Code : 3597 30 Hit

حضرت عبد العظیم حسنی(ع) کی زندگی سے ملنے والے پانچ اہم سبق

اگر انسان کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اس کے بارے میں تھوڑی دیر سوچ لے کہ اس سے کیا فائدہ پہونچے گا اور کیا نقصان ہوسکتا ہے تو بہت سی دنیاوی اور اخروی مشکلات سے نجات مل سکتی ہے اور شرمندگی و پچھتاوے سے نجات مل سکتی ہے چنانچہ جناب عبد العظیم حسنی(ع) نے امام محمد تقی(ع) سے عرض کیا: مولا! میرے لئے اپنے آبائے طاہرین کا طیب و طاہر کلام سنا دیجئے تاکہ دل میں نورانیت پیدا ہو۔ امام (ع) نے فرمایا:میں نے اپنے بابا اور انہوں نے اپنے آبائے طاہرین سے امیرالمؤمنین(ع) کی یہ حدیث نقل فرمائی ہے:’’کسی بھی عمل کو انجام دینے سے پہلے اس کے متعلق سوچنا پشیمانی سے نجات دلاتا ہے‘‘۔

ولایت پورٹل: اسلامی معاشرہ ہمیشہ ان مجاہدوں کی زحمتوں اور مشقتوں کا مرہون منت رہے گا جنہوں نے خطرات کے ہجوم میں بھی بہایت شجاعت ،ہمت اور امانتداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دینی تعلیمات اور معارف اہل بیت(ع) کو  اس تشنگان معارف اور حق کی تلاش میں رہنے والوں کے لئے بیان کیا اور ان لوگوں کی سعادت و کامیابی کی راہیں ہموار کیں۔ انہیں شخصیات میں سے ایک جلیل القدر اور عالی مرتبہ شخصیت  کہ جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلامی تعلیمات کو آئمہ علیہم السلام کی احادیث کے ذریعہ امت تک پہونچانے میں بسر کی   اور جن کا وجود پورے عالم اسلام اور خاص طور پر سرزمین ایران کے لئے خیر و برکت کا سبب قرار پایا ،حضرت عبدالعظیم حسنی(ع) ہیں۔
حضرت عبد العظیم حسنی(ع) کا مرتبہ
آئمہ معصومین(ع) سے احادیث نقل کرنے کے علاوہ حضرت عبد العظیم حسنی(ع) کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ آپ کا شجرہ نسب نہایت پاک و پاکیزہ ہے اس طرح کہ آپ چار واسطوں سے امام حسن مجتبیٰ (ع) سے ملحق ہوتے ہیں۔(1) نیز آپ کا دیگر امتیاز یہ ہے کہ آپ نے اپنی با برکت عمر میں تین آئمہ معصومین(ع) یعنی امام محمد تقی(ع)، امام علی نقی(ع) اور امام حسن عسکری(ع) سے کسب فیض کیا۔(2) اگرچہ اس کے متعلق کچھ محققین کا خیال ہے کہ کسی راوی کا تین آئمہ(ع) کے دور میں زندہ رہنے کا مطب یہ نہیں ہوتا کہ اس نے تینوں سے احادیث بھی  نقل کی ہوں البتہ حضرت عبد العظیم حسنی(ع) کے متعلق معتبر قول یہی ہے کہ آپ نے امام محمد تقی اور امام علی نقی(ع) سے مسلمہ طور پر بہت زیادہ احادیث نقل کی ہیں۔(3)
مذکورہ خصوصیات کے علاوہ کچھ روایات میں یہاں تک ملتا ہے کہ آئمہ معصومین(ع) آپ کی خاص عزت و تکریم کیا کرتے تھے اور ہمیشہ سید کو شہر ری اور اس کے اطراف میں آباد شیعوں کے سامنے ایک علمی مرجع و شخصیت کے طور پر تعارف کروایا کرتے تھے چنانچہ ابوتراب رویانی روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابو حمّاد رازی سے سنا: ایک مرتبہ میں سامرا میں امام علی نقی(ع) کی خدمت با برکت میں شرفیاب ہوا اور حضرت سے اپنے مسائل دریافت کئے۔ امام علیہ السلام نے میرے سب مسائل کے جوابات عنایت فرمائے اور جب میں آپ کے یہاں سے رخصت ہونا چاہتا تھا حضرت نے مجھ سے فرمایا:’’یا أبا حَمّاد! إذا أَشکَلَ عَلَیک شَى‏ءٌ مِن أمرِ دینِک بِناحِیَتِک فَسَل عَنهُ عَبدَ العَظیمِ بنَ عَبدِ اللَّهِ الحَسَنِیّ و أقرِئهُ مِنّیِ السَّلامَ‘‘۔(4) اے ابو حماد! جب تمہارے اپنے خطہ میں تمہارے سامنے کوئی دینی مسئلہ و مشکل پیش آجائے تو اسے عبد العظیم حسنی(ع) سے جاکر دریافت کرلینا اور ان تک میرا سلام بھی پہونچا دینا۔
اس عبارت اور نیز دیگر شیعہ علماء کی بیان کردہ تعبیرات سے سید کے مرتبہ اور مقام کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے چنانچہ علامہ حلی(رح) سید کے مقام و مرتبہ کے متعلق نقل کرتے ہیں:’’آپ(سید عبد العظیم حسنی) ایک عالم، عابد،زاہد شخصیت کے مالک تھے اور ان کے بارے میں ایسی حکایات نقل ہوئی ہیں کہ جو ان کے حُسن حال پر دلالت کرتی ہیں‘‘۔(5)
حضرت عبد العظیم حسنی (ع) کی زندگی سے پانچ اہم سبق
اگر ہم حضرت عبد العظیم حسنی(ع) کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ہم ان سے یہ چند اہم سبق سیکھ سکتے ہیں:
پہلا سبق: اپنی زندگی کو اہل بیت(ع) کے بیان کردہ اصول کے سائے میں گذارنا
حضرت عبد العظیم حسنی(ع) کی زندگی سے ملنے والا پہلا سبق یہ ہے کہ آپ نے اپنے عقیدے کو امام معصوم(ع) کے سامنے پیش کرکے خود ان سے تائید لی تھی چنانچہ روایات میں وارد ہے،خود آپ بیان کرتے ہیں: میں اپنے مولا و آقا حضرت علی بن محمد نقی(ع) کی خدمت میں شرفیاب ہوا جب آپ کی نظریں مجھ پر پڑی فرمایا:اے ابو القاسم! آپ کا خیر مقدم ہے! آپ ہمارے سچے دوست اور چاہنے والے ہو۔
میں نے عرض کیا: اے فرزند رسول(ص)! میں اپنے عقیدہ اور دین کو آپ کے سامنے پیش کرنے کا خواہش مند ہوں اگر وہ صحیح ہو تو میں اس پر ثابت قدم رہوں یہاں تک کہ خدا سے اسی عقیدہ و عمل کے ساتھ ملاقات کروں !
امام نقی علیہ السلام نے فرمایا: اے ابو القاسم اگر چاہتے ہو تو پیش کرو!
چنانچہ اس روایت میں نقل ہوا ہے کہ حضرت عبد العظیم حسنی(ع) نے توحید، نبویت و امامت اور معاد ، الہی اوامر و نواہی کا خود امام علی نقی(ع) کے سامنے اظہار فرمایا۔(۶)
یہ ہمارے لئے  ایک بہت اہم سبق اور پیغام ہو سکتا ہے کہ ہم کس طرح اپنی زندگی کو آئمہ(ع) کے بتائے ہوئے اصول و فرامین کے سائے میں گذاریں تاکہ ہم دنیا میں کامیاب اور آخرت میں سعادت مند بن سکیں۔
دوسرا سبق: زبان کی حفاظت
روایات کی روشنی میں حضرت عبد العظیم حسنی(ع) کی زندگی سے ملنے والا دوسرا اہم سبق یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ اپنی زبان کی حفاظت کرنا چاہیئے چونکہ انسان کی زبان سے ہونے والے گناہوں کی تعداد دیگر اعضاء سے سرزد ہونے والے گناہوں کے مقابل بہت زیادہ ہے  لہذا اگر کوئی شخص اپنی زبان کو کھلا چھوڑ دے اس کی مثال ویسی ہی ہے جیسے کسی درندے کو کسی آبادی میں لاکر چھوڑ دیا جائے اور وہ لوگوں کو نقصان پہونچاتا پھرے چنانچہ ایک روایت میں نقل ہوا ہے حضرت عبد العظیم حسنی(ع)  نے امام محمد تقی(ع) سے عرض کیا: فرزند رسول(ص)! آپ میرے لئے اپنے آبائے طاہرین کی کوئی حدیث نقل فرمائیں چنانچہ امام تقی علیہ السلام نے فرمایا:میرے والد نے اپنے والد سے اور انہوں نے جملہ آئمہ(ع) سے نقل کیا ہے کہ امیرالمؤمنین(ع) نے فرمایا:انسان اپنی زبان کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔(۷)در حقیقت اس روایت کا منشأ بہت سی آیات قرآنی ہیں من جملہ یہ آیت ہے:’’وَ لَوْ نَشاءُ لَأَرَیْناکَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیماهُمْ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِی لَحْنِ الْقَوْلِ‘‘۔(8) اور ہم چاہتے تو انہیں دکھلا دیتے اور آپ چہرہ کے آثار ہی سے پہچان لیتے اور ان کی گفتگو کے انداز سے تو بہرحال پہچان ہی لیں گے۔
تیسرا سبق: دور اندیشی اور تدبیر
اگر انسان کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اس کے بارے میں تھوڑی دیر سوچ لے کہ اس سے کیا فائدہ پہونچے گا اور کیا نقصان ہوسکتا ہے تو بہت سی دنیاوی اور اخروی مشکلات سے نجات مل سکتی ہے اور  شرمندگی و پچھتاوے سے نجات مل سکتی ہے چنانچہ جناب عبد العظیم حسنی(ع) نے امام محمد تقی(ع) سے عرض کیا: مولا! میرے لئے اپنے آبائے طاہرین کا طیب و طاہر کلام سنا دیجئے تاکہ دل میں نورانیت پیدا ہو۔ امام (ع) نے فرمایا:میں نے اپنے بابا اور انہوں نے اپنے آبائے طاہرین سے امیرالمؤمنین(ع) کی یہ حدیث نقل فرمائی ہے:’’کسی بھی عمل کو انجام دینے سے پہلے اس کے متعلق سوچنا پشیمانی سے نجات دلاتا ہے‘‘۔(9)
چوتھا سبق: آخرت کے رنج و آلام کا نسخہ
دنیا میں بہت سے ایسے افراد موجود ہیں جو اپنے دنیاوی اور اخروی درد و آلام سے نجات کا نسخہ تلاش کرتے پھرتے ہیں چنانچہ کچھ لوگوں کو صحیح نسخہ مل جاتا ہے اور کچھ لوگ اس تک نہیں پہونچ پاتے چنانچہ ایک بہت خوبصورت روایت میں حضرت عبد العظیم حسنی(ع) نے امام علی نقی علیہ السلام سے آخرت کے درد و آلام سے رہائی کا مکمل نسخہ اپنے چاہنے والوں کے لئے اس طرح پیش کیا ہے۔
حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے حضرت عبد العظیم حسنی(ع) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایک دن حضرت موسیٰ بن عمران(ع) نے کوہ طور پر اللہ تعالیٰ سے جاکر عرض کیا: پروردگار! وہ شخص جو تیری راہ میں لوگوں کی آذار و اذیت اور ان کی بری باتوں کو برداشت کرے اس کا اجر کیا ہوگا؟ ارشاد ہوا: اے موسیٰ! میں قیامت کے دن کی سختیوں میں اس کی مدد کروں گا۔(10)
 پانچواں سبق: لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا
لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنا ان اجتماعی فضائل میں سے ہے جن کا قرآن نے بارہا تذکرہ کیا ہے چنانچہ ایک آیت میں ارشاد ہوتا ہے:’’وَ قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنا‘‘۔(11) لوگوں کے ساتھ اچھائی کے ساتھ کلام کرو۔
ہماری روائی اور حدیثی کتابوں میں حضرت عبد العظیم حسنی، امام محمد تقی علیہ السلام سے ایک روایت نقل کرتے ہیں جو اس آئیہ کریمہ کی بخوبی منظر کشی کرتی ہے ۔حضرت عبد العظیم حسنی(ع) نے امام محمد تقی علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: فرزند رسول(ص)! اپنے آبائے طاہرین کوئی حدیث بیان فرمائیں! امام (ع) نے فرمایا: امیرالمؤمنین (ع) رسول اللہ(ص) سے نقل کرتے ہیں کہ: تم کبھی بھی لوگوں کو مال سے نواز کر انہیں غنی نہیں بنا سکتے پس تم ان کے ساتھ اچھے اخلاق اور خندہ پیشانی سے پیش آیا کرو‘‘۔(12)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔رجال النجاشى: ج 2 ص 67 ش 651۔
۲۔رجوع کیجئے: معجم الرجال الحدیث، ج11، ص51۔
۳۔رجوع کیجئے: حکمت نامه حضرت عبد العظیم الحسنى «علیه السلام»، ص18۔
۴۔مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، ج‏17، ص 321۔
۵۔مجموعه مقالات کنگره حضرت عبدالعظیم حسنی، سازمان چاپ و نشر موسسه دارالحدیث، ص93به نقل از خلاصۃ الاقوال ص، 226 باب 25 شماره 12۔
۶۔الأمالى، صدوق: ص 419 ح 557۔
۷۔الأمالی،الصدوق ، ص446، ح9۔
۸۔سوره محمّد،:30۔
۹۔عیون أخبار الرضا (علیه السلام): ج 2 ص 53 و 54 ح 204۔
۱۰۔الأمالى، صدوق: ص 276- 277 ح 307۔
۱۱۔سوره بقره: 83۔
۱۲۔الأمالی، الصدوق، ص446، ح9۔


0
شیئر کیجئے:
متعلقہ مواد
اصحاب آئمہ علیہم السلام کا تذکرہ:مالک اشتر نخعی
اصحاب آئمہ علیہم السلام کا تذکرہ:جناب حجر بن عدی
اصحاب معصومین علیہم السلام کا تذکرہ:ام ایمن کو اہل بیت(ع) کی خدمت کا صلہ
عبدالعظیم حسنی(ع) کی ولادت کے موقع پر خصوصی پیشکش: ری کا مسافر
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین