Code : 3718 3 Hit

بن سلمان نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا جینا حرام کر رکھا ہے:عربی اخبار

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سےسعودی عرب میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی صورتحال کافی خراب ہوچکی ہے۔

ولایت پورٹل:عربی 21 نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے نوجوانوں کو آزادی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ آزادی اظہار رائے کے وعدے نہ صرف ناکام ہوئے ہیں بلکہ ان کے برخلاف دیکھنے کو ملا ہے جیسا کہ سعودی عرب میں بن سلمان کی حکومت کے دوران حراست میں آنے والوں کی تعدادمیں بھی  غیر معمولی اضافہ ہواہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں حراست میں لئے جانے والے افراد  میں دینی مبلغ ، سیاسی  مخالفین ، قانونی کارکن اور خواتین کی تحریک کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
سعودی حکام فلسطینی مزاحمت خاص طور پر حماس تحریک کی حمایت کرنے کے بہانے اردن اور فلسطینی شہریوں کو حراست میں لے رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جب سے بن سلمان سعودی عرب میں برسر اقتدار آئے ہیں ، سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال خراب ہوئی ہے اور اس سے یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ بن سلمان کے اقتدار میں آتے ہی سعودی عرب میں سکیورٹی کے اقدامات کو کیوں تیز کردیا گیا ہے۔
ایک سعودی قانونی کارکن عبدالعزیز المؤید نے کہا کہ سعودی عرب کے اندررونما ہونے والے واقعات کی بین الاقوامی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ اس وقت جس طرح حکومت مخالفین کو کچلا جارہا ہے اتنا اس ملک کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ سکیورٹی دباؤ مطلق العنان سلطنت کی ایک بیماری ہے کیونکہ اس میں ملک کے حکمران پر کوئی نگرانی نہیں ہوتی۔
انھوں نے مزیدکہا کہ بن سلمان سعودی عرب میں ایسے وقت میں اقتدار میں آئے جب حکومتی اعتبار سے وہ  اس کے مستحق نہیں تھے بلکہ اور احمد بن عبد العزیز جیسے دوسرے لوگوں کو اقتدار میں آنا چاہیے تھا، بن سلمان کے پاس کوئی خاص مہارت یا ہنر نہیں ہے۔
 



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین