Code : 2514 48 Hit

ایران کے خلاف سعودی اور امریکی ہرزہ سرائی عراقی سابق پارلیمنٹ اسپیکر کی زبانی

عراقی پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر نےآل سعود اور امریکہ کے چبائے ہوئے لقموں کو دہراتے ہوئے تہران پرعراق کے داخلی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔

ولایت پورٹل:عراقی پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر اسامة النجیفی نے سعودی چینل الحدث اور العربیہ کو دینے والے اپنے  خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے  ایران پر الزام لگایا کہ وہ اس ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہے اور کہا کہ عراق میں ایران کا کام تمام ہوچکا ہے،یاد رہے کہ النجیفی 2010سے  2012تک عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے  ہیں اور حیدر العبادی کی حکومت میں بھی ان کے ڈپٹی مشیر کی حیثیت سے تھے،قابل ذکر ہے کہ موصل پر داعش کے قبضہ کرنے میں  ان کے بھائی اثیل النجیفی نے بھی دہشتگردوں کا ساتھ دیا تھا اس لیے کہ وہ اس وقت موصل کے گورنر تھے اور اس وقت بیرونی ملک میں پناہ گزین ہیں،النجیفی نے  سعودی ذرائع ابلاغ کے سامنے وہی راگ الاپا ہے جو سعودی  اور امریکی میڈیا نیز ان ممالک کے عہدہ دار کئی سال سے گا رہے ہیں   کہ ایران نے عراق پر قبضہ کرلیا ہے اور اس کے اندونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے،خطہ میں اپنی سلطنت قائم کرنا چاہتا ہے ،النجیفی نے مزید کہا کہ عراقی اتنی آسانی سے تسلیم  نہیں ہونے والے ،تہران  خطہ میں اپنی سلطنت قائم کرنا چاہتا ہے،النجیفی  کا کہنا تھا کہ عراق سے ایران کا اثر و رسوخ ختم ہوکر رہے گا چاہے اس میں  جتنا بھی وقت لگے ،قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال عراق میں ہونے والے انتخابات میں جب اہلسنت پارٹیاں کامیاب نہیں سکیں تو اس  نے کہا تھا کہ ہم ملک میں وقت سے پہلے پھر سے انتخابات کروائیں گے اور اقوام متحدہ اس کی نگرانی کرے گی اس لیے کہ عراق کی سیاسی جماعتیں  کرسی پر برجمان ہیں اور اس کو چھوڑ نہیں رہی ہیں ،النجیفی نے پچھلے سال ہی کہا تھا کہ عوام سڑکوں پر آئیں گے اور موجودہ سیاستدانوں کو ان کی کرسیوں سے کھیچ کر نیچے اتاریں گے۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम