Code : 4088 16 Hit

جملہ آئمہ(ع) کی ولایت و امامت کے اقرار کا دن ہے غدیر

غدیر کے دن صرف ولایت و امامت کا اعلان نہیں ہوا بلکہ حضرت علی(ع) اور آپ کے فرزندوں میں سے گیارہ دیگر اَئمہ علیہم السلام کی امامت اور رہبری کے لئے مسلمانوں کی ’’عمومی بیعت نے ایک تاریخی حقیقت کا روپ اختیار کیا، یہ عمومی بیعت ولایت کے اعلان کے لئے اور ولایت کو مستحکم کرنے کے لئے ممد و معاون اور پشت پناہ بنی، اب اسکے بعد حضرت امیر المؤمنین(ع) خدا کی طرف سے بھی منصب امامت پر فائز ہوگئے تھے۔اور لوگوں کی حمایت بھی حاصل ہو گئی تھی،خدا نے بھی انکو چن لیا تھا اور لوگوں نے بھی منتخب کر لیا تھا ۔

ولایت پورٹل: غدیر کے دن صرف ولایت و امامت کا اعلان نہیں ہوا بلکہ حضرت علی(ع) اور آپ کے فرزندوں میں سے گیارہ دیگر اَئمہ علیہم السلام کی امامت اور رہبری کے لئے مسلمانوں کی ’’عمومی بیعت نے ایک تاریخی حقیقت کا روپ اختیار کیا، یہ عمومی بیعت ولایت کے اعلان کے لئے اور ولایت کو مستحکم کرنے کے لئے ممد و معاون اور پشت پناہ بنی، اب اسکے بعد حضرت امیر المؤمنین(ع) خدا کی طرف سے بھی منصب امامت پر فائز ہوگئے تھے۔اور لوگوں کی حمایت بھی حاصل ہو گئی تھی،خدا نے بھی انکو چن لیا تھا اور لوگوں نے بھی منتخب کر لیا تھا ، فرصت طلب منافقوں اور چالبازوں کے لئے کسی عذر اور بہانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تھی اور یہی وجہ تھی کہ جنگی ہتھکنڈوں اور مسلّحانہ کاروائیوں کے ذریعہ اپنے ناپاک اہداف تک پہنچنے کی کوششیں شروع کیں اورآخر کار رسولِ خدا (ص) کے بعد فوجی بغاوت کے ذریعہ اپنے ناپاک اہداف تک پہنچ گئے ، اگر غدیر کا دن صرف ولایت کے اعلان کے لئے تھا تو پھر جناب رسولِ خدا(ص) نے حضرت علی(ع) کی بیعت کیوں کی؟ اور فرمایا:’’أَناٰ آخِذٌ بِیَدِہٖ وَمُصْعِدُہُ إِلَیَّ وَ شٰآئِلٌ بِعَضُدِہٖ وَ رٰافِعُہُ بِیَدَی وَ مُعَلِّمُکُم أَنَّ مَنْ کُنْتُ مَوْلاَہُ فَھٰذٰاعَلِیٌّ مَوْلاَہُ، وَھُوَعَلِیُّ بْن أَبِیْ طاٰلِبٍ أَخِی وَ وَصِیِّیْ وَ مَواْلاَتُہُ مِنَ اﷲ ِ عَزَّ وَ جَلَّ أَنْزَلَھٰا  عَلَیّ‘‘۔
اس وقت جسکا ہاتھ پکڑ کر بلند کررہا ہوں( حضرت علی(ع) کا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا) اور تم لوگوں کو آگاہ کر رہا ہوں ، حق یہ ہے کہ جس جس کا میں مولیٰ اور سرپرست ہوں اس اس کا یہ علی(ع) بھی مولیٰ اور سرپرست ہیں اور وہ علی(ع) جو ابو طالب(ع) کا بیٹا میرا بھائی اور جانشین ہے اور جسکی سرپرستی کے اعلان کے لئے خداوند عالم کی طرف سے مجھ پر حکم نازل ہوا ہے۔
پھر سب مسلمانوں کو حضرت علی(ع) کی بیعت کا حکم دیا جسکا سلسلہ اسکے دوسرے دن تک جاری رہا اگر ہدف صرف ولایت کا اعلان تھا تو آپ(ع) نے دیگر اَئمہ معصومین علیہم السلام کی تا قیامت جاری رہنے والی امامت کا تذکرہ کیوں کیا؟ اور حضرت علی(ع) انکی اولاد اور حضرت مہدی(عج) کی بیعت کا حکم کیوں صادر فرمایا:’’فَأُمِرْتُ أَنْ اٰخُذَ الْبَیْعَۃَ مِنْکُمْ وَ الصَّفَقَۃَ لَکُمْ بِقَبُوْلِ مٰاجِئْتُ بِہٖ عَنِ اﷲ عَزَّ وَ جَلَّ فٖیْ ’’عَلِیٍّ‘‘ أَمٖیْرِا لْمُؤْمِنٖیْنَ وا لْأَوْصِیٰاِء مِنْ بَعْدِہٖ الَّذٖیْنَ ھُمْ مِنِّیْ وَ مِنْہُ  إِمٰامَۃً؛ فٖیْہِم الْمَھْدِیُّ إِلیٰ یَوْمِ یَلْقیَ اﷲِ  الَّذٖیْ یُقَدِّرُ وَ یَقْضٖیْ‘‘۔
پس خدا وند بزرگ و برتر کی طرف سے مجھے حکم ملا کہ علی امیر المؤمنین کے لئے تم لوگوں سے بیعت لوں اور انکے بعد آنے والے اماموں کے لئے بھی بیعت کرالوں وہ آئمہ جو سارے مجھ سے اور علی(ع) سے ہیں اور انھیں میں قائم مہدی(ع) بھی ہیں جو تا روز قیامت حق سے قضاوت کر یں گے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین