امریکی وزارت دفاع میں استعفوں کی ہٹرک؛سات دن میں پانچ عہدہ دار مستعفی

امریکی وزارت دفاع میں پینٹاگون کےبین الاقوامی امور کے مشیر اعلی گذشتہ سات دنوں میں استعفی دینے والے پانچویں اہلکار ہیں۔

ولایت پورٹل:ہل ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ، امریکی وزارت دفاع میں پینٹاگون  کےبین الاقوامی امور کے مشیر اعلی ٹینا کڈانو نے گذشتہ دنوں استعفیٰ دے دیا  جس کے بعد وہ اس سات دنوں میں اس وزارت کے مستعفی ہونے والے پانچویں فرد ہیں،یادرہے کہ اس سے قبل وہ امریکی وزارت خارجہ میں اہم عہدہ پر فائز تھیں  اور اس کے بعد  انہیں ستمبر2018 میں وزارت  دفاع میں تبدیل کردیا گیا تھا جہاں وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئیں،امریکی وزارت  دفاع کے ترجمان نے کڈانو کی خدمات پر ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کے استعفے سے متعلق مزید معلومات فراہم کرنے سے قاصر ہیں،واضح رہے کہ امریکی ذرائع ابلاغ نے کچھ دن پہلے اطلاع دی تھی کہ ڈپٹی اسسٹنٹ سکریٹری برائے اسٹیٹ انٹلیجنس کیری بنجن جنوری میں عہدہ چھوڑنے کا ارادہ رکھتی ہیں،بنجن امریکی وزارت دفاع میں دوسرےاعلی درجے کے عہدہ دار ہیں اور وہ مئی2017 سے اس عہدے پر فائز ہیں،اس عہدے سے پہلے ، وہ امریکی ایوان نمائندگان کی  آرمڈ سروسز کمیٹی میں پالیسی سازی کے ذمہ دار تھے،بنجن کے مستعفی ہونے سے قبل ، پینٹاگون کے تین دیگر عہدیداروں نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے عہدہ داروں سے  سبکدوش ہورہے ہیں،یادرہے کہ امریکی وزیر دفاع کے ایشین امور کے اسسٹنٹ سکریٹری رینڈل شریور نے6 روز قبل استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا،اس کے ٹھیک ایک دن بعدامریکی وزارت دفاع کے چیف آف اسٹاف جمی اسٹیورٹ کے مستعفی ہونے خبر منظر عام پر آئی،ان  استعفوں کو امریکی وزارت دفاع کی دیگر خالی  آسامیوں میں شامل کیا جائے گا،ہل ویب سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ امریکی وزیر دفاع کو ابھی تک اپنے چھ معاونین کے لیے مناسب آپشن نہیں مل سکا ہے جس کی وجہ سے یہ پوسٹیں خالی ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین