Code : 1310 64 Hit

روزہ؛ اخلاص کی مشق

روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے سبب انسان بندگی کا سلیقہ سیکھتا ہے اور اللہ کی بندگی اس دولت کا نام ہے جس پر ہزار بادشاہتیں بھی قربان کردی جائیں تو کم ہے چونکہ اصل بندگی اور عبادت کا حق اس وقت ادا ہوتا ہے جب انسان اس بات پر یقین رکھتا ہو کہ مجھے ایسی ذات دیکھ رہی ہے جس کے لئے غیبت اور آنکھوں سے اوجھل ہوجانا کوئی معنٰی نہیں رکھتا اور یہ وہ جذبہ ہے جو روزہ رکھنے سے پروان چڑھتا ہے پس روزہ رکھنا یعنی خلوص کی مشق کرنا ہے اور جب انسان اس مرتبہ پر پہونچ جائے تو سمجھئے اسے وہ مقصد مل گیا جسے آیت میں بیان کیا گیا تھا:’’ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ‘‘۔

ولایت پورٹل: ماہ رمضان المبارک کا آغاز ہونے والا ہے ہر طرف مؤمنین اپنے کو اس مبارک مہینہ میں زیادہ سے زیادہ عبادتیں کرنے کے لئے تیار کررہے ہیں روزہ تو اس مہینہ میں رکھنا واجب ہے ہی ساتھ ہی بہت سی دیگر عبادتیں جیسا کہ قرآن مجید کی تلاوت ،دعائے سحر و افطار کی پابندی،دعائے جوشن کبیر،دعائے کمیل،دعائے افتتاح اس ماہ کے مخصوص اعمال ہیں۔ جہاں مؤمنین یہ اہتمام کرتے ہیں کہ اس مہینہ میں روزہ کی پابندی کریں وہیں دیگر واجب و مستحب اعمال بھی بجا لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ وہ حقیقت ہے جو ہمارے معاشرے میں عام طور پر حاکم ہے اور سبھی مسلمان رمضان المبارک کا اہتمام کے ساتھ خاص احترام بھی کرتے ہیں اور ہونا بھی چاہیئے بھلا اس مہینہ کی عظمت کو کیسے نظر انداز کردیا جائے جس میں انسان ضیافت الہی کے دسترخوان تک پہونچنتا ہے۔
لیکن دوسری طرف کچھ ایسے غرب زدہ مسلمان بھی پیدا ہوچکے ہیں کہ جو احکام الہی کی تمام حکمتوں کو مادی چیزوں میں تلاش کرتے ہیں اور طرح طرح سے روزہ نہ رکھنے کا بہانہ بناتے ہیں۔
ابھی آج کی بات ہے سوشل میڈیا پر کچھ غرب زدہ افراد کہ جو اپنے کو تہذیب یافتہ کہتے ہیں ان کی کچھ پوسٹیں دیکھیں جن میں یہ تحریر تھا کہ کیوں ہم لوگ بھوکے رہیں اور اپنے جسموں کو نقصان پہونچائیں اللہ یہ تو نہیں چاہتا کہ اس کے بندے اذیت اٹھائیں ۔جو روزہ رکھ سکتے ہیں وہ روزہ رکھیں لیکن ہماری نظر میں تو بہتر یہی ہے کہ ہم اپنے سحر و افطار کا سامان اپنے معاشرے کے غرباء و فقراء میں تقسیم کردیں اس سے نہ ہم پر ضعف و نقاہت طاری ہوگی اور ساتھ میں اللہ کے غریب بندوں کی مدد بھی ہوجائے گی۔
قارئین کرام! ہمیں بڑے دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسے لوگ بھی جو اپنے کو مسلمان کہتے ہیں اور مغربی افکار اور یہودیت و مسیحیت کے بوسیدہ نظریات کو نیا انداز دیکر ہر سال ہمارے معاشرے کے مؤمن جوانوں کو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں!
کیایہ ہمارے سماج کی مشکل نہیں ہے کہ جو لوگ دین کے الف،باء سے واقف نہیں ہوتے وہ دینی امور میں اپنا نظریہ بتانے لگتے ہیں؟
جبکہ روزہ دین اسلام کے ضروریات میں سے ہے اور تمام فقہائے اسلام کے نزدیک روزے کا انکار کرنے والا کافر ہے۔
اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ روزہ ایسی عبادت ہے جو صرف مسلمانوں یا امت محمد(ص) سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ عبادت کسی نہ کسی صورت سابقہ امتوں کے درمیان بھی پائی جاتی تھی چنانچہ قرآن مجید میں اعلان ہوتا ہے:’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ‘‘۔(سورہ بقرہ:۱۸۳)
ترجمہ: اے ایمان والو! روزہ اس طرح تم پر فرض کردیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے والوں پر فرض تھا۔ تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔
دوسری بات جو ایسے لوگوں کو سوچنی چاہیئے وہ یہ کہ روزہ کا مقصد صرف بھوک پیاس کو برداشت کرنا نہیں ہے کہ غریبوں و ناداروں کو کھانا کھلا کر جس جذبے کو سیراب کرلیا جائے ۔اور آپ کو کس نے روکا ہے کہ فقراء و ناداروں سے ہمدردی نہ کیجئے بلکہ خود اللہ نے اس مہینہ کے کئی پروگراموں کو فقیر و نادار لوگوں کی امداد کے لئے مخصوص کیا ہے جیسا کہ اس مہینے میں  کسی ضرورت مند کا روزہ کھلوانا،یا رمضان المبارک کے اختتام پر فطرہ دینا وغیرہ اور آپ چاہے جتنے فقراء کی امداد کیجئے اچھی بات ہے یہ تو اللہ کا فرمان ہے لیکن جب کسی مذہبی عبادت کی بات آتی ہے تو ایسے لوگوں کو معاشرے کے فقیر و نادار لوگ نظر آنے لگتے ہیں۔انہیں پورے سال نظر نہیں آتا کہ ہمارے پڑوس میں فلاں مستحق رہتا ہے اس کی مدد کردی جائے یا فلاں بیوہ رہتی ہے اسے ایک وقت کا سامان پہونچا دیا جائے یا ہمارے محلہ میں فلاں یتیم رہتا ہے اس کی پڑھائی کا خرچ برداشت کرلیا جائے؟
ہم ایسے لوگوں سے کہیں گے کہ آپ پہلے اسلامی روایات و حدیثوں کا مطالعہ کیجئے جس سے پتہ لگے گا کہ روزہ کا فلسفہ کیا ہے؟آئیے معلومات میں اضافہ کے لئے ہم روزہ رکھنے کی کچھ حکمتیں بیان کرتے ہیں:
۱۔تقوا:
روزہ کا سب سے اہم مقصد اور سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ انسان روزے کے ذریعہ مقام قرب پروردگار اور تقوے سے قریب ہوجاتا ہے جیسا کہ خود مذکورہ بالا آیہ شریفہ میں ارشاد ہوا:’’ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ‘‘۔تاکہ تم با تقوا بن جاؤ۔
۲۔ دنیا کی سختی کو مشاہدہ کرکے عذاب آخرت سے ڈرنا:
امام رضا علیہ السلام نے روزہ رکھنے کی حکمت کے متعلق ارشاد فرمایا:لوگوں کو اس وجہ سے روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ لوگ بھوک و پیاس کے رنج کو محسوس کریں اور اس کے سبب آخرت کے فقر و غربت کو درک کرسکیں۔(وسائل الشیعه، ج 4 ص 4 ح 5 علل الشرایع، ص 10)
۳۔خلوص کا امتحان:
امام علی علیہ السلام نے روزہ رکھنے کی ایک حکمت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اس وجہ سے اپنے بندوں پر روزہ فرض کیا ہے تاکہ ان کے خلوص کا امتحان لے سکے۔(نهج البلاغه، حكمت 252 )
۴۔جہنم کی آگ سے پردہ:
امام سجاد علیہ السلام نے روزہ کی حکمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: جان لو کہ روزہ رکھنے کا حق یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے تمہاری زبان، کان، آنکھ،شکم اور دیگر اعضاء کے لئے اسے جہنم کی آگ کے درمیان پردے کے طور پر حائل(لٹکایا) کیا ہے۔ (تحف العقول ص 258)
قارئین! روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے سبب انسان بندگی کا سلیقہ سیکھتا ہے اور اللہ کی بندگی اس دولت کا نام ہے جس پر ہزار بادشاہتیں بھی قربان کردی جائیں تو کم ہے چونکہ اصل بندگی اور عبادت کا حق اس وقت ادا ہوتا ہے جب انسان اس بات پر یقین رکھتا ہو کہ مجھے ایسی ذات دیکھ رہی ہے جس کے لئے غیبت اور آنکھوں سے اوجھل ہوجانا کوئی معنٰی نہیں رکھتا اور یہ وہ جذبہ ہے جو روزہ رکھنے سے پروان چڑھتا ہے پس روزہ رکھنا یعنی خلوص کی مشق کرنا ہے اور جب انسان اس مرتبہ پر پہونچ جائے تو سمجھئے اسے وہ مقصد مل گیا جسے آیت میں بیان کیا گیا تھا:’’ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ‘‘۔





0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम