Code : 2152 16 Hit

کویت میں غیر ملکیوں کے سانس لینے پر ٹیکس لگانے کا مطالبہ

کویت کی واحد خاتون رکن پارلیمنٹ 55 سالہ صفاء الھاشم نے حکومت سے پہلے بھی مطالبہ کیا تھا کہ ملک میں بسنے والے غیر ملکیوں پر راستے استعمال کرنے سمیت سانس کے لیے کویت کی ہوا استعمال کرنے پر بھی ٹیکس نافذ کیا جائے۔

ولایت پورٹل:دنیا کے بہت سارے ملکوں میں  کھانے پینے کی اشیاء سمیت سڑکیں استعمال کرنے پر بھی ٹیکس عائد ہے لیکن مشرق وسطیٰ  جس کی اسمبلی میں صرف ایک خاتون رکن ہے جو آئے دن انوکھے مطالبات کرتی رہتی ہے ،اس بار اس نے اس ملک میں رہنے والے غیر ملکیوں کے چلنے پھرنے اور سانس لینے پر ٹیکس عائد کرنے کی مانگ کی ہے،تفصیلات کے  مطابق مشرق وسطیٰ کے اہم ترین ملک کویت کی واحد خاتون رکن پارلیمنٹ 55 سالہ صفاء الھاشم نے حکومت سے پہلے بھی مطالبہ کیا تھا کہ ملک میں بسنے والے غیر ملکیوں پر راستے استعمال کرنے سمیت سانس کے لیے کویت کی ہوا استعمال کرنے پر بھی ٹیکس نافذ کیا جائے،مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق صفاء الھاشم نے ایک بار حکومت سے مطالبہ کیا کہ غیر ملکیوں پر ہر اس سہولت کے استعمال پر ٹیکس نافذ کیا جائے جو سہولت انہیں کویت میں حاصل ہے،ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے غیر ملکیوں وطن کی جانب سے ترسیلات زر بھجوائے جانے پر بھی بھاری فیس عائد کرنے کی تجویز دی تھی، تاہم اس پر بھی تاحال عمل نہیں ہوا،انہوں نے ایک بار پھر حکومتی وزرا سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر ملکیوں پر ترسیلات زر بھجوائے جانے پر بھاری فیس عائد کرنے سمیت ان کی جانب سے سانس لینے پر بھی پابندی عائد کی جائے،صفاء الھاشم کو غیر ملکیوں کے لیے مخالف سیاستدان سمجھا جاتا ہے، وہ ماضی میں حکومت سے غیر ملکیوں کی تعداد کم کرنے اور انہیں بے دخل کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے،کویتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی کا 70 فیصد غیر ملکی ہیں،کویت کے مقامی افراد کی تعداد 10 لاکھ سے زیادہ جب کہ غیر ملکیوں کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہے۔




0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम