امریکی مسلمانوں میں خوف و ہراس

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس ملک کی ریاست نیو میکسیکو میں 4 مسلمانوں کے قتل سے اس ریاست کی مسلم کمیونٹی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

ولایت پورٹل:امریکہ کی ریاست نیو میکسیکو میں فائرنگ سے 4 مسلمانوں کی ہلاکت کے واقعے نے اس ملک کی مسلم کمیونٹی کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور مساجد میں حفاظتی اقدامات تیز کر دیے ہیں، یاد رہے کہ یہ تمام قتل البوکرک شہر میں ہوئے۔
تازہ ترین واقعہ گزشتہ جمعہ کی شام اس وقت پیش آیا جب مقامی چینل (KB4)نے نعیم حسین نامی شخص کی لاش ملنے کا اعلان کیا، روئٹرز خبر رساں ادارے کے مطابق البوکرک میں گزشتہ نو مہینوں میں تین دیگر مسلمانوں کو قتل کیا گیا ہے ، نیو میکسیکو اسٹیٹ پولیس کا کہنا ہے کہ ان قتلوں کا مقصد مذہبی نفرت اور نسل پرستی تھا۔
 رپورٹ کے مطابق قتل ہونے والے دو مسلمان ایک مسجد کے رکن تھے اور انہیں جولائی کے آخر اور اگست کے اوائل میں نیو میکسیکو کے سب سے بڑے شہر البوکرک میں گولی ماری گئی، پاکستان سے امریکہ ہجرت کرنے والے سابق پلاننگ مینیجر 27 سالہ محمد افضل حسین کو پیر کو البوکرک میں ان کے گھر کے قریب گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جبکہ 26 جولائی کو 41 سالہ آفتاب حسین کی لاش البوکرک کے انٹرنیشنل زون کے قریب سے ملی جہاں اسے گولی مار کر قتل کیا گیا۔

 اس حوالے سے نیویارک ٹائمز نے پیر کے روز ایک رپورٹ شائع کی اور لکھا کہ اس خبر کی اشاعت کے بعد اس شہر کے کچھ مسلمان اپنے گھروں سے نکلنے سے خوفزدہ ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین