کابل میں نماز جمعہ کے دوران دھماکہ؛امام جمعہ سمیت 12 افراد جاں بحق

افغانستان کے دار الحکومت کابل کی پولیس نے بتایا کہ شکردرہ شہر میں ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے میں امام جمعہ  سمیت 12 افراد جاں بحق اور 15 سے زائد دیگر زخمی ہوگئے۔

ولایت پورٹل:افغانستان کی فارس نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اس ملک کے دار الحکومت کابل کی پولیس نے بتایا کہ شکردرہ شہر میں ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے کے نتیجہ میں مسجد کے امام سمیت 12 افراد جاں بحق جبکہ 15 سے زائد دیگر زخمی ہوگئے، کابل پولیس کے مطابق ، یہ دھماکا آج جمعہ کے روز ظہر کے وقت شکردرہ شہر کے قلعہ مرادبک میں واقع حاجی بخش مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہوا۔
 کابل پولیس کے ترجمان فردوس فرامرز نے کہاکہ دھماکے میں مسجد کے امام جمعہ مفتی نعمان 11 نمازیوں کے ساتھ شہید ہوگئے تھے اور 15 سے زیادہ دیگر نمازی زخمی ہوئے ،تاہم ابھی تک کسی بھی فرد یا گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہےجبکہ طالبان نے حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
واضح رہے کہ ایسے وقت میں ہوا ہے جبکہ طالبان نے عید الفطر کے موقع پر تین دن کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے ،تاہم افغانستان کے صدراشرف غنی نے سکیورٹی اور دفاعی دستوں کو بھی جنگ بندی کی رعایت  کرنے کا حکم دیا ہے،یادرہے کہ جب سے امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کا اعلان کیا ہے تب سے اس ملک میں دہشت گردانہ کاروائیوں نے تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس میں حال میں لڑکیوں کے اسکول پر حملہ بھی شامل ہے میں دسیوں بے گناہ بچیاں جاں بحق ہوگئیں،متعدد تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اس طرح کے حملے کروا کے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اگرمیں چلا گیا تو افغانستا ن میں امن برقرار نہیں رہ سکتا جبکہ افغان عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ ملک میں قیام امن میں امریکہ کا کوئی رول نہیں بلکہ وہ یہاں دہشتگردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

1
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین