صیہونیوں میں مزاحمتی تحریک کے ساتھ نئی جنگ میں داخل ہونے کا خوف وہراس

صہیونی میڈیا نے صیہونی حکومت کے داخلی محاذ پر مخدوش صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کے ساتھ نئے تنازع کا امکان زیادہ دور نہیں ہے۔

ولایت پورٹل:تازہ ترین فوجی ہتھکنڈہ جس میں غاصب صیہونی حکومت کی فوج نے ایک مکمل جنگ کا نقشہ بنایا  ہے،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونیوں نے مزاحمت کے محور سے پیدا ہونے والے نئے مساوات کی سنگینی کو بھانپ لیا  ہےاور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مقبوضہ علاقے چاروں طرف سے مزاحمتی تحریک کے میزائلوں سے گھرا ہوئے ہیں۔
درحقیقت صہیونی پیش گوئی کرتے ہیں کہ آج نہیں تو کل وہ ایک علاقائی جنگ میں داخل ہو جائیں گے جس کے نتائج کو برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا،خاص طور پر جبکہ صیہونی حکومت کے داخلی محاذ پر حالات بالکل بھی سازگار نہیں ہیں اور سیف القدس کی لڑائی نیز مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے حالیہ شہادت طلبانہ آپریشن کے بعد صیہونی حکام اور آبادکاروں کی تشویش میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔
اسرائیل اخبار ہیوم نے صیہونی حکومت کے داخلی محاذ پر مخدوش صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گوشدان اور قدس کے علاقوں کے رہائشی فلسطینی میزائلوں کے خوف سے بار بار اسٹرانگ رومز اور پناہ گاہوں میں پناہ لینے پر مجبورہوتے ہیں۔
 اسرائیل ہیوم نے مزید لکھاکہ صیہونی فوج اس وقت چھ جنگی میدانوں سے نمٹ رہی ہے، جن میں سے کچھ کو ابھی تک فعال نہیں کیا گیا ہےجبکہ اسرائیل کو مختلف محاذوں پر خطرات کو کم نہیں سمجھنا چاہیے چاہے وہ قلیل مدتی ہو یا طویل مدتی ہوں،تاہم حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران کئی فعال جنگی محاذوں میں جن میں اسرائیل بارہا مصروف رہا ہے اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے پچھلی دہائی میں جو جنگیں لڑی ہیں ان کے علاوہ غزہ کی سرحد پر روزانہ جھڑپیں اور حماس کی فوجی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ تیار نہیں ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین