امریکی اور صیہونی حکام پہلی بار براہ راست آمنے سامنے

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایک بار پھر اسرائیلی حکام کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ امریکہ چھ فلسطینی این جی اوز کودہشت گردقرار دینے  کےاس حکومت کے فیصلے سے آگاہ تھا۔

ولایت پورٹل:اناطولیہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک نیوز کانفرنس میں صیہونی حکومت کے اصرار کے بارے میں پوچھے گئے سوال کہ انھوں نے امریکہ کو چھ فلسطینی این جی اوز کو دہشت گرد قرار دینے کے ارادے سے آگاہ کیا تھا، کے جواب میں کہا  کہ جہاں تک ہم جانتے ہیں، ہمیں اس بارے میں کوئی واضح اور مخصوص اعلان نہیں ملا ۔
پرائس نے یہ بھی کہا کہ امریکی حکومت نے صیہونی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے کہ اس نے چھ فلسطینی اداروں کو کس بنیاد پردہشت گرد قرار دیا ہے،نیڈ پرائس نے پہلے بھی کہا تھا کہ اسرائیل نے ہمیں پہلے نہیں بتایا تھا کہ چھ فلسطینی این جی اوز دہشت گردقرار دیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ  ان ریمارکس پر صیہونی حکومت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اس نے اپنے فیصلے سے امریکہ کو آگاہ کیا تھا۔
عبرانی زبان کے Yedioth Ahronoth اخبار نے ایک  صیہونی اعلیٰ عہدے دار کے حوالے سے محکمہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ واشنگٹن چھ فلسطینی این جی اوز کو دہشت گرد قرار دینے کےصیہونی حکومت کے ارادے سے لاعلم تھا۔
صیہونی عہدہ دارنےاپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کرنے سے پہلے اور گزشتہ ہفتے کے دوران رابطوں میں امریکہ کو آگاہ کر دیا تھا،صیہونی عہدہدار کے مطابق یہ کام دونوں فریقوں کے درمیان سکیورٹی چینلز کے ذریعے کیا گیا،تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ معلومات امریکی محکمہ خارجہ تک نہیں پہنچیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین