Code : 3789 12 Hit

امام رضا(ع) اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک

امام علی رضا علیہ السلام کے خادم یاسر کا بیان ہے: جب امام رضا (ع)تنہائی میں بیٹھتے تھے تو اپنے تمام چھوٹے بڑے غلاموں کو اکٹھا کرتے تھے اور ان سے گفتگو کرتے تھے جب کھانے کے لئے دستر خوان پر بیٹھتے تھے سب کو اپنے ساتھ دسترخوان پر بٹھاتے تھے۔

ولایت پورٹل: جود و بخشش، فقراء کے ساتھ حسن سلوک، مقروضوں کا قرض ادا کرنا، مؤمنین کو کھانا کھلانا اور پریشان حالوں کی مدد کرنا پیغمبر اسلام(ص) اور آئمہ معصومین(ع)کی سیرت تھی امام رضا(ع)نے بھی اسی سیرت کو جاری رکھا۔
اسحاق نو بختی کا بیان ہے: ایک شخص امام رضا(ع) کی خدمت میں پہونچا اور آپ سے عرض کیا کہ اپنی شایان شأن میری مدد کریں۔
آپ نے فرمایا: اتنی مدد کرنے پر قادر نہیں ہوں۔
اس نے عرض کیا: پھر میری شایان شأن مدد کریں۔
امام (ع)نے فرمایا: یہ ممکن ہے،  یہ کہہ کر غلام کو حکم دیا کہ اس کو دو سو دینار عطا کردے۔
امام رضا (ع)نے خراسان میں عرفہ کے دن اپنا تمام مال راہ خدا میں خرچ کردیا فضل ابن سہل نے عرض کیا کہ آپ کے اس طرح بخشش کرنے میں مصلحت نہیں ہے اور نقصان ہے۔
امام (ع)نے فرمایا: نقصان نہیں بلکہ اصل نفع یہی ہے جو چیز خدا کی راہ میں آخرت کی جزا کی امید پر دیدی جائے اس کو گھاٹا نہ سمجھو۔(1)
معمر ابن خلاد کا بیان ہے: امام رضا (ع)کھانا کھاتے وقت اپنے دسترخوان کے پاس ایک برتن رکھ لیتے تھے اور اچھے کھانوں میں سے تھوڑا تھوڑا اس میں رکھتے رہتے تھے اس کے بعد حکم دیتے تھے کہ اس کو فقراء میں تقسم کردیا جائے اس وقت آپ اس آیت کی تلاوت فرماتے رہتے تھے:’’فلا اقتحم العقبہ۔۔ ‘‘۔
اس کے بعد آپ فرماتے تھے کہ خدا کو معلوم ہے کہ ہر شخص غلام آزاد نہیں کرسکتا لہٰذا اس طرح کے کھانا کھلانے کو جنت جانے کا ذریعہ قرار دیا۔(2)
غفاری کا بیان ہے: میں نے آل ابی رافع کے ایک شخص سے فلاں مقدار میں قرض لیا تھا وہ بار بار مجھ سے اپنے قرض کا مطالبہ کر رہا تھا اور میں قرض ادا کرنے پر قادر نہیں تھا اس وجہ سے میں نے نماز صبح مسجد النبی(ص) میں پڑھی اور امام رضا (ع)کی تلاش میں نکلا آپ اس زمانے میں’’عریض‘‘ میں تھے۔جب میں وہاں پہونچا امام (ع)کو دیکھا امام پیراہن پہنے عبا اور اوڑھے اپنے مرکب پر سوار تھے۔مجھے شرم لگی اور میں نے آپ سے کچھ نہیں کہا آپ جب میرے پاس آئے مجھے دیکھا میںنے سلام کیا اور عرض کیا کہ آپ کے فلاں چاہنے والے کا میرے ذمہ قرض ہے اور اس نے اس کے مطالبہ میں مجھے رسوا کر رکھا ہے میں سوچ رہا تھا کہ آپ اسے نصیحت کردیں وہ اپنے مطالبہ سے دست بردار ہو جائے البتہ میں نے امام (ع)سے یہ نہیں بتایا کہ قرض کی مقدار کتنی ہے۔
آپ نے مجھ سے فرمایا: بیٹھو میں ابھی واپس آتا ہوں۔
میں وہیں رکا رہا یہاں تک کہ مغرب کا وقت ہوگیا میں نے نماز مغرب ادا کی روزہ سے بھی تھا لہٰذا تھک گیا تھا اور واپسی کا ارادہ کر رہا تھا کہ آپ تشریف لے آئے کچھ لوگ آپ کے گرد جمع تھے اور آپ کے سامنے اپنی حاجت پیش کر رہے تھے اور آپ ان کو صدقہ دے رہے تھے اس کے بعد آپ گھر کے اندر گئے اور مجھے بھی گھر میں بلالیا میں گھر میں داخل ہوا دونوں ساتھ ساتھ بیٹھے میں مدینہ کے حاکم ابن مسیب کے بارے میں آپ سے گفتگو کر رہا تھا جب میری بات ختم ہوئی۔تو آپ نے فرمایا: میرا خیال ہے ابھی تم نے افطار نہیں کیا۔
میں نے عرض کیا: نہیں!
آپ نے حکم دیا:  میرے لئے کھانا لایا گیا۔
پھر آپ نے اپنے غلام سے فرمایا: میرے ساتھ کھانا کھائے۔
کھانا کھانے کے بعد مجھ سے فرمایا: اس تکیہ کو ہٹاؤ اور جو اس کے نیچے ہو اسے لے لو۔
میں نے آپ کے حکم پر عمل کیا اور وہاں موجود دینار اٹھائے اور اپنے لباس کی آستین میں رکھ لیا۔ اپنے چار غلاموں کو حکم دیا کہ میرے گھر کے باہر تک میری ہمراہی کریں۔
میں نے عرض کیا: کہ ابن مسیب کے افراد رات میں گشت کرتے رہتے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ وہ مجھے آپ کے غلاموں کے ساتھ دیکھیں۔
آپ نے فرمایا:تم صحیح کہہ رہے ہو اس کے بعد اپنے غلاموں سے فرمایا جہاں سے یہ کہیں واپس آجانا۔
میں اپنے گھر پہونچا چراغ روشن کیا اور دیناروں کو گنا تو وہ ۴۸ دینار تھے جب کہ میرا قرض کل ۲۸ دینار تھا۔
ان میں سے ایک دینار میں کچھ خاص چمک پائی جارہی تھی مجھے اس سے دلچسپی ہوئی اور میں نے چراغ کے پاس اسے لیجا کردیکھا اس پر لکھا تھا تمہارا قرض ۲۸ دینار ہے لیکن باقی ۲۰ دینار بھی تمہارے ہی ہیں۔غفاری کا بیان ہے کہ خدا کی قسم مجھے بالکل صحیح نہیں یاد تھا کہ اس شخص کا مجھ پر کتنا قرض ہے۔(3)
آپ کے خادم یاسر کا بیان ہے: جب امام رضا (ع)تنہائی میں بیٹھتے تھے تو اپنے تمام چھوٹے بڑے غلاموں کو اکٹھا کرتے تھے اور ان سے گفتگو کرتے تھے جب کھانے کے لئے دستر خوان پر بیٹھتے تھے سب کو اپنے ساتھ دسترخوان پر بٹھاتے تھے۔(4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔بحار الانوار، ج۴۹، ص۱۰۰۔
2۔بحار الانوار، ج۴۹، ص۹۷۔
3۔الارشاد، ج۲، ص۲۵۵،؛ بحار الانوار، ج۴۹، ص۹۷۔
4۔بحار الانوار، ج۴۹، ص۱۶۴۔

انتخاب و ترجمہ:سید حمیدالحسن زیدی(الاسوہ فاؤنڈیشن سیتاپور)



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین