Code : 2703 22 Hit

امربالمعروف کرنے والوں کو لاحق 5 خطرات

کچھ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم تو اپنی نماز پڑھ رہے ہیں ، روزہ رکھ رہے ہیں ، ہم واجب حج بھی بجا لاچکے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن جب ان کے سامنے کوئی شخص کسی برائی کا مرتکب ہورہا ہوتا ہے وہ اس چھوڑ دیتے ہیں ۔ جبکہ ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ اگر ہم سب لوگ مل کر اللہ کے احکام پر اعمل کریں اور دینی اقدار کو معاشرہ میں نافذ کریں تبھی ہماری عبادتیں ، ریاضتیں اور شب بیداریاں ہمیں کچھ فائدہ پہونچا سکتی ہیں۔

ولایت پورٹل:جب کبھی کچھ لوگوں کے سامنے امر بالمعروف اور نہی از منکر کی بات ہوتی ہے تو انھیں بہت برا محسوس ہوتا ہے اب یہ توجہ کرنے اور تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ افراد امربالمعروف اور نہی از منکر کا نام سنتے ہی اتنا کیوں گھبراتے ہیں اور ان کی ایسی عجیب حالت کیوں ہوجاتی ہے۔
قارئین اس کے بہت سے اسباب ہوسکتے ہیں اور ان میں سب سے اہم سبب اور علت یہ ہوسکتی ہے کہ امربالمعروف اور نہی از منکر کرنے والوں کا طریقہ کار اس قدر بھونڈا ہوتا ہے کہ لوگ اسے دیکھ کر متنفر ہوجاتے ہیں۔
آئیے آج ہم ان لوگوں سے بات کرتے ہیں جو کسی بھی معاشرے میں لوگوں کے سامنے اچھی باتیں کرتے ہیں اور انھیں نیکیوں کی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں اور ان کی سب سے بڑی آرزو یہ ہوتی ہے کہ اللہ کی زمین پر کوئی بندہ اس کی نافرمانی کا شکار نہ ہو۔
قارئین کرام! یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ امر بالمعروف اور نہی از منکر کرنا صرف علماء اور مبلغین دین کا کام نہیں ہے بلکہ جو بھی کملہ شہادتین پڑھتا ہے اور وہ مسلمان ہے اس پر دیگر واجبات کی طرح امر بالمعروف اور نہی از منکر(یعنی لوگوں کو اچھائیوں کی طرف بلانا اور برائیوں سے منع کرنا) کرنا واجب ہے۔جبکہ کچھ لوگ فروع دین میں کچھ واجبات کو تو اچھے سے ادا کرتے ہیں لیکن کچھ واجبات کو چھوڑ دیتے ہیں اور یہ تصور کرتے ہیں کہ ہمیں کیا مطلب دوسرے کیا کررہے ہیں؟ ہم تو اپنی نماز پڑھ رہے ہیں ، روزہ رکھ رہے ہیں ، ہم واجب حج بھی بجا لاچکے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن جب ان کے سامنے کوئی شخص کسی برائی کا مرتکب ہورہا ہوتا ہے وہ اس چھوڑ دیتے ہیں ۔ جبکہ ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ اگر ہم سب لوگ مل کر اللہ کے احکام پر اعمل کریں اور دینی اقدار کو معاشرہ میں نافذ کریں تبھی ہماری عبادتیں ، ریاضتیں اور شب بیداریاں ہمیں کچھ فائدہ پہونچا سکتی ہیں۔
المختصر جو افراد یہ چاہتے ہیں کہ وہ دوسروں کو نیکوں کی طرف دعورت دیں اور انھیں برائی سے روکیں ان کے سامنے متعدد خطرات اور رکاوٹیں ہیں جن میں سے 5 اہم کا تذکرہ ہم ذیل میں کررہے ہیں:
1۔اپنی اصلاح سے پہلے دوسرے کی اصلاح کرنا
امربالمعروف کرنے کے سلسلہ میں ایک غلط طریقہ ممکن ہے جو بہت سے لوگوں کے امربالمعروف و نہی از منکر سے متنفر ہونے کا ذریعہ بنے وہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ صرف دوسروں کو کسی عمل کے انجام دینے کی ہدایت کرتے ہیں اور انہیں اس بات کی قطعاً فکر نہیں رہتی کہ دوسروں کو کسی عمل کے کرنے پر وادار کرنے سے پہلے انھیں پہلے مرحلے میں اپنی اصلاح کرلینی چاہیئے۔ اور دوسروں کو کچھ سیکھانے ، بتانے اور انجام دینے سے پہلے اپنے لئے بھی کوئی کام کرلینا چاہیئے۔اور یہ ایک بدیھی سی بات ہے کہ جب ایسے شخص سے کسی عمل کے انجام دینے کا مطالبہ کیا جائے جو خود انجام نہ دیتا ہو تو یہ انسان کو برا لگ ہی جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک مبلغ اور امر بالمعروف یا نہی عن المنکر کرنے والے کو اس بات کی طرف دھیان دینے کی سخت ضرورت ہے چنانچہ قرآن مجید نے بھی ایسے لوگوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ پہلے مرحلے میں اپنی اصلاح کریں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ ما لا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا ما لا تَفْعَلُونَ‘‘۔(سورہ الصف:آیت 2 اور 3) ایمان والو آخر وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر تم خود عمل نہیں کرتے ہو۔ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناراضگی کا سبب ہے کہ تم وہ کہو جس پر عمل نہیں کرتے ہو۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی روشنی میں اس موضوع پر تأکید کرتا ہے کہ اصلاح و ہدایت کا عمل پہلے خود سے آغٓاز ہونا چاہیئے تاکہ دوسروں پر اثر انداز ہوسکے:’’قُوا أَنفُسَكُمْ‘‘۔(سورہ تحریم:6)
2۔امربالمعروف اور نہی از منکر کرتے وقت بدخلقی کا مظاہرہ کرنا
دوسری خطرناک چیز جو امر بالمعروف اور نہی از منکر کرنے والوں کے لئے نقصاندہ ہے اور جس کا سامنے والوں پر اچھا اثر مترتب نہیں ہوتا اور مؤمنین کو جلد ہی بدظن کردیتی ہے وہ ہے ان کا تبلیغ و ہدایت کا عمل انجام دیتے ہوئے سخت الفاظ کا استعمال کیا جائے اور تعلیم اخلاق کی تمام حدود کو بھلا کر بدخلقی کا مظاہرہ کرنا ہے جس کے نتیجہ میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے کے مقاصد تک رسائی مشکل ہوجاتی ہے چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ فرعون کی اصلاح کی جائے تو اپنے دو جلیل القدر پیغمبروں(جناب موسیٰ و ہارون(ع) سے اس طرح گویا ہوا:’’اذْهَبا إِلى‏ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغى‏ فَقُولا لَهُ قَوْلاً لَيِّناً لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشى‏‘‘۔(سورہ طہ: آیت: 43 اور 44)۔ تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ کہ وہ سرکش ہوگیا ہے ۔ اس سے نرمی سے بات کرنا کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا اس کے دل میں ہمارا خوف پیدا ہوجائے۔
3۔ صرف زبان کے ذریعہ امر بالمعروف کرنا
امربالمعروف کرنا اس وقت بھی کارگر ثابت نہیں ہوتا جب ہم صرف اپنی زبان سے سامنے والے کو کسی عمل کے کرنے کے لئے وادار کریں یا کسی کام سے اسے روکنے کی کوشش کریں۔ امربالمعروف کرنے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ صرف زبانی تبلیغ و ارشاد میں وہ اثر نہیں ہوتا جو عمل کے ساتھ دوسروں کو دعوت دینے میں ہوتا ہے اور یہی تبلیغ کا وہ عنصر ہے جسے ہمارے آئمہ(ع) اپنے چاہنے والوں کو ہمیشہ بتلاتے رہے کہ ہمیشہ اچھائیوں کی دعوت صرف زبان سے نہیں بلکہ عمل سے دیا کرو چونکہ لوگوں کو یہی پسند ہے اور ہمیں بھی یہی عمل پسند ہے:’’كُونُوا دُعَاةَ النَّاسِ‏ بِغَيْرِ أَلْسِنَتِكُمْ لِيَرَوْا مِنْكُمُ الِاجْتِهَادَ وَ الصِّدْقَ وَ الْوَرَع‏‘‘۔(مشكاة الأنوار في غرر الأخبار، على بن حسن طبرسى‏، ص46؛ بحار الأنوار، علامه مجلسی، ج 67، ص 309)۔چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں لوگوں کو اپنی زبان کے علاوہ دین کی طرف بلاؤ،تاکہ وہ تم میں کوشش و محنت،صداقت اور پرہیزگاری و تقوے کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرسکیں۔
4۔امربالمعروف کرنے میں حددرجہ سخت گیری کا مظاہرہ کرنا
چوتھی چیز جو امر بالمعروف کے سلسلہ میں برا اثر ڈال سکتی ہے سختی اور افراط سے کام لینا ہے ۔ امربالمعروف متانت، صبر حوصلہ یعنی افراط و تفریط سے ہٹ کر معتدل طریقے سے ہونا چاہیئے چونکہ اگر ہم آئمہ معصومین(ع) سے منقول روایات کا جائزہ لیں تو ہمیں ملتا ہے:’’الْإِفْرَاطُ فِی الْمَلَامَةِ یشُبُ نِیرَانَ اللَّجَاجَة‘‘۔(بحار الأنوار (ط - بيروت)، ج‏74، ص212)۔ کثرت کے ساتھ کسی ملامت و مذمت کرنا ہٹ دھرمی اور ضد کی آگ کو بھڑکانے کا سبب بنتا ہے۔
یا ایک دوسری حدیث میں حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے:’’ بسا اوقات جزئی اور لازم امور میں سختی برتنے کا انجام برعکس ہوتا ہے‘‘۔
5۔ غرور و تکبر سے مملو ہوکر فریضہ امربالمعروف کو ادا کرنا
کسی کو امر بالمعروف و نہی از منکر کرنے کا تقاضہ یہ ہے کہ یہ عمل ہمیشہ تواضع اور انکساری کے ساتھ انجام پانا چاہیئے اور اس راہ میں کبھی انسان اپنے کو دوسروں سے برتر شمار نہ کرے اور اپنے بارے میں معصومانہ خیالات کو جگہ نہ دے چنانچہ امام خمینی(رح) فرمایا کرتے تھے:’’نیکیوں کی دعوت دینے والے اور دوسروں کو برائیوں سے بچنے کا حکم دینے والے کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے کو بے عیب و گناہ تصور کرے۔ چونکہ جس شخص نے کوئی گناہ انجام دیا ہے چاہے وہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہو ممکن ہے اس میں کچھ ایسے صفات اور خصوصیات پائے جاتے ہوں کہ جو اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کا باعث ہوں اگرچہ جو اس نے گناہ کیا ہے وہ اس کی نسبت اس سے ناراض بھی ہو‘‘۔(تحريرالوسيله، ج 1، ص 462، مسئله 13)


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین