Code : 3517 9 Hit

حزب اللہ کا ایک مجاہد ہمارے ہزاروں فوجیوں کا مقابلہ کرسکتا ہے:صیہونیوں کا اعتراف

اسرائیلی انٹیلیجنس اور عسکری ذرائع کا تخمینہ ہے کہ تل ابیب کو حزب اللہ کے ساتھ مستقبل میں ہونے والی لڑائی کا خدشہ ہے کیونکہ مزاحمت کی فوجی طاقت دفاعی سے جارحانہ تک بڑھ چکی ہے۔

ولایت پورٹل:صیہونی سرکاری ٹیلی ویژن نے سکیورٹی ، فوجی اور سیاسی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجی کمانڈ کے اندازوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے مابین خلیج فارس میں یا عراق میں کسی بھی تصادم کی صورت میں حزب اللہ کا اسرائیل کے خلاف ردعمل ظاہر ہوگا۔
ان ذرائع کے مطابق ، تل ابیب کے حفاظتی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے حالات میں  صہیونی حکومت کی طرف سے حزب اللہ کے خلاف کسی بھی روک تھام کا عمل غلطی ہوگی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج  لبنان اور فلسطین سرحد پر حزب اللہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سرحدی علاقوں خصوصا ان علاقوں میں جن میں حفاظتی دیوار نہیں ہے  میں اس تنظیم کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں، یہاں تک کہ مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں میں دراندازی کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔
صیہونی ٹیلی ویژن نے مزید کہا کہ لبنان سے مقبوضہ علاقوں میں اسمگلنگ کی کارروائیوں نے حال ہی میں شدت اختیار کرلی ہے  اور یہ کہ اسرائیلی فوج ہر چند روز بعد لبنان سے مقبوضہ فلسطین میں اسلحہ اسمگل کرنے کے خلاف کارروائیاں کررہی ہے۔
اسرائیلی فوج کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ آئندہ حزب اللہ کے ساتھ کسی بھی فوجی محاذ آرائی کا نتیجہ جنگ کے ابتدائی لمحات ہی میں اس تحریک کے تیز رفتار کامیابی حاصل کرنے کی صورت میں سامنے آئےگا۔
صہیونی فوجی تخمینے کے مطابق حزب اللہ اس جنگ میں ایسے جنگجوؤں کو استعمال کرے گی جن کا ہر فرد ہزاروں افراد کا مقابلہ کرسکے گا یعنی حزب اللہ کا ہر جنگجو ایک لشکر ہوگا اس لیے کہ اس نے شام کی جنگ میں حصہ لینے اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے بعد اپنی فوجی طاقت کو دگنا کرلیا ہے۔
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین