Code : 4077 20 Hit

غدیر عہد الستُ کے اقرار کا دن

غدیر اسلام کی جوانی ہے ،ایمان کی نشانی ہے، مودت کی روانی ہے، بلّغ کی کہانی ہے ، اہل ولا کی جاودانی ہے، مولائے کل کی کہانی ہے، غدیر دریائے علم کا دھارا ہے، بحر غم کا کنارہ ہے، چشم نم کا تارہ ہے، شام الم کا سہارا ہے، صبح امید کا سویرا ہے، قرآن وفا کا پارہ ہے۔ ذکر غدیر سے ایمان تازہ ہوجاتا ہے، کینہ کافور ہوجاتا ہے، قلب مومن معمور ہوجاتا ہے۔ دنیا کا غم دور ہوجاتا ہے، ذکر غدیر اہل ولا کو مسرور کردیتا ہے، اہل عناد کو مسحور کردیتا ہے، بینائی قلب و چشم کو تیز کردیتا ہے، صحن مودت کو عطر بیز کردیتا ہے، افق ولایت کو سحرانگیز بنادیتاہے، گوشوارۂ محبت کو دل آویز بنا دیتا ہے۔

ولایت پورٹل: غدیر کا دن عہد الستُ کے اعلان و اظہار کا دن ہے، عہد ولایت کے ایقان و اقرار کا دن ہے، اسلام کی سب سے بڑی عید کا دن ہے، اسلام کی شادابی کا دن ہے، تکمیل دین نبی(ص) کا دن ہے، کفار و منافقین کے پچھتاوے اور حسرت و مایوسی کا دن ہے، مؤمنین و متقین کے شکرانے اور بہجت و شادمانی کا دن ہے، شہزادیِ کائنات کے سرتاج کی کامرانی کا دن ہے ، مولائے کائنات کی تاج پوشی کا دن ہے، سرورِ کائنات کے داماد کی کامیابی کا دن ہے، آیۂ بلّغ کے نزول کا دن ہے، اعلان جانشینیِ رسول(ص) کا دن ہے، اکمال دین و اتمام نعمت کے حصول کا دن ہے۔
غدیر رسالت و امامت کا موڑ ہے، نبوت و امامت کا جوڑ ہے، طلسم سقیفہ کا توڑ ہے،غدیر قلزم ولایت کا سفینہ ہے، چشمۂ سعادت کا خزینہ ہے، خاتم وصایت کا نگینہ ہے، شرف انسانیت کا قرینہ ہے ، اسرار کن کا دفینہ ہے ، منازل سلوک کا زینہ ہے، یادگار مدینہ ہے، مضراب عقیدت کا ترانہ ہے ، میراث امام زمانہ(عج) ہے۔
غدیر اسلام کی جوانی ہے ،ایمان کی نشانی ہے، مودت کی روانی ہے، بلّغ کی کہانی ہے ، اہل ولا کی جاودانی ہے، مولائے کل کی کہانی ہے، غدیر دریائے علم کا دھارا ہے، بحر غم کا کنارہ ہے، چشم نم کا تارہ ہے، شام الم کا سہارا ہے، صبح امید کا سویرا ہے، قرآن وفا کا پارہ ہے۔ ذکر غدیر سے ایمان تازہ ہوجاتا ہے، کینہ کافور ہوجاتا ہے، قلب مومن معمور ہوجاتا ہے۔ دنیا کا غم دور ہوجاتا ہے، ذکر غدیر اہل ولا کو مسرور کردیتا ہے، اہل عناد کو مسحور کردیتا ہے، بینائی قلب و چشم کو تیز کردیتا ہے، صحن مودت کو عطر بیز کردیتا ہے، افق ولایت کو سحرانگیز بنادیتاہے، گوشوارۂ محبت کو دل آویز بنا دیتا ہے۔
غدیر کے نصف النہار کا سورج تمام جن و انس بلکہ کائنات کے ذرہ ذرہ کو اپنے وجود ذیجود سے فیض پہنچا رہا ہے اور ہر شئے اپنی ظرفیت و صلاحیت کے لحاظ سے فیضیاب ہورہی ہے لیکن غدیر سے منہ موڑنے والوں کی روگردانی سے ،اس کی حقیقت کا انکار کرنے والوں کے انکار سے اور شاہ ولایت سے بغض و حسد رکھنے والوں کے بغض و کینہ سے غدیر کے نیر تاباں کی روشنی مدّہم ہوسکی ہے نہ اس کی سطوت و شوکت اور رفعت و منزلت میں کمی آسکتی ہے نہ سقیفائی شپرہ چشمی اس کی ضیاء پاشیوں کو روک سکتی ہے اور نہ ہی خلافت کے گھاگھ نیتاؤں کی سیاسی چال اس کی بساط عظمت و جلالت پر کوئی کرتب دکھا سکتی ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین