Code : 1513 29 Hit

رمضان المبارک کے باقی ماندہ لمحات میں بخشش کا پروانہ وصول کرنے کا طریقہ

ماہ رمضان المبارک کے آخری لمحات سے بہرہ مندی کا ہمارے پاس صرف یہی سرمایہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالٰی کے فضل سے امید ہے۔ اگر ہم اپنے اعمال پر بھروسہ کریں اور یہ چاہیں کے ان کے ذریعہ بندگی کی راہ پر چلیں تو یقینی طور پر ہمیں ناکامی ہوگی لیکن اگر انسان بندگی کے راستہ پر چلتے ہوئے مضطر ہوجائے تو بند دروازے کھل جائیں گے۔

ولایت پورٹل: اس برس کے رمضان المبارک کی برکت، مغفرت اور رحمت سے مستفید ہونے کے لئے گذشتہ برس عید کے اگلے دن سے ہی آمادگی شروع کردینا چاہیئے تھی اور تیاری کرنا شروع کردینا چاہیئے تھا ۔اور واقعاً کچھ لوگوں نے یہ کام کیا اور مسلسل ایک برس تک وہ اپنا مراقبہ و محاسبہ کرتے رہے تب جاکر انہیں اس برس رمضان المبارک کی برکتوں سے مستفید ہونے کا موقع میسر ہوا۔ انہیں شب قدر کا ادراک بھی ہوا لیکن جن لوگوں نے اپنے مراقبہ و محاسبہ میں کوتاہی کی ہے۔ رمضان المبارک کے ان آخری لمحات میں وہ کیسے ان سب چیزوں کی بھرپائی و تدارک کرسکتے ہیں؟
رمضان المبارک کی آخری رات آخری فرصت
امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: جیسے ہی ماہ رمضان کی پہلی شب آتی ہے اللہ تعالٰی اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جیسے ہی اگلی شب پہونچتی ہے تو پہلی رات کے دو گنا تعداد میں لوگوں کی بخشش کردیتا ہے ،اس کے اگلی رات اب تک بخش دیئے گئے لوگوں کے دوگُنا لوگ بخش دیئے جاتے ہیں یہاں تک کہ ماہ رمضان المبارک کی آخری رات آتی ہے اللہ تعالٰی اس اکیلی رات میں پورے رمضان میں بخش دیئے گئے لوگوں کے دو برابر گنہگاروں کو جہنم کی آگ سے نجات دیتا اور بخشتا ہے۔( بحارالأنوار، علامه مجلسی، ج96، ص 381، ح 6)
رمضان المبارک کی آخری گھڑیوں سے استفادہ
قارئین کرام! رمضان المبارک کی ان آخری گھڑیوں سے مندرجہ ذیل دو طریقوں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے:
الف) اللہ کے فضل کی امید
ماہ رمضان المبارک کے آخری لمحات سے بہرہ مندی کا ہمارے پاس صرف یہی ایک سرمایہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالٰی کے فضل سے امید ہے۔ اگر ہم اپنے اعمال پر بھروسہ کریں اور یہ چاہیں کہ ان کے ذریعہ شاہ راہ بندگی پر ثابت قدم رہیں تو یقینی طور پر ہمیں ناکامی ہوگی لیکن اگر انسان بندگی کے راستہ پر چلتے ہوئے اپنے اندر کیفیت اضطرار پیدا کرلے تو بند دروازے کھل سکتے ہیں۔ اور انسان یہ محسوس کرے گا کہ سارا عالم، کل جہاں اللہ تعالٰی کے فضل کے سہارے چل رہا ہے اور اس میں سب کچھ اللہ کا فضل اور عطا ہے اور ایسا نہیں ہے کہ اس عالم میں کوئی کسی چیز کا مستحق ہو یا اس نے محنت کی ہو اور یہ سب چیزیں اس کی محنت کا نتیجہ ہوں ۔ نہیں! اس دنیا و جہاں میں جو کچھ بھی کسی کے پاس ہے وہ اللہ تعالٰی کا فضل اور اس کی عطا ہے۔چنانچہ دعائے کمیل کا یہ فراز اسی امر کی جانب اشارہ ہے:’’ اَللّهُمَّ ... وَاجْعَلْنى مِنْ اَحْسَنِ عَبیدِكَ نَصیباً عِنْدَكَ وَ اَقْرَبِهِمْ مَنْزِلَةً مِنْكَ وَ اَخَصِّهِمْ زُلْفَةً لَدَیْكَ فَاِنَّهُ لا یُنالُ ذلِكَ اِلاّ بِفَضْلِكَ ...‘‘۔
خدایا مجھے بہترین حصہ پانے والا ،قریب ترین منزلت رکھنے والا اور مخصوص ترین قربت کا حامل بندہ قرار دینا کہ یہ کا م تیرے فضل و کرم کے بغیر نہیں ھو سکتا۔
اور فضل الہی کے دروازوں کو ۲ چابیاں ہیں:
1۔نعمتوں کا شکر ادا کرنا
ایک ایسا عمل جس کے سبب انسان فضل خدا کو بہترین اور متقن انداز میں درک و مشاہدہ کرسکتا ہے یہ ہے کہ اس کا شمار حامدین میں ہوجائے۔ حامدین ان بندگان خدا کو کہتے ہیں کہ جن کی نگاہیں ہمیشہ اللہ کی نعمتوں کی طرف ہوں اور مسلسل اس کی نعمتوں کا مشاہدہ کررہے ہوں اور ان سب نعمتوں کو اپنے اور کسی غیر کی طرف کبھی نسبت نہیں دیتے( یعنی یہ نہیں کہتے یہ گھر میری محنت کی کمائی کا ہے، فلاں کام میں نے کیا ہے وغیرہ وغیرہ) بلکہ ہمیشہ اللہ کے شکرگذار ہیں اور ساری نعمتوں کو اللہ کی راہ اور اس کے مقصد میں خرچ کرتے ہیں۔
2۔ غفلت سے بیداری
اگر انسان فضل خدا کا مشاہدہ کرلیتا ہے تو اس میں آہستہ آہستہ یہ قابلیت پیدا ہوجاتی ہے کہ اسے اپنے گناہوں پر پشیمان و شرمندہ ہوجانے کا ہنر آجاتا ہے جس کے سبب اس کے لئے خالصانہ توبہ کا مقدمہ فراہم ہوجاتا ہے اور جب انسان مرتبہ استغفار پر پہونچ جاتا ہے تو فضل الہی کے دروازے خود بخود اس پر کھل جاتے ہیں۔
ماہ رمضان کی آخری رات امام سجاد علیہ السلام کی وہ دعا جس میں آپ نے اللہ کے حضور اس طرح دعا فرمائی کہ جیسے ایک شخص ابتداء سے یہ جانتا ہو کہ اس کا تمام سرمایہ ختم ہوچکا ہے ،فرصتیں تمام ہوگئیں ہیں اور ضیافت الہی کے اسباب سمیٹ لیئے گئے ہیں  لیکن اس کے ہاتھ ابھی بھی خالی کے خالی ہی ہیں:’’اللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ إِقْرَارا بِالْإِسَاءَةِ،وَ اعْتِرَافا بِالْإِضَاعَةِ‘‘۔پروردگار! تمام حمد تیری ہی ذات سے مخصوص ہے پروردگار تونے تو مجھے اپنے ضیافت کے دسترخوان پر لا بٹھایا تھا لیکن میں نے کوتاہی کی ۔تونے تو میرے ساتھ بھلائی کی اور دسترخوان کرم پر مجھے مدعو کیا لیکن میں نے خوشہ چینی میں کوتاہی کی۔
پس اگر ماہ رمضان المبارک کے آخری لمحات میں ہم اللہ تعالٰی کی اس طرح حمد کرسکیں اور اس کے حضور استغفار کرسکیں تو ہم پر فضل الہی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ہم کوتاہی کے باوجود بھی اس کی بارگاہ میں فریاد کرسکتے ہیں:
بار الہا! میں تیرا گنہگار بندہ ہوں مجھے معاف کردے۔
پروردگار! اگرچہ تیرا دسترخوان کرم تو وسیع تھا لیکن کیا کروں میرا ہاتھ تو خالی رہ گیا۔
خدایا! کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ تیرے سارے مہمان دست پُر لوٹیں لیکن تیرے اس فقیر و مسکین بندے کی جھولی خالی رہے۔
خدایا! مجھے اپنی ضیافت سے خالی ہاتھ نہ پلٹا۔
پروردگار! اس مہینہ کی ان آخری گھڑیوں کا واسطہ میرے گناہوں کو معاف فرما!
ب) اپنے اعمال کو امام زمانہ(عج) کو ہدیہ کرنا
ماہ مبارک رمضان کے آخری لمحات اور الوداعی گھڑیوں میں اپنے اعمال پر غرور نہ کیجئے۔ ہمارے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ہے بلکہ ہمیں میدان عمل میں بہت کوشش کرنا چاہیئے اور ساتھ ہی اپنے کو خالی ہاتھ تصور کرنا چاہیئے۔چونکہ شیطان دروازے کے پیچھے اس انتظار میں کھڑا ہے کہ کب رمضان المبارک میں باندھی گئیں اس کی زنجیریں کھلیں کب وہ ہماری ساری محنت کو تباہ کردے۔ پس بہت ہمت سے اس حاصل شدہ نعمت(عمل) کی حفاظت کیجئے اور اللہ کی بارگاہ میں عاجزانہ دعا کیجئے کہ پروردگار ہماری مدد فرما تاکہ ہم اس توشہ کی بنیاد پر آئندہ سال رمضان المبارک اور اس کی شب قدر کو بہتر طور پر درک کرسکیں۔
ان تمام اعمال کو اللہ کی خاص توفیق اور اس کی عطا کا ثمرہ تصور کرتے ہوئے انہیں امام زمانہ(عج)کے سپرد کردیں اور بہتر ہے کہ ہم ان اعمال کو حضرت کو ہدیہ کردیں۔اور ہدیہ کا معنٰی یہ نہیں ہے کہ(العیاذ باللہ) حضرت کو ان کی کوئی ضرورت ہے۔ بلکہ ہدیہ کرنے کا مطلب یہ ہے آپ حضرت صاحب العصر(عج) سے یہ درخواست کریں کہ مولا! شیطان گھات لگائے بیٹھا ہوا ہے اور اس گرانقدر سرمائے کی حفاظت کرنے میں ہم سے کوتاہی ہوسکتی ہے لہذا ہمارے یہ اعمال آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔

اللھم عجل لولیک الفرج


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम