Code : 1120 34 Hit

وہابی فرقہ کہاں سے اور کیسے وجود میں آیا؟

سب سے پہلے وہابی فرقہ کو بنانے والا اور اس کو پھیلانے کے لئے انتھک کوشش کرنے والا شخص محمد بن عبد الوہاب ہے جو بارہویں صدی ہجری کے نجدی علماء میں سے تھا۔لیکن یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہابیت کے عقائدکو وجود بخشنے والا یہ پہلا شخص نہیں ہے بلکہ صدیوں پہلے یہ عقیدے مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے رہے ہیں، لیکن یہ ایک نئے فرقہ کی صورت میں نہیں تھے اور نہ ہی ان کے زیادہ طرفدار تھے۔

ولایت پورٹل: سب سے پہلے وہابی فرقہ کو بنانے والا اور اس کو پھیلانے کے لئے انتھک کوشش کرنے والا شخص محمد بن عبد الوہاب ہے جو بارہویں صدی ہجری کے نجدی علماء میں سے تھا۔(اس کی سوانح حیات اسی کتاب کے تیسرے باب میں بیان ہوگی)۔
لیکن یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہابیت کے عقائدکو وجود بخشنے والا یہ پہلا شخص نہیں ہے بلکہ صدیوں پہلے یہ عقیدے مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے رہے ہیں، لیکن یہ ایک نئے فرقہ کی صورت میں نہیں تھے اور نہ ہی ان کے زیادہ طرفدار تھے۔(1)
ان میں سے چوتھی صدی میں حنبلی فرقہ کے مشہور و معروف عالم دین ’’ابومحمد بَربہاری‘‘ نے قبور کی زیارت سے منع کیا، لیکن خلیفہ عباسی نے اس مسئلہ کی بھرپور مخالفت کی۔
حنبلی علماء میں سے ’’عبد اللہ بن محمد عُکبَری‘‘ مشہور بہ ابن بطّہ (متوفی ۳۸۷ھ) نے پیغمبر اکرم(ص)کی زیارت اور شفاعت کا انکار کیا۔(2) اس کا عقیدہ تھا کہ حضرت رسول اکرم(ص) کی قبر منور کی زیارت کے لئے سفر کرنا گناہ ہے، اسی بناپر اس سفر میں نماز پوری و کامل پڑھنا چاہئے اور قصر پڑھنا جائز نہیں ہے۔(3)
اسی طرح اس کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ اگر کوئی شخص انبیاء اور صالحین کی قبور کی زیارت کے سفر کو عبادت مانے، تو اس کا عقیدہ اجماع اور سنت پیغمبر اکرم(ص) کے خلاف ہے۔(4)
ساتویں اور آٹھویں صدی کے حنبلی علماء کا سب سے بڑا عالم ’’ابن تیمیہ‘‘ ہے اور محمد بن عبد الوہاب نے اکثر اور اہم عقائد اسی سے اخذ کئے ہیں۔
ابن تیمیہ کے دوسرے شاگرد، جن میں سے مشہور و معروف ابن قیم جوزی ہے اس نے اپنے استاد کے نظریات و عقائد کو پھیلانے کی بہت زیادہ کوششیں کی ہیں۔
شیخ محمد بن عبد الوہاب کا سب سے اہم کارنامہ یہ تھا کہ وہ اپنے عقائد کو ظاہر کرنے کے بعد ان پر ثابت قدم رہا اور بہت سے نجدی حکمرانوں کو اپنے ساتھ میں ملالیا اور ایک ایسا نیا فرقہ بنالیاجس کے عقائد اہل سنت کے چاروں فرقوں سے مختلف تھے، اس میں شیعہ مذہب سے بہت زیادہ اختلاف تھا جب کہ وہ حنبلی مذہب سے دیگر مذاہب کے مقابلہ میں نزدیک تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔وہابی اپنے فرقہ کو نیا فرقہ نہیں کہتے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ فرقہ’’ سَلف صالح‘‘کا فرقہ ہے اور اسی وجہ سے وہ اپنے آپ کو سلفی بھی کہتے ہیں۔
2۔بن بطہ کی سوانح حیات کتاب المنتظم،تألیف ابن جوزی جو سن 387 ہجری میں وفات پانے والوں کے سلسلہ میں ہے اور سمعانی کی انساب میں بطی اور عکبری(بغداد سے دس فرسخ کے فاصلہ پر ایک جگہ کا نام ہے) دونوں لفظوں کے تحت بیان ہوئی ہے،نیز خطیب بغدادی نے بھی اپنی کتاب تاریخ بغدادج10،ص 371 میں ابن بطہ کے حالات بیان کئے ہیں اور اس پر کچھ اعتراضات بھی کئے ہیں کہ ابن جوزی نے ان اعتراضات کا جواب بھی دیا ہے۔(المنتظم،ج7،ص193)،ابن ماکولا نے بھی لفظ بطہ کے ذیل میں ابن بطہ کے حالات زندگی کو مختصر طور پر لکھا ہے۔(الاکمال ج1،ص330)
3۔کتاب الرد علی الاخنائی،ابن تیمیہ،ص27۔
4۔سابق حوالہ،ص30۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम