Code : 2825 46 Hit

ہمیشہ مارنے والے امریکیوں نے پہلی بار کھائی تو ان کی حالت کچھ غیر ہوئی؛عین الاسد سے سی این این کی رپورٹ

سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں عراق میں امریکی فوجی اڈہ پر ایران کے حملہ کی وجہ سے امریکی فوجیوں کے خوف وہراس کی منظرکشی کی ہے۔

ولایت پورٹل:سی این این نے پیر کو اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے  عراق میں امریکہ کے فوجی اڈے عین الاسد پر  میزائل حملےکے ذریعہ جوابی کاروائی سے متعلق ایک رپورٹ تیار کرنے کے لیے  اسد اڈے کا دورہ کیا اور وہاں موجود فوجیوں کا انٹرویو لیا ہے،مذکورہ رپورٹ میں امریکہ کی جانب سے اپنے فوجیوں کو کسی قسم کے نقصان نہ پہنچنے کے دعووں کا اعادہ کیا گیا ہےلیکن  ساتھ ہی ساتھ ایران کے  میزائل حملے سے امریکی فوجیوں کے دلوں میں پائے جانے والے خوف اور وحشت کی کہانیاں بھی نقل کی ہیں،اس رپورٹ کا آغاز اس لمحے کی ایک تصویر کے ساتھ کیا گیا ہے جب متعدد ایرانی میزائلوں نے عین اسد کے اڈے پر نشانہ بنایا تھا،سی این این کے رپورٹر کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں نے ہمیشہ میزائل مارے ہیں  کبھی کھائے نہیں لہذا انھیں اس بار ذرہ تکلیف ہوئی،رپورٹ میں آیا ہے کہ اڈے پر موجود ایک امریکی فوجی کا کہنا  تھا کہ میں جھوٹ نہیں بولنا چاہتا ، اس وقت میں خوفزدہ تھا،اگرچہ مذکورہ فوجی کا  دعویٰ ہے کہ ایرانی میزائل حملے کے خوف سے اس اڈے پر موجود بیشتر امریکی افواج پہلے ہی پناہ گاہوں  میں چلی گئی تھیں،سی این این کے نمائندے نے مزید لکھا ہے  کہ اس رات امریکی فوج کو خدشہ تھا کہ ایران میزائل حملوں کے علاوہ زمینی حملے ، راکٹ اور مارٹر حملوں کا بھی سہارا لے گا،اس رپورٹ میں ایک تصویر بھی ایڈ کی گئی ہے جس میں امریکی فوجی ہاسٹلوں کو مکمل طور پر تباہ شدہ کردیا گیا ہے،اس اڈے پر امریکی فوجی کمانڈر ، ٹم کارلینڈ کا کہنا ہے کہ ایرانی راکٹ حملوں کے خوف سے امریکی فوجیں اڈے کے مختلف حصوں میں چھپ گئی تھیں  اور ہلاکتوں کے امکانات کو کم کرنے کے لئے فورسز کو ایک دوسرے کےدور رکھنے کی کوشش کی گئی تھی،اس کے علاوہ ، زیادہ تر فوجیں پناہ گاہوں میں منتقل کردی گئی تھیں،یہ پناہ گاہیں صدام کے زمانے میں بنائی گئی تھیں،مذکورہ  اڈے پر موجود ایک اور امریکی فوجی کمانڈر ، سٹیسی کولیمن کا کہنا تھا  کہ پناہ گاہوں کو بیلسٹک میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا ، لیکن حملوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ دروازے ٹوٹ کر اندر کی طرف گر رہے تھے،پناہ گاہ سے باہرر ہ جانے والے  ایک امریکی فوجی مارک رجون کہتے ہیں کہ میں ریت پر ٹہل رہا تھا کہ میں نے مشرق کی طرف  سے اورنج کلر کی ایک لکیر آتی ہوئی دیکھی تو میں نے چلا کر کہا’’آرہا ہے‘‘ اور اس کے بعد میزائل آکر گرا،سی این این نے اس سلسلہ میں مزید لکھا ہے کہ عین الاسد  اڈے پر وہ رات کسی دوسری رات کی طرح نہیں تھی،امریکی فوجی  تقریبا دو گھنٹے تک پناہ گاہ میں رہے اور کوئی جواب نہیں دے سکے۔
 

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین