Code : 2984 117 Hit

قرآن مجید کس زاویہ سے معجزہ ہے؟

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ آخری کتاب ہے جس میں ہدایت بشر کے تمام قوانین و اصول بیان کردیئے گئے اور ساتھ میں ان ہستیوں کو بھی بھیج دیا گیا جو اس کلام کی مکمل تفسیر اور وضاحت کرنے والی تھیں۔ قرآن مجید کا ہر لفظ ، ہر آیت معجزہ ہے اور معجزہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ الہی کلام ہے اس میں بشر کے منشأ اور مرضی کا کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جو قیام قیامت تک کے لئے انس و جن کے لئے ایک چیلنج ہے اور چودہ سو برس سے زیادہ کا عرصہ گذر جانے کے باوجود کوئی آج تک اس کا جواب نہ لاسکا اور نہ ہی قیامت تک کوئی اس کا جواب لاسکے گا۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ آخری کتاب ہے جس میں ہدایت بشر کے تمام قوانین و اصول بیان کردیئے گئے اور ساتھ میں ان ہستیوں کو بھی بھیج دیا گیا جو اس کلام کی مکمل تفسیر اور وضاحت کرنے والی تھیں۔ قرآن مجید کا ہر لفظ ، ہر آیت معجزہ ہے اور معجزہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ الہی کلام ہے اس میں بشر کے منشأ اور مرضی کا کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جو قیام قیامت تک کے لئے انس و جن کے لئے ایک چیلنج ہے اور چودہ سو برس سے زیادہ کا عرصہ گذر جانے کے باوجود کوئی آج تک اس کا جواب نہ لاسکا اور نہ ہی قیامت تک کوئی اس کا جواب لاسکے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ قرآن مجید کن کن زاویوں سے معجزہ ہے اس پر علماء کرام نے اس کے معجزہ ہونے کی تین صورتیں بیان کی ہیں:لفظی معجزہ، مفہومی معجزہ اور اس کو لانے والے کے لحاظ سے معجزہ۔
۱۔ قرآن مجید کا لفظی معجزہ دو حصوں پر مشتمل ہے:قرآن مجید کا لفظی معجزہ دو صورتوں میں بیان ہوا ہے: بلاغت کا معجزہ اور عددی معجزہ۔ قرآن مجید کی بلاغت کا معجزہ یا قرآن مجید کی بلاغت کی بحث قدیم زمانہ سے معروف و مشہور تھی اور تقریباً تمام اسلامی مذاہب کا اسی پر اتفاق ہے۔ لیکن بعض لوگوں نے، قرآن مجید کی بلاغت کے معجزہ کو قرآن مجید کے نظم، اسلوب اور اس کے بیان کے طریقہ سے جدا کر کے کہا ہے کہ: قرآن مجید کے معجزوں میں سے ایک اس کی بلاغت کا معجزہ ہے اور دوسرا معجزہ اس کے نظم اور اس کے بیان کا اسلوب ہے۔ اور بعض لوگوں نے قرآن مجید کے اعجاز کو اس کی بلاغت، نظم اور اس کے اسلوب کا مجموعہ جانا ہے[2]۔ لیکن حقیقت میں یہ سب کثرت امثال کے باب میں سے ہے اور یہ تمام موارد قرآن مجید کے بیان کے طریقہ سے ارتباط رکھتے ہیں اور اس کی بلاغت کے معجزہ کی طرف پلٹتے ہیں۔
قرآن مجید کے بیان کا طریقہ، ایک ایسا طریقہ ہے کہ کوئی اور تو کیا خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس روش اور انداز سے کلام نہیں کر سکتے ہیں۔
وضاحت: "تاریخ حدیث" کے باب میں اہل سنت دعویٰ کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی احادیث و بیانات کو لکھنے سے منع فرمایا تھا۔ اور اس سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک روایت بھی نقل کرتے ہیں[3]، اس کے بعد انہیں اس سوال سے دوچار ہونا پڑا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث کو لکھنے کی کیوں ممانعت فرمائی ہے؟
اس سوال کے دئے گئے جوابات میں، ایک جواب، جو اہل سنت میں مشہور ہے، وہ یہ ہے کہ ، اس ممانعت کی وجہ یہ تھی کہ ایسا نہ ہو کہ قرآن، غیر قرآن، یعنی احادیث کے ساتھہ مخلوط ہو جائے۔ اہل سنت کے ایک محقق نے علمائے اہل سنت میں مشہور اس استدلال کو مسترد کر کے فرمایا ہے: " قرآن مجید کی بلاغت کا معجزہ، اس کے دوسرے کسی کلام سے مخلوط ہونے میں رکاوٹ ہے[4]۔" اس کے بعد اس محقق نے، اس اشکال کے بارے میں کہ شاید پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فصاحت و بلاغت کی اس حد میں تھے کہ آپ{ص} قرآن کے مانند فسیح و بلیغ بات کر سکتے تھے، جواب دیا ہے کہ: "اس بات کا لازمہ قرآن مجید کی بلاغت کے معجزہ سے انکار ہے[5]۔" بہرحال، اس بات کے پیش نظر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث ، معمولی نہیں تھیں اور آپ{ص} کا اپنا کلام نہیں تھا، بلکہ آپ{ص} کے بیانات نورانی، الہی ہدایت اور عالم غیب کے انکشافات شمار ہوتے تھے اور ملت اسلامیہ کے بہت سے مشکلات کو حل کر سکتے تھے، ان کی تحریر میں لانے کی ممانعت کا مسئلہ اہل سنت پر ایک بنیادی اشکال شمار ہوتا ہے، اس لحاظ سے ماضی سے آج تک شیعہ علماء کے درمیان اس دعویٰ کو غلط سمجھا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی احادیث کو لکھنے کی ممانعت فرمائی ہے۔
قرآن مجید کے معجزہ کی دوسری صورت اس کا عددی معجزہ ہے۔ یہ صورت عصر جدید میں پیش کی گئی ہے اور اس سلسلہ میں کمپیوٹر سے استفادہ کیا گیا ہے اور یہ معجزہ خاص توجہ کا سبب بنا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن مجید کے الفاظ اور حروف کا خاص اعداد سے رابطہ بیان کیا گیا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان الفاظ اور حروف کا خاص اعداد سے رابطہ ہرگز انسان کا کام اور کلام نہیں ہو سکتا ہے[6]۔
ب: قرآن مجید کا مفہومی معجزہ:
قرآن مجید کے مفہومی معجزہ کے بارے میں مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں، ان کی طرف ہم ذیل میں اشارہ کرتے ہیں:
الف: قرآن مجید کے بارے میں اختلاف کا نہ ہونا:
آیہ شریفہ: " افلا یتدبرون القرآن ولو کان من عند غیراللہ لوجدوا فیہہ اختلافا کثیراً[7]۔"
ب: غیبی خبریں:
قرآن مجید میں بعض افراد یا مستقبل میں رونما ہونے والے بعض واقعات۔۔۔۔ یعنی آیات کے نزول کے بعد رونما ہونے والے واقعات۔۔۔۔ کے بارے میں پیشنگوئیاں کی گئی ہیں اور بعد میں وہ واقعات اسی صورت میں رونما ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک آیہ شریفہ " الم، غلبت الروم فی ادنی الارض وھم من بعد غلبھم سیغلبون[8]۔" ہے۔
ج۔ قرآن مجید کے علوم اور معارف:
قرآن مجید میں کچھہ ایسے مطالب بیان ہوئے ہیں کہ ، کم از کم اُس زمانہ میں کوئی انسان ان کے بارے میں آگاہی پیدا نہیں کر سکتا تھا۔ اور اس وقت تک بھی قرآن مجید کے بلند و عالی علوم و معارف انسان کے لئے نامعلوم ہیں، ایسے علوم و معارف کے بارے میں اکثر جو معلوم ہوا ہے وہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان کی مسلسل ہدایات کے نتیجہ میں ہے، اس طرح کہ آج کل موجود احادیث کی قابل توجہ تعداد، اعتقادی روایات، عقلی مباحث، فلسفی و کلامی مسائل اور عرفانی موضوعات پر مشتمل ہے۔ بہرحال، بالفرض اگر کوئی شخص قرآن مجید کے تمام علوم و معارف کو اس وقت شناخت شدہ اور انسان کی پہنچ میں جان بھی لے، پھر بھی یقین کے ساتھہ کہا جا سکتا ہے کہ ماضی میں ایسا نہیں تھا، یہ امر اس سلسلہ میں قرآن مجید کے معجزہ ہونے میں کوئی مشکل پیدا نہیں کرسکتا ہے۔ قابل توجہ بات ہے کہ قرآن مجید کے اس معجزہ کا ثبوت اس کے لانے والے کے ذریعہ پیش نہیں کیا گیا ہے، بلکہ یہ عمیق علوم و معارف اس قدر عظمت والے ہیں کہ اس زمانہ کے دانشوروں کی فکر کے دائرہ سے بالاتر تھے اور کلی طور پر یہ انسان کی فکر نہیں، بلکہ یہ وحی الہی کی نشانی اور علامت ہے۔
د۔ قرآن مجید میں بیان شدہ معارف و علوم کی تردید کرنے میں انسان کی عاجزی اور ناتوانی:
صدیاں گزرنے کے بعد اور انسان کے علم و دانش میں کافی ترقی اور علم و ہنر اور تہذیب و تمدن کی دگرگونیوں کے باوجود، قرآن مجید میں بیان شدہ مطالب میں سے کوئی ایک مطلب رد یا منسوخ نہیں ہوا ہے اور یہی امر قرآن مجید کے آسمانی ہونے کی حقانیت کو ثابت کرتا ہے۔
اس نکتہ کو بیان کرنا مفید ہے کہ اگرچہ ۔۔۔منطق و ریاض کے مانند۔۔۔ بعض انسانی علوم کی ایک مجموعہ کی صورت میں تدوین کی گئی ہے اور قدیم زمانہ سے ہمیں یہ علوم وراثت میں ملے ہیں، اور منسوخ نہیں ہوئے ہیں، لیکن ہمیں توجہ کرنی چاہئیے کہ اولاً: یہ علوم و دانش، ابتدائی واضحات یا فطرت کی صورت میں ہر عقلمند کی فکر میں پنہان تھے اور جن لوگوں نے ان مسائل کو تدوین کرنے کا اقدام کیا ہے، حقیقت میں وہ جمع کرنے والے تھے، نہ کہ انہیں لانے والے۔ ثانیاً: کلی طور پر جن کتابوں کو انسان تالیف کرتا ہے، وہ ایک خاص علم و موضوع کے بارے میں ہوتی ہیں، جبکہ قرآن مجید کے علوم و معارف کے چہرے سے چمکنے والی خصوصیات میں سے ایک ان علوم کے مباحث کی وسعت ہے اور ایک بات میں دسیوں مطالب کی طرف اشارہ ہے۔
اس قسم کے گوناگوں علوم کا قرآن مجید میں موجود ہونا بذات خود قرآن مجید کے معجزوں میں سے ایک معجزہ کی صورت ہے۔ بھلا کون انسان ایسا کر سکتا ہے کہ متفاوت علوم اور مختلف علمی دائروں کو اتنی دقت نظر، استحکام بیان اور وسعت موضوعات کے ساتھہ حاصل کر کے مسائل کو اس طرح باہم جوڑ دے کہ اس کلام کے صدروذیل میں ایسے نتائج ابھر آئیں جن سے نہ مقصود ضائع ہو، نہ سلسلہ ٹوٹے، نہ کوئی خطا سرزد ہو اور اس طرح صدیوں تک یہ کلام روشن رہے اور ہر قسم کی تردید و تنسیخ سے محفوظ رہے[9]۔
۳۔ قرآن مجید کا، لانے والے کے لحاظ سے معجزہ:
قرآن مجید کے معجزہ کی یہ صورت قدیم زمانہ سے زیر بحث رہی ہے، اور یہ اس مطلب پر مشتمل ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک امّی شخص تھے، پس آپ{ص} کیسے علم تہذیب و تمدن سے نا آشنا جزیرۃ العرب کے لوگوں میں اس قسم کی کتاب لانے میں کامیاب ہوئے ہیں[10]؟
قابل ذکر بات ہے کہ معجزہ کی بحث، اگر چہ عام طور پر قرآنی علوم کے مباحث میں بیان کی جاتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک کلامی بحث ہے۔ اس لئے بعض کلامی کتابوں میں بھی اس کا ذکر آیا ہے[11]۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
[1] ملاخطہ ہو: ثامنى، سید مصطفى، وجوہ اعجاز قرآن ( مجموعہ مقالات دومین کنفرانس تحقیقاتى علوم و مفاہیم قرآن کریم، دارالقرآن قم) ص 178 ۔ 168.
[2] سابق حوالہ، ص 169.
[3] ملاخطہ ہو: محمود ابوریہ، اضواء على السنة المحمدیة، ص 42 .
[4] سابق حوالہ،  ص46.
[5] سابق حوالہ،ص 47.
[6] اس سلسلہ میں قدر کے عنوان سے ایک سافٹ وئیر کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے جسے ڈاکٹر سید علی قادری نے مرتب کیا ہے۔
[7] کیا یہ لوگ قرآن {کے معنی} میں غوروفکر نہیں کرتے ہیں کہ اگر غیر خدا کی طرف سے ہوتا تو اس میں بڑا اختلاف ہوتا۔" {سورہ نساء/۸۲}
[8] "روم والے مغلوب ہو گئے، قریب ترین علاقہ میں لیکن یہ مغلوب ہو جانے کے بعد عنقریب پھر غالب ہو جائیں گے، چند سال کے اندر" {سورہ روم/۳۔۱}
[9] علامہ طباطبائی سے نقل کیا گیا ہے کہ تمام معارف قرآن کو قرآن مجید کے ہر سورہ سے استخراج کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ہر سورہ میں تمام معارف موجود ہیں، یعنی یہ تمام معارف مختلف صورتوں میں ایک سو چودہ بار بیان کئے گئے ہیں۔ یہ قرآن مجید کا ایک حیرت انگیز پہلو ہے۔
[10] بعض مستشرقین نے اس صورت کے بارے میں کہا ہے کہ: پیغمبر اسلام {ص} تعلیم یافتہ تھے اور ادیان گزشتہ کے علماء کے پاس آمد و رفت رکھتے تھے اور ان کے پاس سبق پڑھے ہیں۔ آپ{ص} نے ۔۔۔۔۔نعوذ بااللہ۔۔۔قرآن مجید کو ان اطلاعات کے مطابق لکھا ہے۔ اگر قرآن مجید میں جزیرۃالعرب کے لوگوں کو امی کہا گیا ہے، تو اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ معارف الہی سے آگاہ نہیں تھے، نہ اس لئے کہ ان پڑھ تھے۔ جزیرۃالعرب کے لوگوں میں تعلیم یافتہ افراد موجود تھے، حتی کہ کافی معلومات رکھنے والے بھی تھے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ{ص} ایک امی امت یعنی معارف الہی سے نا آشنا امت کے پیغمبر تھے۔ لیکن غیرجانبدار محققین کی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ یہ باتیں بے بنیاد ہیں اور یہ سب توجیہات قرآن مجید کے معجزہ سے انکار کرنے کے لئے ہیں۔{ملاخطہ ہو: "علوم حدیث" ، تالیف: ڈاکٹر منیجی صالحی، مصطلحہ، ص ۲۔۳}
[11] ہادوى تہرانى، مہدى، مبانى کلامى اجتہاد، ص 51 ۔ 47.


2
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین