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے لیکن سمال آرمز سروے کے مطابق امریکیوں کا اندازہ ہے کہ دنیا میں شہریوں کے پاس 857 ملین ہتھیار وں کے جواز میں سے 393 ملین ہتھیار امریکیوں کے پاس ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین