Code : 1602 17 Hit

مصر کے سابق صدر محمد مرسی کا عدالت میں پیشی کے بعد اچانک انتقال

مصر کے سابق صدرمحمد مرسی عدالت میں پیشی کے بعد اچانک غش کھاکر گرے اور فوت ہوگئے ہیں۔

ولایت پورٹل:مصری سرکاری ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے صدر مرسی 2012 میں صدر حسنی مبارک کے بعد برسرِ اقتدار آئے تھے ، محمد مرسی باقاعدہ انتخابات کے بعد جمہوری طریقے سے حکومت میں آئے تھے اور اسطرح حسنی مبارک کا 30 سالہ اقتدار ختم ہوگیا تھا ،حسنی مبارک کے خلاف 2011 میں مصر میں پرتشدد مظاہرے اور احتجاج شروع ہوا تھا جسے ’بہارِ عرب‘ یا عرب اسپرنگ سے تعبیر کیا گیا تھا جس کےبعد انتخابات ہوئے اور 2012 میں محمد مرسی کو اقتدار ملا تھا ، اس کے بعد جولائی 2013 میں فوج نے ان کا تختہ الٹ دیا اور ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوگیا تھا،اس طرح محمد مرسی اپنے چارسالہ دورِ اقتدار میں سے صرف ایک سال ہی حکومت کرسکے اور اسی دوران ان کی مشہور سیاسی اسلامی جماعت اخوان المسلمون پربھی پابندی عائد کردی گئی تھی، اس کےبعد حال ہی میں امریکا نے بھی اخوان المسلمون کو دہشت گرد جماعت قرار دیا ہے،محمد مرسی مصر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے جمہوری صدر بھی تھے جو آج 67 سال کی عمر میں فوت ہوگئے ہیں، آج عدالت میں پیشی پر انہوں نے جج سے 20 منٹ تک بات کی اور وہ بہت پرجوش دکھائی دے رہے تھے کہ اسی دوران بے ہوش ہوکر گر پڑے اور انہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا ،جہاں ان کی جان بچانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بچ نہیں سکے،جولائی 2013 میں مصر کے فوجی جنرل عبدالفتح السیسی نے ان کا تختہ الٹ کر انہیں گرفتار کرلیا تھا اور خود مصر کے صدر بن گئے تھے۔ ان پر مخالف مظاہرن کے قتل کا الزام تھا جس پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
تسنیم


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम