Code : 3127 20 Hit

ترکی میں بغاوت کے الزام میں 40 افراد گرفتار

ترک سکیورٹی فورسز نے تین سال قبل ناکام بغاوت کے مرتکب افراد سے رابطے کے الزام میں 40 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے۔

ولایت پورٹل:اناطولی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق انقرہ کی حکومت کے مخالف افراد  کو نظربند کرنے اور امریکہ میں مقیم  فتح اللہ گولن کی تنظیم  کے ممبروں اور ان کے رشتہ داوں کا سرکاری اداروں اور تنظیموں سے صفایا کرنے  کی پالیسی جاری ہے۔
انقرہ  کے جنرل ایڈمنسٹریشن نے آج (بدھ کو) گولن آرگنائزیشن سے منسلک متعدد مشتبہ افراد کی نظربندی کا حکم جاری کیا جن پر الزام ہے کہ وہ 15 جولائی 2016کو ہونے والی ناکام بغاوت میں ملوث تھے،ترک سکیورٹی فورسز نے اب تک ان میں سے 40 کو گرفتار کرلیا ہے۔
ترکی کی موجودہ اور سابقہ مسلح افواج میں شامل ان افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے بغاوت کی رات گولن سے متعلق بیل بیل سافٹ ویئرکو استعمال کیا تھا۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ بغاوت کے ایجنٹوں نے واٹس ایپ کے سوشل نیٹ ورک پر ان کے مواصلاتی گروپوں کے برملا ہوجانے کے بعد رابطہ کاری کے لئے اپنے بیلک سافٹ ویئر کا استعمال کیا تھا۔
انقرہ حکومت گولن کی تنظیم  کے اراکین جنہوں نے زیادہ تر سرکاری دفاتر اور ادارہ جات میں رسائی حاصل کرلی تھی ،کو15 جولائی 2016کو ہونے والی ناکام بغاوت کے اصلی افراد اور دہشتگرد قرار دیتی ہے نیز امریکہ سے مطالبہ کرتی ہے وہ انھیں ترکی کے حوالہ کردے۔
 یادرہے کہ ترکی میں ہونے والی اس فوجی بغاوت کے دوران ، جس میں  ترک فوجیوں کی ایک بڑی تعداد نے ٹینکوں ، جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں جیسے فوجی سازوسامان کا استعمال کیا تھا  اور اس میں  تقریباً 250افراد ہلاک اور 2 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ ترکی کی حکومت نے ناکام بغاوت کے بعد سے ایک سال پہلے تک ملک میں ایمرجنسی نافذکرکھی تھی  نیز اب تک 8000 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین