Code : 2309 101 Hit

امیرالمؤمنین(ع) کے کلام کی روشنی میں با بصیرت کون؟

کلام امام علی علیہ السلام سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ حق و باطل کی آپس میں آمیزش کر دی گئی ہے اور حق کو باطل سے جدا کر کے سمجھنا اور اس پر عمل کرنا واقعی ایک دشوار عمل ہے لیکن بابصیرت وہی ہے جو باطل کو حق سے جدا کرکے دور پھینک سکے، در اصل بصیرت کا مطلب تعلیم یافتہ ہونا نہیں بلکہ بصیرت کا مطلب یعنی آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہمسر پیغمبر بھی راہ پیغمبر کے برخلاف قیام کر سکتی ہیں۔

ولایت پورٹل: امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:’’فَلَوْ أَنَّ الْبَاطِلَ خَلَصَ مِنْ مِزَاجِ الْحَقِّ لَمْ يَخْفَ عَلَي الْمُرْتَادِينَ، وَلَوْ أَنَّ الْحقَّ خَلَصَ مِنْ لَبْسِ الْبَاطِلِ انْقَطَعَتْ عَنْهُ أَلْسُنُ الْمُعَانِدِينَ; وَلکِن يُؤْخَذُ مِنْ هذَا ضِغْثٌ، وَمِنْ هذَا ضِغْثٌ، فَيُمْزَجَانِ‘‘۔
ترجمہ:اگر باطل حق کی آمیزش سے الگ رہتا تو حق کے طلب گاروں پر مخفی نہ ہو سکتا اور اگر حق باطل کی ملاوٹ سے الگ رہتا تو دشمنوں کی زبانیں نہ کھل سکتیں لیکن ایک حصہ اس میں سے لیا جاتا ہے اور ایک اس میں سے اور پھر دونوں کو ملا دیا جاتا ہے۔
قابل توجہ نکات:
کلام امام علی علیہ السلام سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ حق و باطل کی آپس میں آمیزش کر دی گئی ہے اور حق کو باطل سے جدا کر کے سمجھنا اور اس پر عمل کرنا واقعی ایک دشوار عمل ہے لیکن بابصیرت وہی ہے جو باطل کو حق سے جدا کرکے دور پھینک سکے، در اصل بصیرت کا مطلب تعلیم یافتہ ہونا نہیں بلکہ بصیرت کا مطلب یعنی آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ھمسر پیغمبر بھی راہ پیغمبر کے برخلاف قیام کر سکتی ہیں۔
بصیرت یعنی ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ شخصیات حق کو پہچاننے کا ذریعہ نہیں بلکہ معیارات کو ملاحظہ کرنا چاہیے۔
 بصیرت یعنی ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ایک مسجد بھی ضرار ہو سکتی ہے اور خود پیغمبر اس کو منہدم کروا سکتے ہیں۔
بصیرت یعنی ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ خود قرآن بھی ہمیں نیزے پر سوار ہو کر گمراہ کرسکتا ہے اس وقت ہمیں قرآن ناطق کا ساتھ دینا ہوگا۔
بصیرت یعنی ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ صفین میں امام علی علیہ السلام کی رکاب میں معاویہ کے خلاف لڑنے والا شمر مفاد کی خاطر قاتل حسین علیہ السلام بھی بن سکتا ہے۔
بصیرت یعنی یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی فتنہ گر کسی کو اپنی گاۓ سمجھ کر اس کا دودھ تو نہیں دوھ رہا ہے، اور کوئی اس کی پشت پر سوار ہو کر سواری تو نہیں کر رہا ہے۔
بصیرت یعنی ہر مالک اشتر جیسے انقلابی، مجاھد اور حق کے لئے سخت شخص کو شدت پسند نہ سمجھنے لگ جائیں، اور ہر ابو موسی اشعری جیسے سادہ لوح، کو معاملہ فہم، دور اندیش اور ڈپلومیٹ سمجھنے لگیں۔
بصیرت یعنی ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہر دور کے معاویہ نے علی علیہ السلام کی سپاہ کے سست عناصر سے امیدیں وابستہ کی ہوئی ہیں۔
بصیرت یعنی کل کا یزید صرف 61 ھجری کے دور میں تھا جس سے اس وقت کے حسین علیہ السلام نے نبرد کی، ہمارا وظیفہ آج کے یزید کی شناخت کرنا اور اسکے خلاف نبرد آزما ہونا ہے۔
بصیرت یعنی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ خود علی علیہ السلام کے فضائل کے نام پر لوگوں کو  غالی و مشرک بنایا جارہا ہو لہذا ایسے ٹولوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
بصیرت یعنی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ  دین کے ہی نام پر ہمیں اہل دین، علماء دین، و فقہاء دین سے ہمیں متنفر کر دیا جاۓ۔
بصیرت یعنی کسی بھی طاغوتی حکمران سے امید مت باندھنا، امت کو اپنے مسائل خود حل کرنے ہونگے، ٹرمپ اور بن سلمان سے کشمیر، فلسطین و یمن کے حالات پرامن کروانے کی امید فضول ہے۔
بصیرت یعنی ظالم اور مظلوم میں فرق سمجھئے، ہمیشہ ظالم کے مخالف اور مظلوم کے حامی بنیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک ظالم کے دوست اور دوسرے ظالم کے مخالف بن جائیں، ایک مظلوم کی حمایت اور دوسرے مظلوم کی مخالفت کرنے لگیں۔
بصیرت یعنی طیب و خبیث کے درمیان فرق کو سمجھئے ، اگر قرآن کریم نے ان دونوں میں فرق کیا ہے تو ہم بھی انہیں ایک دوسرے سے جدا سمجھیں، یہ مت کہں کہ ہم سب ایک ہیں، غالی و نصیری بھی شیعہ ہے وغیرہ وغیرہ
بصیرت یعنی عالم اور جاہل میں فرق کو پہچاننا، قرآن کریم فرماتا ہے کہ عالم اور جاھل برابر نہیں ہوتے ہیں۔
بصیرت یعنی ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہمہارا دین جامع ہے جس میں زندگی کے ہر شعبے سے متعلق دقیق ترین نظام موجود ہے نہ کہ وہ دین جس میں فقط چند عبادات و ذکر پاۓ جاتے ہوں اور بس۔
بصیرت یعنی ہمہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہم مردہ باد امریکا کیوں کہتے ہیں، چونکہ ظالم کی موت کی آرزو وہی قوم کرسکتی ہے جو یزیدیت مردہ باد کہنے کی ہمت رکھتی ہو۔
بصیرت یعنی ہمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تاریخ ہمیشہ خود کو دوہراتی ہے، اور ہمہیں جاننا ہوگا کہ ہم اپنے دور کے مطابق کس صف میں کھڑے ہیں، حق کی صف میں یا باطل کی صف میں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम