Code : 3413 37 Hit

روزہ تقویٰ کے واسطے تمہید کی حیثیت رکھتا ہے: آیت اللہ خامنہ ای

تقویٰ، انبیاء کی پہلی اور آخری وصیت ہے، آپ قرآن مجید کے مختلف سوروں میں پڑھتے ہیں، انبیائے الٰہی نے اپنی زبان پر پہلے کلمات جو جاری کئے وہ لوگوں کو تقویٰ کی نصیحت و سفارش ہے،اگر تقویٰ ہوگا تو خدا کی ہدایتیں بھی شامل حال ہوں گی اور اگر تقویٰ نہ ہوا تو خدا کی ہدایت بھی مکمل طور سے فرد اور معاشرہ کے شامل حال نہ ہوگی۔یہ روزہ بھی تقویٰ کے واسطے تمہید کی حیثیت رکھتا ہے۔

ولایت پورٹل: تقویٰ،دنیا اور آخرت کی خوش نصیبی کی کنجی ہے۔ گمراہ انسانیت جو کہ انواع و اقسام کی انفرادی و اجتماعی پریشانیوں اور رنج و آلام سے کراہ رہی ہے۔یہ سب تقویٰ اختیار نہ کرنے اور ہوا و ہوس اور خواہشات کے دلدل میں پھنس جانے اور غفلت برتنے اور لاپروائی کی مارجھیل رہی ہے۔پسماندہ اور عقب افتادہ معاشروں کا حال سب کو معلوم ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی اگرچہ بعض جہات میں خوش قسمتی اور خوش نصیبی کے مالک ہیں جو ان کی زندگی کے کچھ مسائل اور معاملات میں ہوشیاری اور چالاکی و بیداری کی بنا پر ہے، لیکن ان کے اندر ایسی خوفناک خلا، اور بھیانک کمی بھی پائی جاتی ہے کہ جس کے بارے میں آج ان کے ہی قلمکار دانشور ہنر مند اور ترجمان لوگ ببانگ دہل اعلان کیا کررہے ہیں۔
تقویٰ، انبیاء کی پہلی اور آخری وصیت ہے، آپ قرآن مجید کے مختلف سوروں میں پڑھتے ہیں، انبیائے الٰہی نے اپنی زبان پر پہلے کلمات جو جاری کئے وہ لوگوں کو تقویٰ کی نصیحت و سفارش ہے،اگر تقویٰ ہوگا تو خدا کی ہدایتیں بھی شامل حال ہوں گی اور اگر تقویٰ نہ ہوا تو خدا کی ہدایت بھی مکمل طور سے فرد اور معاشرہ کے شامل حال نہ ہوگی۔یہ روزہ بھی تقویٰ کے واسطے تمہید کی حیثیت رکھتا ہے۔
خداوند عالم سورۂ حدید کی ایک آیت میں فرماتا ہے:’’یَٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ ئَ امَنُوْا اتَّقُوا اللّٰہَ  وَئَ امَنُوْا بِرَسُوْلِہِ یُؤْتِکُمْ کِفْلَیْنِ مِن رَّحْمَتِہِ وَیَجْعَل لَّکُمْ نُوْراً تَمْشُوْنَ بِہٖ‘‘۔
تقویٰ اس بات کا موجب ہوتا ہے کہ خداوند عالم آپ کے دلوں، زندگی اور راہ میں ایسا نور بھر دیتا ہے کہ اس کے زیر سایہ آپ حرکت کرسکتے ہیں اور اپنی زندگی کی راہ کو حاصل کرسکتے ہیں، بشریت ، حیران و سرگرداں رہ کر اپنی راہ جاری نہیں رکھ سکتی ہے، ہدف ومقصد کو پہچانے بغیر انسان کے لئے حرکت کرنا ممکن نہیں ہے۔ وہ نور جو ہمیں ہمارے مقصد اور منزل مقصود کی نشاندہی کرسکتا ہے وہ تقویٰ اور پرہیزگاری سے حاصل ہوسکتا ہے اسی لئے سبھی انبیاء اور اوصیائے کرام نے تقویٰ کی نصیحت کی ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین