Code : 3023 37 Hit

حضرت فاطمہ(س) اور بچوں کی تربیت

واقعاً مرحلہ بہت سخت تھا کہ بچوں کے دل بھی نہ ٹوٹے اور انہیں انصاف بھی مل جائے لہذا تقدیر الہی یہ ٹہری کہ جتنے موتی امام حسن(ع) کے ہاتھ آئے اتنے ہی موتی امام حسین(ع) نے چنے اور نتیجہ مل گیا کہ دونوں بھائیوں کی تحریر بھی ایک جیسی ہے اور دونوں کی طاقت بھی ایک جیسی ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اسلام کی ایک بنیاد بچوں کی تربیت ہے کہ ان کی سعادت میں عوامل خمسہ گہرا اثر رکھتے ہیں جیسا کہ خشک جڑ کی دیکھ بھال اسے پھلدار درخت میں بدل دیتی ہے یہ ہر انسان میں ہزار درجہ زیادہ مؤثر ہے
تربیت کی بحث دستورات زندگی میں ۲۷ کے بعد کی گئی ہے تلقینات اولیہ اذان واقامت اور حسن تکلم سے لے کر قرآن مجید اور فرائض زندگی کی تعلیم دینے تک تمام چیزیں بچوں کی خوش بختی میں اہم اثر رکھتی ہیں حضرت زہرا(س) کے بچے اس کے باوجود کہ ذاتاً اللہ کی طرف سے تربیت شدہ ہیں پھر بھی ماں باپ اور نانا کے کمالات، حسن معرفت اور اخلاق کے تحت کمالات اور مقام ومرتبے کی مزید بلندیاں طے کرتے ہیں۔
ولایت و امامت کی معرفت
حضرت فاطمہ زہرا(س) اپنے بیٹے حسن (ع) کو  جب پیار کرتی تھیں تو یہ جملے ارشاد فرماتی تھیں:’’اشبه اباک یا حسن واخلع عن الحق الرسن واعبد الها ذالمین ولا توال ذا الاحن‘‘۔(بحار الانوار ج۴۳ ص۲۸۶ ) اے حسن اپنے والد کی طرح بنو اور حق کی گردن سے رسی اتار پھینکو اور نعمت عطا کرنے والے خدا کی عبادت کر اور کینہ پرستوں کو دوست نہ رکھو۔
حدیث کی ظاہری تفسیر
چونکہ حضرت علی(ع) قدرت حق اور صفات الہی کے مظہر ہیں لذا فرماتی ہیں اپنے والد کی شبیہ بنو البتہ شباہت علم انصاف شجاعت اور تقوی وغیرہ ہے جنہیں علی(ع)کی ترویج میں بہت دوست رکھتے ہیں یعنی اپنے والد کے نقش قدم پر چلو اور یہ اپنے بیٹے حسن سے حضرت سیدہ کی پہلی خواہش تھی۔
۲۔ حق سے رسی اتار پھینکنا یہ ہے کہ انسان حق کو پاک وخالص کردے ۔جو چیز بھی باطل ہے اسے اپنے دل سے نکال دو اس سے دل نہ لگاؤ اپنے دل میں صرف خدا اور اولیائے خدا کی ولایت ومحبت رکھو باقی سب کچھ نکال باہر کردو۔
اولاد کو حقائق کی تعلیم
کتاب راہنمائے بہشت کی جلد اول ص۱۶۳ پر لکھا ہوا ہے کہ حضرت امام حسن مجتبی(ع)  پانچ سال کی عمر میں ہر روز مسجد میں جاتے تھے اور پیغمبر اکرم(ص) جو کچھ بیان کرتے تھے وہ سب کچھ ذہن نشین کرلیتے تھےاور جب اپنے گھر واپس آتے تو اپنی والدہ ماجدہ جناب سیدہ کونین(س) کو من و عن سناتے تھے اور جب حضرت امیر المؤمنین(ع) گھر تشریف لاتے تھے تو حضرت صدیقہ طاہرہ(س) وہ سب باتیں ان کے سامنے بیان کردیتی تھیں۔ایک دن حضرت امیر المؤمنین(ع) نے پوچھا اے فاطمہ تم تو مسجد میں نہیں گئیں یہ باتیں کہاں سے سیکھیں اسی وقت جناب سیدہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ مجھےے میرا بیٹا حسن بتلاتا ہے وہ ہر روز مسجد میں جاتا ہے اور اپنے جد حضرت محمد (ص) سے جو کچھ سنتا ہے وہ مجھے گھر آکر بتا دیتا ہے۔
حضرت نے فرمایا فاطمہ(س)! میں بھی یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کا بیٹا کیسےبتلاتا ہے ۔جناب صدیقہ طاہرہ(س) نے فرمایا میرا خیال ہے کہ وہ شرم کی وجہ سے آپ کے سامنے نہیں سنا پائے گا حضرت نے فرمایا میں کسی جگہ پر چھپ کر اس کی باتیں سن لوں گا اگلے دن امام حسن(ع) ہر روز کی طرح مسجد سے گھر آتے تو حضرت صدیقہ (س) نے فرمایا:اے میرے نور نظر! تمہارے نانا نے آج کیا فرمایا ہے؟ امام حسن(ع) ہر روز کی طرح بیان کرنا چاہتے ہیں لیکن زبان مبارک میں لکنت آجاتی ہے اور اپنی بات مکمل طور پر بیان نہ کرسکے فرمایا:’’یا اماه قل بیانی وکل لسانی لعل سیداً تیرانی‘‘۔ اے والدہ گرامی! میرا بیان کم ہو گیا ہے اور میری زبان گنگ ہو گئی شاید کوئی بزرگوار مجھے دیکھ رہا ہے حضرت امیر علیہ السلام جلدی سے دروازے کے پیچھے سے نکل آئے اور بے اختیار انہیں اپنی آغوش میں بٹھایا اور ان کے ہونٹوں کا بوسہ لیا۔
بچوں کی تربیت کا دلچسپ طریقہ
قارئین کرام! ایک دن رسول اللہ(ص) نے ارشاد فرمایا: کہ جس کا خط اچھا ہو اس کی طاقت بھی زیادہ ہوتی ہے۔بس بچوں کا یہ سننا تھا کہ دونوں بچے اپنی والدہ سے اصرار کرنے لگے : والدہ گرامی ہم خطاطی کرنا چاہتے ہیں اور آپ یہ فیصلہ کیجئے کہ کس کا خط اچھا ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ کون زیادہ طاقتور ہے۔
غرض! دونوں بھائیوں حسن و حسین علیہما السلام نے اپنی اپنی تختیوں پر خطاطی کی اور جب کام مکمل ہوگیا بچے اپنی والدہ کی خدمت میں آئے اور فیصلہ کرنے کا اصرار کیا لیکن بنت پیغمبر(ص) نے فرمایا: میرے بچوں جاؤ اپنے جد  رسول اللہ(ص)  سے جاکر فیصلہ کراؤ چونکہ وہ ہم میں سب سے افضل ہیں بچے نانا کی خدمت میں گئے لیکن سرکار(ص)نے کوئی فیصلہ نہیں کیا بلکہ ان کی والدہ فاطمہ زہرا(س) کے پاس بھیج دیا تاکہ فیصلہ سے جو حیرانی ہو ماں کی محبت سے اس کی تلافی ہو جائے۔
فاطمہ زہرا (س)نے دیکھاکہ دونوں کی تحریر خوب ہے دونوں نے اس ہنر کے مقابلہ میں شرکت کی ہے توکیا کیا جائے؟لہٰذاخود مخاطب کر کے فرمایا:اَنَامَاذَا اَصْنَعُ وَکَیْفَ اَحْکُمُ بَیْنَہُمَا؟
اب میں کیا کروں؟ اپنے ان دونوں بچوں کے درمیان کیسے فیصلہ کروں؟
نہایت ہی دوراندیشی اور تربیتی مسائل کی رعایت کرتے ہوئے بچوں کا فیصلہ خود بچوں پر چھوڑ تے ہوئے فرمایا:
’’یَاقُرَتَّی عَیْنِیْ اِنِّی اَقْطَعْ قِلَادَتِی عَلَیْ رَاْسِکُمَاوَاَنْشُرْ بَیْنَکُمَا جَوَاہِرَ ہَذِہِ الْقَلَادَۃِ فَمَنْ اَخَذَ مِنْہَااَکْثَرَ فَخَطُّہُ اَحْسَنُ وَتَکُوْنُ قُوَّتُہُ اَکْثَرَ ‘‘۔اے میرے نور چشمو! میں اپنے گلوبند کا دھاگا توڑتی ہوں اور اس کے موتی تمہارے سر پر ڈالتی ہوں، اس کے موتی تمہارے سامنے بکھرجائیں گے تم میں سے جو بھی اس ہار کے زیادہ موتی چنے گا اس کا خط اچھا سمجھا جائے گا اور اسی کوز یادہ قوی تصور کیا جائے گا۔
واقعاً مرحلہ بہت سخت تھا کہ بچوں کے دل بھی نہ ٹوٹے اور انہیں انصاف بھی مل جائے لہذا تقدیر الہی یہ ٹہری کہ جتنے موتی امام حسن(ع) کے ہاتھ آئے اتنے ہی موتی امام حسین(ع) نے چنے اور نتیجہ مل گیا کہ دونوں بھائیوں کی تحریر بھی ایک جیسی ہے اور دونوں کی طاقت بھی ایک جیسی ہے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम