Code : 4079 28 Hit

غدیر اسلامی تاریخ کا مقدر ساز واقعہ ہے : آیت اللہ خامنہ ای

واقعۂ غدیر بہت ہی اہم واقعہ ہے، تاریخ اسلام کی تعیین کرنے والا ہے، اس واقعہ کو دو طریقوں اور دو زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کا ایک پہلو شیعوں سے مخصوص ہے اور دوسرا تمام اسلامی فرقوں سے متعلق ہے۔ دوسرے پہلو کے لحاظ سے دنیا کے تمام مسلمانوں کے اندر یہ فکر و احساس پیدا ہونا چاہیئے کہ عید غدیر جو کہ اس واقعہ کی یاد دلاتی ہے، سارے مسلمانوں کی عید ہے، فقط شیعوں کی نہیں۔

ولایت پورٹل: واقعۂ غدیر بہت ہی اہم واقعہ ہے، تاریخ اسلام کی تعیین کرنے والا ہے، اس واقعہ کو دو طریقوں اور دو زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کا ایک پہلو شیعوں سے مخصوص ہے اور دوسرا تمام اسلامی فرقوں سے متعلق ہے۔ دوسرے پہلو کے لحاظ سے دنیا کے تمام مسلمانوں کے اندر یہ فکر و احساس پیدا ہونا چاہیئے کہ عید غدیر جو کہ اس واقعہ کی یاد دلاتی ہے، سارے مسلمانوں کی عید ہے، فقط شیعوں کی نہیں۔
اس واقعہ کا پہلا پہلو، جیسا کہ بیان کیا گیا ہے، شیعوں سے مخصوص ہے۔ کیونکہ اس واقعہ میں امیرالمؤمنین(ع)، رسول(ص) کے توسط سے خلافت کے لئے منصوب ہوئے ہیں اور اسی دن اسی ماجرا کے بارے میں کسی نے رسول(ص) سے دریافت کیا:علی(ع) کی خلافت کا اعلان آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟
اللہ کے رسول(ص) نے فرمایا:  ’’مِنَ اللّٰہِ وَرَسُولِہٖ‘‘ ۔(الاحتجاج علی اہل اللجاج طبرسی، ج۱ص۸۲)
یعنی خدا کی طرف سے بھی ہے اور میری طرف سے بھی ہے۔ اس لئے شیعہ اس واقعہ کو اہمیت دیتے ہیں اور اسی واقعہ کی بنا پر شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ علی(ع) بلافصل خلیفہ ہیں۔اسلام کی پوری تاریخ میں اس واقعہ سے خلافت امیرالمؤمنین(ع) پر استدلال و استنباط کے بارے میں بہت سی کتابوں میں بحث ہوئی ہے۔ جس موضوع کے بارے میں ہزاروں قلموں نے لکھا ہو اور ہزاروں زبانوں نے بیان کیا ہو، میں اس میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔
اس واقعہ کا دوسرا پہلو، پہلے پہلو سے کم اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ ایک چیز شیعہ و سنی کے درمیان مشترک ہے جس کی میں کچھ زیادہ تشریح کروںگا۔
یہ واقعہ اس طرح ہے کہ ہجرت کے دسویں سال رسول(ص) نے مدینہ اور جزیرۃ العرب کے دوسرے علاقوں کے مسلمانوں کے ساتھ حج کیا۔ اس سفر میں رسول(ص) نے اسلامی، سیاسی فوجی و اخلاقی و اعتقادی مفاہم بیان کرنے کے لئے حج سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ منقول ہے کہ منیٰ میں رسولؐ نے دو خطبے دئیے تھے، ظاہراً ایک دسویں ذی الحجہ کو اس گہماگہمی کے ماحول میں دیا تھا اور دوسرا ایام تشریق  ۱؎ کے اختتام پر دیا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ دو خطبے ہیں ایک نہیں۔ ان خطبات میں رسول(ص) نے تقریباً ساری چیزیں بیان کردی تھیں۔ زیادہ تر سیاسی مسائل بیان کئے تھے۔ انسان اچھی طرح محسوس کرتا ہے کہ آج دنیائے اسلام میں جو لوگ حج کو سیاسی مسائل سے جدا قرار دیتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ حج میں بس عبادت ہونی چاہیئے اور ہر سیاسی مسئلہ کو حج کے دائرہ سے جدا تصور کرتے ہیں، یہ لوگ تاریخ اسلام اور سیرت نبی اکرم(ص) سے کتنی دور اور اس سے کس قدر بیگانہ ہیں۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین