Code : 2245 204 Hit

مزدور کی اجرت نہ دینا گناہ کبیرہ ہے

اللہ کے رسول(ص) کا ارشاد ہے:’’اللہ ہر ایک کے گناہ کو بخش سکتا ہے لیکن دین میں بدعت ایجاد کرنے ،مزدور کی مزدوری نہ دینے اور کسی آزاد شخص کو غلام بنا کر بیچنے والے کے گناہ کو کبھی معاف نہیں کرتا‘‘۔(عیون الاخبار رضا)

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آج کے ان آشفتہ حالات میں کہ جہاں ایک طرف سرمایہ دار اپنے سرمائے کو بڑھانے کے لئے نت نئے طریقے استعمال کررہے ہیں وہیں دوسری طرف مہنگائی،بے روزگاری اور کرپشن نے پوری دنیا کے غریبوں اور مزدوروں کو اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا ہے۔ جہاں ایک طرف سرمایہ دار ممالک بڑی بڑی رقموں کے ہتھیار خرید کر نہتے لوگوں کو ذبح کررہے ہیں اور ان تک روز مرہ کی ضرورتوں کا سامان بھی نہیں پہونچنے دے رہے ہیں۔ ایک طرف کھانے پینے کی چیزوں کا اسراف ہے تو دوسری طرف اس دنیا میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جنہیں پیٹ بھر کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج سب سے بڑا مسئلہ روزگار کا ہے اور اکثر مزدوروں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ ہم کام تو پورا کرتے ہیں لیکن ہمیں اجرت کم یا بالکل نہیں دی جاتی اور ایسے حالات میں کہ جب اسلامی تعلیمات کو نظر انداز کیا جارہا ہے تو ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام مزدوروں کے بارے میں کیا نظریہ رکھتا ہے۔ اور اپنے ماننے والوں سے کیا مطالبہ کرتا ہے؟
اسلام میں محنت و مشقت کرنے کی اہمیت
ایک روایت میں وارد ہوا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے حواریوں! تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے ہاتھوں سے کام کرتا ہے اور اپنے ہاتھوں کا کمایا ہوا کھاتا ہے۔(قرب الاسناد)
جس وقت رسول اللہ(ص) جنگ تبوک سے واپس تشریف لارہے تھے سعد انصاری آنحضرت کے استقبال کے لئے دوڑے۔پیغمبر اکرم(ص) نے ان سے مصافحہ کیا اور جب ان کے ہاتھوں کی سختی کو محسوس کیا تو سعد سے دریافت فرمایا: سعد! تمہارے ہاتھ اتنے ٹھوس اور سخت کیوں ہیں؟ سعد نے عرض کیا: یا رسول اللہ(ص)! میں بیلچہ چلتا ہوں اور کنویں سے پانی کے ڈول کھینچتا ہوں اس طرح میری اور میرے اہل و عیال کی گذر بسر ہوتی ہے۔ اللہ کے رسول(ص) نے ان کے ہاتھوں کو چوم لیا اور ارشاد فرمایا:’’ان ہاتھوں تک دوزخ کی آگ نہیں پہونچے گی‘‘۔(اسدالغابۃ،جلد 2،ص 165)
اسی طرح پیغمبر اکرم(ص) نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا:’’سب سے پاکیزہ مال ہاتھوں سے کمایا ہوا ہوتا ہے‘‘۔(جامع الصغیر جلد 1،ص144)
مزدور کیسا ہو؟
امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) نے مالک اشتر کو لکھے اپنے عہدنامہ میں عمال اور حکومتی کام کاج انجام دینے والوں کو انتخاب کرنے کے لئے ارشاد فرمایا:’’مالک! کسی کو کام پر رکھنے سے پہلے اچھی طرح غور و فکر کرلو،کام پر لگانے سے پہلے اسے آزما لو اور بغیر امتحان اور کسی قاعدے و قانون کے بغیر اسے کام پر لگانے سے پرہیز کرو،چونکہ ان دونوں طریقوں کا لازمہ ظلم و خیانت ہوتا ہے‘‘۔(نہج البلاغہ :مکتوب53)
اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں مزدور کے سلسلہ سے کام پر رکھنے والے(مالک یا مؤجر) پر اس کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے دو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:
1۔اس کی مزدوری اور اجرت کو طئے کرنا۔
2۔وقت پر اسے ادا کرنا۔
چنانچہ رسول اللہ(ص) کا فرمان ہے:’’ جب تم کسی کو اپنے یہاں کام کے لئے بلاؤ اس کی اجرت اور مزدوری پہلے اسے بتلا دو۔
اسی طرح ایک دیگر حدیث میں ارشاد فرمایا:’’مزدور کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کردو‘‘۔
مزدور پر ظلم کرنے کے آثار
کسی معاشرے کے انحطاط و زوال کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں مزدور بیچاروں سے دن بھر کام تو لے لیا جاتا ہے لیکن جب کام ختم کرکے جانے لگتے ہیں انہیں ان کی مزدوری اور حق سے محروم کردیا جاتا ہے اور طرح طرح کے بہانے تراشے جاتے ہیں کہ آج نہیں ہے کل لے لینا یا اکھٹا ہی حساب کردیں گے ان لوگوں کو یہ معلوم ہوجانا چاہیئے کہ ہم نے کام کے لئے ایک مزدور کو بلایا تھا کسی سرمایہ دار کو نہیں ،مزدور کو اتنا ہی ملتا ہے جس سے اس کی زندگی گذر بسر جائے اور اس کا خرچ نکل جائے۔ اس کے پاس اگر دولت کا انبار ہوتا تو وہ بے چارہ مزدوری کیوں کرتا؟ لہذا مالکوں اور ٹھیکیداروں کو یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ اس مزدور کی اجرت اسے ہر دن دی جائے۔چونکہ وقت پر مزدور کی اجرت نہ دینا یا کچھ مزدوری روک لینا اس کے حق میں ظلم شمار ہوتا ہے اور روایات میں اس کے بارے میں انسان کو متوجہ کیا گیا ہے جیسا کہ رسول اللہ(ص) نے ارشاد فرمایا:’’مزدوروں کی اجرت نہ دیکر ستم کرنا گناہ کبیرہ ہے‘‘۔(بحار الانوار، جلد 100،ص 78)
 ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:’’اللہ ہر ایک کے گناہ کو بخش سکتا ہے لیکن دین میں بدعت ایجاد کرنے ،مزدور کی مزدوری نہ دینے اور کسی آزاد شخص کو غلام بنا کر بیچنے والے کے گناہ کو کبھی معاف نہیں کرتا‘‘۔(عیون الاخبار رضا)
اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہوا:’’اللہ ،فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اس شخص پر جو مزدور کی اجرت ادا نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسے شخص سے اس کے عوض کسی مال یا دوسری چیز کو قبول نہیں کرے گا‘‘۔(تفسیر القمی، جلد 2)


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम